264

”عہد و وفا کے پیکر پیر بنیامین رضوی“ … (اکرم عامر . سرگودھا)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

منڈی بہاوالدین کے علاقے پھالیہ کے پیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے پیر بنیامین رضوی کا نام مسلم لیگ کے قائدین میں ہر دور میں نمایاں رہا ہے، وہ متحرک مذہبی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ زیرک اور عوامی قوت رکھنے والے سیاستدان بھی تھے، آپ کا سادات گھرانے سے تعلق تھا، مسلم لیگ کے سابقہ ادوار میں ایم پی اے بننے کے ساتھ صوبائی وزیر بیت المال و اینٹی کرپشن رہے، ان کے والد پیر سید یعقوب شاہ رضوی مشیر وزیر اعلی پنجاب کے عہدہ پر فائز رہے، آپ کے بھائی پیر طارق یعقوب رضوی بھی پھالیہ سے ایم پی اے رہ چکے ہیں، پیر بنیامین ایسی سحر انگیز شخصیت تھے جو 18 سال بعد بھی عوام کے دلوں میں دھڑک رہے ہیں، راقم سے پیر بنیامین کا ذاتی تعلق تھا اور پیر بنیامین جب بھی سرکاری یا غیر سرکاری دورے پر سرگودھا تشریف لاتے تو راقم کو شرف ملاقات بخشتے، دنیاوی و دینی و سیاسی ہر پہلو پر گفتگو کرتے، ان کی ہر بات دل میں اترنے والی ہوتی، وہ جو کہتے تھے وہ کر کے دکھاتے تھے، ان کا لب و لہجہ اور انداز سیاست دیگر سیاستدانوں سے مختلف تھا، وہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا سیاست سمجھتے تھے، انہیں دولت کی کوئی حرص نہیں تھی، ایک طویل عرصہ تک وہ مسلم لیگ (ن) کی نمایاں شخصیات میں شامل رہے لیکن ان پر ایک پائی کی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا اور نہ ہی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ پیر بنیامین نے کسی مقام پر انتقامی سیاست کی ہو، تھانہ کچہری کی سیاست کی بجائے معاملہ فہمی کی سیاست پیر بنیامین کا طرہ امتیاز تھا، یہی وجہ تھی کہ علاقہ کے غریب و امیر عوام کی اکثریت پیر بنیامین سے محبت اور ان پر اعتماد کرتی تھی، یہی نہیں پیر بنیامین کا پنجاب کی سیاست میں طوطی بولتا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے روح رواں ہونے کے ناطے لیگی قیادت نے ہمیشہ پیر بنیامین کو اہم عہدوں پر فائز رکھا، جس انداز میں آپ نے بہترین ایڈمنسٹریٹر کا کردار ادا کیا، آپ کے قریبی حلقے آج بھی انکی جرات و بہادری کے قصے بیان کرتے ہیں، مرحوم کی اچانک موت کے بعد بہت سی افواہوں اور قیاس آرائیوں نے جنم لیا؟ مگر انکے حقیقی بھائی سابق ایم پی اے پیر طارق یعقوب رضوی نے بھائی کے وچھوڑے پر حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے تھوڑی سی جھلک اپنے بھائی کے بیگناہ خون ناحق اور دکھوں کے ناقابل برداشت درد کو ضبط مسلسل سے اضطراری کیفیت میں دبے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور کہا ہے کہ ہنستے بستے خاندان کو غمگین کر دینے والے ظالم درندے شاید اس بات سے آشنا نہ تھے کہ بھائی کو بھائی سے جدا کر دینے کا غم وہی جانتا ہے جس پہ گذرتی ہے؟ سادات گھرانے کا ورثہ صدیوں سے انکی شہادت و پہچان رہا ہے، انکے بھائی پیر طارق یعقوب رضوی نے ایک تحریر سوشل میڈیا پر وائرل کی ہے، جسے پڑھنے والے کا دل سہم جاتا ہے اور آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ

چھبیس جون 2004ءبوقت 12 بجکر 35 منٹ دوپہر مجھے اپنے بھائی پیر بنیامین رضوی کے ذاتی موبائل سے میرے موبائل فون پہ کسی نامعلوم شخص کی کال موصول ہوئی اور پوچھا کہ یہ کس شخص کا فون ہے؟ میں اپنے دفتر میں موجود تھا ، جواباً میں نے کہا کہ یہ میرے بھائی کا فون ہے تو ا±س شخص نے کہا آخری کال آپ کی تھی تو میں نے آپ کو ملا دیا ، یہ شخص اپنے گن مین اور ڈرائیور کے ہمراہ پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر چار پہ قتل کر دیا گیا ہے

طارق یعقوب رضوی مزید کہتے ہیں کہ یہ خبر میرے لیے قیامت سے کم نہ تھی ، سیکرٹریٹ سے پنجاب یونیورسٹی تک کا سفر اپنے ایک دوست کے ہمرا طے کیا اور سارے راستے یہی بین کرتا رہا کہ ہماری تو کسی سے دشمنی نہیں پھر یہ ظلم کس نے کمایا؟ پھر سوچتا تھا کہ میری والدہ جو گردوں کے عارضہ میں انگلینڈ میں زیر علاج /ڈائیلیسیز پر ہیں ا±ن کو کیا اور کیسے بتاو¿ں گا ؟ خیر جائے وقوعہ پہ پہنچنے پر پتہ چلا کہ مقتولین کی لاشوں کو میو ہسپتال کے پوسٹمارٹم روم میں منتقل کر دیا گیا، بھائی کی نسان سنی کار کی کوئی سائیڈ بھی ایسی نہ تھی جہاں سے وہ چھلنی نہ کی گئی ہو۔

جیسے تیسے کر کے میو ہسپتال پہنچا تو اپنے بھائی اور دیگر مقتولین کی لاشوں کو دیکھا تھوڑی دیر میں مسلم لیگی عمائدین کی ہسپتال آمد شروع ہو گئی اور میں نے گزشتہ دنوں میں بھائی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے تناظر میں ایف آئی آر کا متن لکھو انا شروع کیا، جس کو مسلم لیگی عمائدین بھی لکھوانے سے لیت و لعل سے کام لینے لگے اور ساتھ ساتھ کسی اعلی حکمران شخصیت کو بھی مطلع کرتے رہے کہ “سمجھا رہے ہیں ، سر سمجھا رہے ہیں“ شام چھ بجے تک کی اعصاب شکن جنگ کے بعد بالآخر میری مجوزہ درخواست میں بے پناہ تبدیلی کے بعد ایس ایچ او گارڈن ٹاو¿ن لاہور کے حوالے کی گئی جو کہ درج نہ ہوسکی اور ایس ایچ او نے اپنے تئیں ایک ایف آئی آر درج کر کے اپنے ہی گواہ ڈال کر قصہ تمام کر دیا ۔
نوٹ: (جن مسلم لیگی عمائدین نے ایف آئی آر کا مجوزہ متن تبدیل کیا جو کہ درج بھی نہ ہوئی اور جو کسی اعلی شخصیت کے ساتھ رابطے میں تھے وہ مسلسل وزیر چلے آ رہے ہیں )۔

میو ہسپتال میں ایک مسلم لیگی ایم پی اے نے دیگر مسلم لیگی عمائدین کو باقاعدہ گالیاں بھی دیں کہ بنیامین کی نعش کے ساتھ ظلم نہ کرو اور درست ایف آئی آر لکھواو اور وہ مخصوص مسلم لیگی ایم پی اے میرے گلے لگ کے کئی منٹ تک پھوٹ پھوٹ کے روتا رہا ادھر میری والدہ ، ہمشیرہ اور بھانجے کو مانچسٹر سے اسلام آباد کی فلائٹ ملی ، میری والدہ مسلسل فلائٹ میں کراہ رہی تھیں تو فسٹ آفیسر ا±ٹھ کے ا±ن کے پاس آیا اور پوچھنے لگا ، ماں جی آپ کیوں رو رہی ہیں تو میری ماں نے جواب دیا کہ میرا بیٹا قتل ہو گیا، کپتان نے کہا اللہ اس ملک پہ رحم کرے ہمارا بھی ایک دوست آج لاہور میں قتل ہو گیا ہے ، میرے بھانجے نے استفسار کیا کہ آپ کے دوست کا کیا نام ہے؟ جو قتل ہوا تو اس نے بے اختیار کہا کہ “ پیر بنیامین رضوی” جب اسکو پتہ چلا کہ یہ پیر بنیامین کی ہی والدہ ہیں تو فرط جذبات سے میری والدہ کے قدموں میں بیٹھ کر افسوس کرتا اور روتا رہا۔

اسلام آباد کا موسم خراب ہونے کے باعث جہاز لاہور آ کر لینڈ ہوا، لیکن ائیر لائن کے قانون کے مطابق مسافر حضرات کو لاہور اتار ا نہیں جا سکتا تھا ، اللہ کریم اس کپتان کو عزتوں سے نوازے ا±س نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے بمشکل میری والدہ اور ہمشیرہ کو لاہور اتارنے کی اجازت لی اور بھانجے کو اسلام آباد لے گیا تا کہ وہ ضروری ادویات، ڈائیلسسز بیگز اور سامان کو لا سکے لاہور ائرپورٹ سے کال موصول ہونے پر میں اپنی بیمار والدہ کو لینے ائرپورٹ گیا اور اپنی ماں کی حالت دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ، میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا؟ گو کہ میری ماں کے سوال بہت تھے اور تادم مرگ میری ماں وہ سوال پوچھتی رہی اور ماں بیٹے کی محبت کا یہ عالم تھا کہ میری ماں بھی چند سال کے بعد چھبیس جون کوہی دار فانی سے رخصت ہو گئیں، عمائدین مسلم لیگ نے کہا کہ چونکہ میو ہسپتال کے پوسٹ مارٹم روم کا اے سی ٹھیک نہیں اس لئے میت کو عادل ہسپتال ڈیفنس شفٹ کروانا ہے ، میں بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچا تو وہاں ایک ایس پی جس کا تعلق گجرات سے تھا کہہ رہا تھا کہ میت کو پھالیہ لے جاو¿ میں کل مال روڈ پہ جنازہ نہیں پڑھنے دوں گا، سب مسلم لیگی گ±م س±م تھے تو بالآخر میرے اور ایس پی کے درمیان شدید تلخی ہوئی، فیصلہ ہوا کہ میت ادھر ہی رہے گی، ستائیس جون کا سورج نکلنے کو تیار تھا کہ پھالیہ سے کال آئی کہ میت تو بغیر ورثاءکے پھالیہ پہنچ چکی ہے میرے خاندان کے تمام افراد پہ ایک اور قیامت گزر گئی ، اور سورج نکلتے ہی ہمارے گھر واقع لاہور کے باہر سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا۔

ہم تمام اہل خانہ ایک لٹا پٹا قافلہ لے کر پھالیہ پہنچے ، بھائی کا آخری دیدار کیا اور سپرد خاک کر دیا اس قتل سے متعلقہ بہت سے حقائق زینت قلم بنائے جا سکتے ہیں لیکن یہ درد میں اپنے سینے میں لے کے ہی اس دنیا سے چلا جاوں گا ان کے قتل کے بعد میں نے دنیا کے نرالے رنگ ڈھنگ بھی دیکھے ، جو میرے بھائی کے قدموں تلے تلیاں رکھتے تھے ان کو اپنی مخالفت میں بھی دیکھا جب اقتدار آیا تو پھر اپنے قریب بھی دیکھا ، زمانے کے چلن نے بہت دکھ دیے ہیں ، اب بھی میرا ہنستا چہرہ دیکھ کر لوگ خیال کرتے ہیں کہ شائد مجھے کوئی غم نہیں لیکن درد ہے کہ رتا ہی نہیں، کاش کہ لوگ اقتدار کی بجائے اقدار کو اپنائیں تو معاشرتی برائیوں سے بھی شائد چھٹکارا مل جائے لیکن زمانے کی شاید یہی ڈگر ہے، آج بھی اپنے مخلص ترین ساتھیوں پہ فخر ہے اور نازاں ہوں ، خاص طور پہ اپنے شہر کے ہر فرد کا مشکور ہوں جن کی واضح اکثریت نے ہمیشہ میرے خاندان پہ اعتماد کا اظہار کیا ، اور کسی بھی جاگیردار ، سرمایہ دار سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے انشاءاللہ آئندہ بھی یہ وفا کا رشتہ اہلیان پھالیہ سے بالخصوص قائم رہے گا اور ہر محاذ پہ ہر میدان میں سازشی عناصر کونہ صرف بے نقاب کروں گا بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کروں گا۔

چھبیس جون 2022 کو پیر بنیامین رضوی اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے دونوں اصحاب کی موت کو 18 سال بیت جائیں گے، لیکن یہ ایسے لگ رہا ہے جیسے کل کی بات ہے، سو موت برحق ہے لیکن پیر بنیامین مرا نہیں اسے ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے، جس کا حساب دنیا میں نہ ملا تو آخرت میں ضرور لوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

”عہد و وفا کے پیکر پیر بنیامین رضوی“ … (اکرم عامر . سرگودھا)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں