117

”موروثی سیاستدانوں نے ملک تباہی کے دہانے پہنچا دیا “ … (اکرم عامر سرگودھا)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

ملک کو آزاد ہوئے 75 سال گزر چکے ہیں اور ہم ایک آزاد قوم ہونے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں، مگر ہمارے ملک میں اب بھی بیرونی عناصر کا بڑا عمل ہے، یہاں بیرونی طاقتیں حکومتیں بناتی اور بدلتی ہیں، ملک میں یہ کھیل تقریبا 50 سال سے کھیلا جا رہا ہے، اس عرصہ کے دوران ملک میں چند خاندانوں کا راج رہا، جس خاندان کو بیرونی قوت کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے وہ ملک پر اقتدار میں آ جاتا ہے ،جس سے امریکہ بہادر ناراض ہو جاتا وہ اپوزیشن میں چلا جاتا ہے، 1970ءسے اب تک یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس دوران کچھ دیگر سیاستدان بھی ان خاندانوں کی سپورٹ سے ملک کے اہم عہدوں تک پہنچے، مگر پھر بھی حکومت پر اصل راج ان خاندانوں کا ہی رہا جن میں سرفہرست ذوالفقار علی بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کا خاندان شامل ہے جو گاہے بگاہے 50 سال سے اقتدار میں رہا ہے، ہر اقتدار میں آنے والا حکمران نظام کی تبدیلی کا دعویٰ کرتا رہا، مگر کوئی بھی سیاستدان یا حکمران نظام کی تبدیلی میں کامیاب نہ ہو سکا، حکومت پر انہی خاندانوں سے چہرے بدل بدل کر شخصیات اقتدار میں آتی رہیں، جو اکا دکا شخصیات وفاق یا صوبہ میں اقتدار تک پہنچیں وہ بھی ان خاندانوں کی مرہون منت ہی رہیں اور ان کے حکم کی غلام ٹھہریں، اس طرح ملک پر طویل عرصہ تک موروثی سیاست کا راج جاری و ساری ہے۔

مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتیں ملک پر اقتدار میں باریاں لے رہی تھیں کہ 26 سال کی جدوجہد کے بعد پی ٹی آئی ابھر کر سامنے آئی اور طویل عرصہ سے چہرے نہیں نظام بدلنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان 2018 میں وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر پہنچے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے کپتان کو ہٹانے کی جدوجہد شروع کر دی، ساڑھے تین سال تک پی ڈی ایم کے اتحاد کی صورت میں یہ جماعتیں کپتان کو ہٹانے کیلئے جدوجہد میں لگی رہیں اور بالآخر 2022 میں وقت سے قبل عدم اعتماد کر کے وفاق میں عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں کامیاب ہو گئیں اور پھر ملک پر موروثی سیاستدان اقتدار میں آ گئے، میاں شہباز شریف وزیر اعظم، حمزہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ، بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ بن گئے، جبکہ سندھ میں پہلے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو گیا، مگر حکمرانوں نے نہ تو اس طرف کوئی توجہ دی اور نہ ہی ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے کوئی کوشش کی، اگر ایسا کرتے تو خاندانوں کی موروثی سیاست ختم ہو جائے گی۔

حالانکہ ہر شخص اور ہر ذمہ دار شہری کہتا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ حکومت فیل ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود کوئی اس نظام کو بدلنے کی کوشش نہیںکر رہا، جب کوئی شخص یا جماعت اپوزیشن میںہوتی ہے اور اس کے ہاتھ میںکوئی اختیار نہیں ہوتا تو وہ سارا غصہ اس نظام پر نکالتا ہے مگر جیسے ہی اپوزیشن سے اقتدارکے بنچوںپر منتقل ہوتی ہے تو اسے اسی نظام میںکوئی خامی نظر نہیں آتی بلکہ وہ اسی نظام کا محافظ بن کر سامنے آ جاتے ہیں کیونکہ یہ نظام لوٹ مار کی ایسی سہولت میسر کرتا ہے کہ صاحب اختیار اس کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظام عوام کا خون چوسنے کے لئے قائم کیا گیا۔ انگریز سرکار نے برصغیر پر اپنا قبضہ مستحکم رکھنے اور برصغیر کے کروڑوں انسانوں کو ذہنی، جسمانی غلام بنانے کے لئے سرمایہ دارانہ جمہوریت کا یہ نظام عوام پر رائج کیا تھا جو آج تک کام کر رہا ہے، اسلامی جمہوریہ بننے کے باوجود ملک میں پولیس کا نظام انگریز کا بنایا ہوا نافذ ہے، جس میں پولیس کو لا محدود اختیارات حاصل ہیں، چونکہ انگریز پولیس کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی مرضی کے مطابق رہنے پر مجبور کرتے تھے جو کوئی انگریز وائسرائے کے آگے سر اٹھاتا اسے کچل دیا جاتا تھا.

انگریز کو گئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن انگریز کا قانون اور اس کی باقیات اب بھی ملک میں موجود ہیں، جرمنی کے مطلق العنان حکمران اوڈولف ہٹلر نے اس نظام کی وضاحت ایک مشہور زمانہ مثال میں دی۔ ہٹلر نے ایک مرغ پکڑا اور اس کے پنکھ نکال کر ا±سے ادھ موا کر دیا پھر ا±س کے آگے دانا پھینکا تو وہ مرغا لنگڑاتے ہوئے ا±س دانے کے پیچھے بھاگتارہا جہاں جہاں ہاتھ اور دانے کی جنبش تھی مرغ اس طرف لپکتا رہا۔ ہٹلر نے کہا کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا اصل چہرہ ہے۔ اس نظام نے عام آدمی کے ہاتھ، پاﺅں شل اور سوچنے کی صلاحیت چھین لی ہے اور اس نظام کے تحت صرف انسان کا مسئلہ روٹی، کپڑا اور مکان رہ گیا ہے، ہٹلر کی یہ مثال آج اپنی تمام سچائیوں کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ ہمارے حکمران اقتدار حاصل کرتے ہی عام آدمی کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا وعدہ کرتے ہیں، اسی وعدے پر کئی دہائیوں سے کئی نسلیں قربان ہو چکی ہیں، اس فرسودہ نظام نے نوجوانوں سے شعور اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو چھین لیا ہے، عوام کو روٹی، کپڑا، مکان کی سوچ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔

سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہو رہی تھی ملک میں موروثی سیاست کی تو پانچ دہائیوں سے چند خاندان ملکی سیاست پر راج کر رہے ہیں ہر اقتدار میں آنے والا عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کا جھانسہ دیتا ہے مگر کوئی بھی حکمران اس میں کامیاب نہ ہو سکا، موروثی سیاستدانوں کو رد کر کے پہلی بار عوام نے 2018 میں عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ موروثی سیاستدانوں نے عمران خان کو اقتدار کے دن پورے کرنے سے پہلے ہی چلتا کیا، اور پھر اقتدار پر قابض ہو گئے ، ایک خاندان کا باپ وزیر اعظم اور بیٹا وزیر اعلیٰ بن گیا ہے، دوسرے خاندان نے وزارت خارجہ اپنے گھر میں رکھ لی، دیگر اہم وزارتیں اپنے خاص لوگوں کو دلوا دیں، ملکی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کی قیمتوں میں پہلی بار اتنا اضافہ ہوا ہے کہ ضروریات زندگی کی اشیاءکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عوام چکرا کر رہ گئے ہیں، مگر موروثی سیاستدان اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، حالانکہ حقائق دیکھے جائیں تو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں