132

تنقید سے سیکھیں اور شازشیں کرنے والوں پر نظر رکھیں … (پیر فیضان علی چشتی)

تحریر: پیر فیضان علی چشتی

شروع سے سنتے آ رہے ہیں کہ بڑے کہتے ہیں کہ جو اپنی منزل (Destination) تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نا کرے اپنے کام پر توجہ (Attention) مرکوز رکھے اور آگے بڑھتا رہے جب انسان آس پاس کی باتوں پر دھیان اور انہیں وقت دینا شروع کر دیتا ہے تو اسکی اپنے مقصود و منزل تک بڑھنے کی رفتار (speed) کم ہو جاتی ہے اور اس طرح ایک دن آتا ہے کہ وہ آس پاس کی باتوں میں ہی بھٹک (Stray) جاتا ہے۔

شیخ کامل، مصلح ملت، نباض قوم حکیم الامت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں بار ہا یہ بات کی گئی کے سوشل میڈیا (social media) پر بہت سارے لوگ آپ پر اور دعوت اسلامی پر تنقید کرتے اور باتیں کرتے ہیں کیا ہم انکا جواب دیں یا نہیں؟ تو آپ فرماتے آپ بس کام کریں یہ ہی انکا جواب ہے۔
یہ ایک بہترین سوچ(Great thinking) اور تربیت ہے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے مگر کچھ لوگ اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیتے کے جو آپکے خلاف سازش (Conspiracy) کر رہا یا کرتا ہے اسے بھی نظر انداز (Neglected) کر دیں۔ آپ غلط سوچ رہے، رکیں، تفکر کریں، سوچیں سمجھیں کہ باتوں کو نظر انداز (Neglected) کریں تنقید سے سیکھیں۔ شازشیں کرنے والوں اور حالات پر گہری نظر (Take a closer look) رکھیں۔

اکملؔ آج کا انساں کتنا بے تحمل ہے
دل میں کچھ خلش ابھری اور داغ دی سازش

اس سے آپکی ذات شخصیت اور آپکے فکری سفر میں کوئی بھی سازش اثر انداز (Effective) نا ہو گی اگر آپ ان کو بھی نظر انداز کریں گے تو یہ چیز آپکی شخصیت پر بری طرح اثر کرے گی اور اپنے کام کا توازن (Balance) برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔

ہوائیں سازش پہ آن اتریں
تو خشک پتوں سا حال ہوگا

اور بات جب عوام الناس تک آتی ہے تو ہماری قوم بہت سارے ہیرے اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ضائع (waste) کر دیتی ہے ایک تو ویسے ہی ہمارے قوم میں فکری نابالغی بہت زیادہ اور پھر انکے ہاتھ میں سوشل میڈیا (social media) بندر کو ماچس دینے کے مترادف ہے حق سچ کو پرکھنے کا معیار، فکری اور ذاتی اختلاف میں فرق، اختلاف اور مخالفت میں فرق، عزت احترام حوصلہ اور مد مقابل کی رائے کا احترام اور پھر دانشمندانہ جواب (The wise answer) فقدان ہے۔ اس لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے رہبر و رہنما (Leader and guide) معمار قوم سے گزارش ہے کہ آپ اور آپکے مقصد و ہدف کے سازشین پر گہری نگاہ رکھیں اور پھر اس کے مطابق رد عمل بھی تیار رکھیں تاکہ آپ اپنے دائرہ کار (Scope) میں معاشرے اور مخلوق خدا کے لیے بہترین خدمات سر انجام دے سکیں۔ آخر میں نبی پاک ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ ذہن نشین کر لیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا“۔ (متفق علیہ)

نبی کریم ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن ایک جگہ سے دو دفعہ گزند نہیں اٹھاتا۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ محتاط،(Be careful) چوکنا اور بیدار مغز رہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ انجانے وہ سازش کا شکار ہو اور وہ دھوکہ کھا جائے۔

وقت کی سازش ہمیں کرتی رہی اپنا شکار
اور ہم حسرت سے سوئے آسماں دیکھا کئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں