208

”پی ٹی آئی کا دوسرا لانگ مارچ“ … اکرم عامر سرگودھا

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

پی ٹی آئی 2018 میں وفاق، پنجاب، خیبر پختونخواہ، بلوچستان میں عددی برتری سے کامیاب ہوئی تو کپتان وزارت عظمیٰ کے منصب پر پہنچے تو پی ٹی آئی مخالف جماعتوں نے پی ڈی ایم کی صورت میں اتحاد بنا کر جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اس کا سربراہ بنایا گیا، اس اتحاد میں حریف جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حلیف بن گئیں، حالانکہ ماضی میں دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھی، پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک تو عمران خان کو اتارنے میں کامیاب نہ ہو سکی لیکن پی ٹی آئی میں بغاوت اور پی ٹی آئی کی اتحادی ایم کیو ایم کی طرف سے ساتھ چھوڑ جانے کی وجہ سے پی ڈی ایم کی جماعتیں وفاق میں عمران خان کو حکومت سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئیں.

پی ٹی آئی پنجاب حکومت سے بھی ایک بار ہاتھ دھو بیٹھی لیکن جدوجہد کے بعد پنجاب میں پی ٹی آئی اپنے اتحادی مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہو گئی، تا ہم اس سیاسی جدوجہد کے دوران مسلم لیگ (ق) دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، چوہدری شجاعت پی ڈی ایم کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے خونی رشتہ دار چوہدری پرویز الٰہی پنجاب میں بطور وزیر اعلیٰ اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے کپتان اقتدار سے اپوزیشن میں آئے تو کپتان نے اپنی حکومت کے خاتمہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا، اور کہا کہ امریکی مداخلت پر ان کی حکومت ختم کی گئی، موجودہ حکمران امریکہ کے خوش آمدی ہیں، کپتان نے بات یہیں پر ختم نہیں کی بلکہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خاتمے اور جلد الیکشن کی تاریخ کے اعلان کیلئے احتجاج شروع کر دیا، کپتان نے یکے بعد دیگرے ملک بھر میں حقیقی آزادی کے نام سے بھرپور جلسے کیے، یہ سلسلہ جاری تھا کہ ضمنی انتخاب آ گیا تو غیر متوقع طور پر عمران خان نے ملک میں 7 نشستوں پر الیکشن لڑا اور 6 پر کامیابی حاصل کی تو اس دوران توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن نے میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے نا اہل قرار دے دیا اور 6 نشستوں پر کامیابی کا رزلٹ بھی روک لیا، بعد ازاں کپتان 30 اکتوبر کو مالا کنڈ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں بھی پی ڈی ایم کو شکست دے کر جیت گئے، اس طرح عمران خان قومی اسمبلی کی 7 نشستیں جیتنے والے ملک کے پہلے سیاستدان بن گئے۔

کپتان کا جلد الیکشن کرانے کیلئے احتجاج اب حقیقی آزادی لانگ مارچ کا رخ اختیار کر گیا اور یہ لانگ مارچ 28 مارچ سے لاہور سے شروع ہو کر اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے، پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ لانگ مارچ 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ لانگ مارچ جس سپیڈ سے چل رہاہے، اس کے شرکاء10 نومبر تک اسلام آباد پہنچیں گے، عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت لانگ مارچ سے گاہے بگاہے خطاب بھی کر کے کھلاڑیوں کا جوش گرما رہی ہے اورمطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملک میں جلد سے جلد الیکشن کا اعلان کرایا جائے، پی ٹی آئی کی قیادت کہتی ہے کہ جب تک ملک میں جنرل الیکشن کا اعلان نہیں ہو گا، احتجاج جاری رہے گا.

لیکن بر سر اقتدار وزیر اعظم شہباز شریف اور وزراءجن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے داعی ہیں کہ جنرل الیکشن مقررہ وقت پر ہونگے، حکومت کسی دباﺅ میں نہیں آئے گی، کپتان کے کہنے پر نہ تو الیکشن کا شیڈول دیں گے نہ ہی کپتان کا دباﺅ قبول کریں گے، وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اگر کھلاڑیوں نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، جس کے جواب میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان جو کہ حقیقی آزادی مارچ کی قیادت کر رہے ہیں نے بھی رانا ثناءاللہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور کھری کھری سنائی ہیں، پی ڈی ایم کی حکومت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کیلئے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کیخلاف مقدمات کی بھرپور ہو گئی ہے تو دوسری طرف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پی ڈی ایم قائدین کیخلاف مقدمات کا سلسلہ جاری ہے، اس طرح حکومت اور اپوزیشن اب ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروانے کیلئے بازی لے جانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔

پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان حقیقی لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے منزل کی طرف رواں دواں ہیں اور آئندہ ہفتہ میں لانگ مارچ کے شرکاء جی ٹی روڈ سے اسلام آباد پہنچیں گے اسی لانگ مارچ کے حوالے سے عمران خان نے ملک کے مختلف شہروں سے قافلوں کو 4 نومبر سے اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہونے کا عندیہ دے رکھا ہے، جس کے لئے پنجاب، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سمیت ملک بھر سے کھلاڑی تیاریاں کر رہے ہیں، پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ حقیقی لانگ مارچ اپنی منزل پر پہنچ کر دم لے گا اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس حقیقی آزادی مارچ میں شرکت کیلئے پہنچیں گے، وفاق میں برسراقتدار پی ڈی ایم کی حکومت ان دعوﺅں کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ لانگ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دے لی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کپتان لانگ مارچ کے نتیجہ میں جنرل الیکشن کا اعلان کروانے میں کامیاب ہوتے ہیں؟یا حکومت کپتان کو ناک آﺅٹ کرتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں