91

جواری … افسانہ … ناظم زرؔسنّر



تحریر: ناظم زرؔسنّر

میں اپنے والدین سے چھپ کر اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھا رہتا تھا۔ میرے دوست جو مجھے بہت عزیز تھے مگر میرے والدین کو بہت برے لگتے تھے۔ میرے اہلِ خانہ پچیس سال پہلے جب منڈی بہاؤالدین سے ہجرت کر کے گجرات آئے تھے، تب میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ یہ سب لڑکے تب سے میرے ہم جماعت تھے۔ منڈی بہاؤالدین میں ہمارا گھر بستی سے کافی باہر تھا، اِس لیے میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ یہاں پر ہم نے محلے کے بیچ میں گھر خریدا تھا اور تقریباً ہر گھر میں میرے دو ہم عمر موجود تھے۔

جب ہم نئے نئے آئے تھے تو میں بالکنی میں بیٹھا ہوا لڑکوں کو گلی میں کرکٹ کھیلتا اور دوڑ لگاتا ہوا دیکھتا، کیوں کہ اُنھیں جانتا نہیں تھا، اِس لیے اُن کے ساتھ کھیلنے سے ہچکچاتا تھا۔ قریباً ایک مہینہ ایسے ہی گزرا۔ اُس کے بعد پڑوسیوں سے واقفیت ہوئی، پڑوس کے لڑکوں سے دوستی ہوئی جو سارے محلے میں پھیل گئی۔ پہلے پہل میں اُن لڑکوں کے ساتھ صرف گلیوں میں کھیلتا تھا، اُس کے بعد دوسرے محلوں میں جا کر کھیل کے مقابلوں میں حصہ لینے لگے۔ میرا اکثر وقت اُنھیں کے ساتھ گزرنے لگا۔

ایک بار ہم نے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ جیتا جس کا اول انعام ڈیڑھ لاکھ روپے تھا۔ میرے حصے میں دس ہزار روپے آئے۔ ہم دوستوں نے جشن منانے کا انتظام کیا۔ ہم لوگ کھانے کے لیے جس ہوٹل میں گئے وہاں پر مختلف لوگ تاش کھیل رہے تھے اور ایک دوسرے کو پیسہ دے رہے تھے۔ جوا کا نام تو میں نے بڑی دیر پہلے سے سن رکھا تھا مگر اِس کی عملی شکل کو پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ میرے ایک دوست نے پانچ ہزار لگائے، کھیل ختم ہوتے ہی تیس ہزار کا مالک بن گیا، دوسرے نے چھ ہزار لگائے جو مارے گئے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے تین ہزار لگائے جو لمحوں میں بیس ہزار روپے کی شکل میں مجھے موصول ہوئے۔ پیسہ کمانا کتنا آسان کام تھا، مجھے اُس دن پتہ چلا۔ میں نے اپنے والد کو بےوقوف سمجھا جو سارا دن کتابیں بیچ کر شام کو ڈیڑھ دو ہزار روپے بھی مشکل سے کما پاتے ہیں۔ گھر جا کر میں نے والدہ کو یہی بتایا کہ یہ پیسے مجھے انعام میں ملے ہیں۔

قریباً ایک مہینے کے بعد والد صاحب نے اُسی محلے سے کچھ نئی کتابیں خرید کر لانے کے لیے مجھے پانچ ہزار روپے دیے۔ میں نے سوچا کیوں نہ پانچ ہزار کا تیس ہزار وصول کیا جائے، پانچ ہزار کی کتابیں خریدوں گا، پچیس ہزار سے عیش کروں گا۔ میں جواخانہ میں داخل ہوا، پانچ ہزار کی شرط لگائی اور ہار گیا۔ فکر پیسہ ہارنے کی نہیں تھی، والد صاحب کے سامنے جوابدہ ہونے کی تھی۔ فوراً اپنے اک دوست کے پاس پانچ ہزار روپے ادھار لینے کے لیے پہنچا۔ دوست کو میں نے اپنا مسئلہ بتایا تو اُس نے کہا بے فکر ہو جاؤ، میں تمھیں ایک ترکیب بتاتا ہوں اور اُس نے میری جیب کو کاٹ دیا۔ اُس کے کہنے کے مطابق میں افسردہ سا منھ بنا کر والد صاحب کے پاس پہنچا اور اُن سے کہا راستے میں ایک بزرگ نے مجھے روک کر کہا کہ بیٹا مجھے بھی فلاں موڑ تک لے چلو۔ میں نے اُنھیں موٹرسائیکل پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ اُس بدمعاش بڈھے نے میری جیب کاٹ لی۔ مجھے اِس کا پتہ تب چلا جب میں نے کتابوں کی دکان پر جا کر اپنی جیب ٹٹولی۔ والد صاحب افسردہ ہوئے لیکن ڈانٹا نہیں، صرف اتنا کہا کہ آئندہ کسی بھی اجنبی کو اپنے ساتھ مت بٹھانا۔

پانچ ہزار ہاتھ سے جانے کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ میں نے جواخانہ والوں سے بدلہ لینے کی ٹھان لی۔ ایک دن آنکھ بچا کر والد صاحب کے گلَے سے ایک ہزار روپے چرا لیے اور فوراً جواخانہ پہنچا۔ ایک ہزار کی شرط جیتنے پر مجھے سات ہزار روپے موصول ہوئے، پھر پانچ ہزار روپے کی شرط لگائی جس سے پندرہ ہزار روپے موصول ہوئے، پھر پانچ ہزار روپے کی شرط لگائی جو میں ہار گیا اور گھر واپس آ گیا۔ والد صاحب میرے چھوٹے بھائی کی سرزنش کر رہے تھے کہ اُس نے چرائے ہوں گے۔ اِسی اثناء میں ایک ہزار روپے دوبارہ گلے میں ڈال دیے۔ والد صاحب شام کے وقت ننھے کو گود میں بٹھا کر کھانا کھلا رہے تھے کیوں کہ روپے گلَے میں پا کر اُنھیں ننھے پر بےجا سختی کرنے پر افسوس ہو رہا تھا۔

ایسا کئی بار ہوا۔ جب بھی ہم میچ جیتتے، دس بیس ہزار جوا میں ہرانا عام سی بات ہو گئی تھی۔ میں جیتتا رہا اور ہارتا رہا، میرے گھر والوں کو کچھ خبر نہ تھی۔ وقت جب مخالف سمت میں چلا تو میں نے اپنی موٹرسائیکل اور ٹرافیاں بیچ کر وہ قرض اتارنے کی کوشش کی جو میں نے جوا کھیلنے کے لیے مختلف لوگوں سے لیا تھا۔ قرض اتنا زیادہ تھا کہ میں کسی بھی صورت میں خود نہیں اتار سکتا تھا۔ میرے دوستوں نے میری مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ میں نے اُس دن اپنی زندگی کی سب سے کمینی حرکت کی۔ اپنے والد صاحب کو کالج کے کچھ کاغذات پر دستخط کرنے کا کہہ کر دکان کی ملکیت جواخانہ کے مالک کے نام کروا دی اور خود ننکانہ صاحب کی طرف رفو چکر ہو گیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ اُس کے بعد میرے گھر والوں نے کیسے گزر بسر کی۔ میں ہمیشہ یہی دعا کرتا رہتا تھا کہ “یا اللّٰہﷻ! میں اپنے والد کا سامنا نہیں کر سکتا۔ مجھے اُن سے ہمیشہ دور رکھنا۔”

قریباً چھ ماہ بعد میں نے سوچا کہ والد صاحب کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا ہو گا، مجھے اُن سے معافی مانگ لینی چاہیے اور اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ یہی سوچ کر میں ننکانہ صاحب میں اپنے اپارٹمنٹ سے نکلا۔ سڑک پر بھیڑ دکھائی دی۔ جب میں قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ بس حادثے میں کسی کی موت ہو گئی ہے۔ میں بمشکل بھیڑ کو چیرتا ہوا میت تک پہنچا۔ میت کو دیکھ کر میرے ہاتھ پاؤں سن ہو گئے۔ یہ میرے والد کی میت تھی جس کے قریب میرا چھوٹا بھائی بیٹھا بےکسی کے عالم میں ہر طرف دیکھ کر رو رہا تھا کہ وہ اب اپنے والد کی میت کا کیا کرے؟

میں اور میرا بھائی ایمبولینس میں اُن کی میت کو لے کر گھر پہنچے۔ گھر میں کہرام مچ گیا۔ میں والدہ صاحبہ کا سامنا نہیں کر سکتا تھا اِس لیے گھر نہیں گیا۔ تکفین و تدفین کے بعد میں ہمت کر کے ایک بار والدہ کے پاس گیا۔ اُن کی پہلی نظر کا غصہ جہنم کی آگ کی طرح تھا لیکن وہ اُسے پی گئیں اور مجھ گھر آنے سے روک دیا۔ آج بیس سال بعد بھی میری ماں ننھے کے خاندان کے ساتھ وہیں رہتی ہے اور میں ایک بار بھی اُن کی دہلیز پر قدم نہیں رکھ سکا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اللّٰہﷻ تعالیٰ مجھے میرے والد سے دور رکھنے کے لیے میری دعا کو ایسے قبول کرنے والا ہے، تو میں یہ بددعا کبھی نہ کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں