94

”پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان؟“ … (اکرم عامر. سرگودھا)



تحریر: اکرم عامر سرگودھا

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والا ادارہ ہے۔ جس کا مقصد ان غیر قانونی سرگرمیوں اور ان سے معاشرے کو پہنچنے والے نقصان کو روکنا ہے، ایف اے ٹی ایف کو ایک پالیسی ساز ادارہ بھی کہا جاتا ہے جو قومی قانون سازی اور ریگولیٹری اصلاحات لانے کے لیے ضروری سیاسی خواہش کے مطابق کام کرتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں شامل ممالک اس وقت 200 سے زائد ممالک کو دائرہ اختیار رکھنے کے لئے کام کر رہا ہے، ایف اے ٹی ایف میں اس وقت 40 ممالک شامل ہیں، جو دیگر 160 ممالک پر منظم جرائم، بدعنوانی، دہشتگردی کو روکنے کیلئے عالمی رد عمل یقینی بناتے ہیں.

ایف اے ٹی ایف کا کام غیر قانونی طور پر عالمی سطح پر منشیات کی سمگلنگ، انسانی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث مجرموں کو دی جانے والی رقم کا سراغ لگانا اور جن ممالک سے یہ کام ہو رہا ہو ان پر پابندیاں لگانا ہے، یہ ادارہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی فنڈنگ روکنے کے لیے بھی کام کرتا ہے، منی لانڈرنگ، دہشتگردوں کی مالی معاونت کے طریقہ کار کا جائزہ لیتا ہے، نئے خطرات سے نمٹنے کیلئے اپنے فیصلے صادر کرتا ہے، جیسے کہ ورچوئل اثاثوں کا قانون ، دنیا کے مختلف ممالک میں کرپٹ سیاستدان، بیورو کریٹس کا دوسرے ممالک میں اثاثے بنانا، ایف اے ٹی ایف ان کی بھی نگرانی کرتا ہے تا کہ ایف اے ٹی ایف کے طریقہ کار کو مکمل اور موثر طریقہ سے ان ممالک پر نافذ کر دیا جائے جن ممالک کے بیورو کریٹس اور سیاستدان دوسرے ممالک میں غیر قانونی اثاثے بنانے کے مرتکب پائے جائیں، ایف اے ٹی ایف ان ممالک پر پابندیاں بھی عائد کرتا ہے جو ان کے طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کرتے۔

اس تنظیم کا قیام 1989ءمیں عمل میں آیا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کے اصل تین بنیادی مقاصد تھے، منی لانڈرنگ کو روکنا ، دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنانسنگ کو روکنا اور ٹیکس کی معافی سے دنیا بھر کے ملکوں کو روکنا، ابتدائی طور پر امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، اٹلی اور چین ایف اے ٹی ایف کے ممبر بنے اور انہی کی باہمی رضا مندی سے اس کا قیام عمل میں آیا اور آج ایف اے ٹی ایف کے ممبران کی تعداد 40 سے زائد ہے، جو 150 سے زائد ممالک کی نگرانی کر رہا ہے.

گرے لسٹ میں کسی بھی ملک کا نام کے شامل ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ ملک ایف اے ٹی ایف کے طریقہ کار اور ضابطے سے باہر رہ کر کام کر رہا ہے، اس لئے اس ملک کو دبانا مقصود ہے، جب پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تو پاکستان پر دہشتگردوں کو منی لانڈرنگ کے ذریعے مدد کرنے کا الزام تھا، گرے لسٹ میں شامل ہونے کے بعد تمام ممبر ممالک پاکستان پر چھوٹی چھوٹی تجارتی پابندیاں عائد کرتے آ رہے ہیں، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں شامل ممالک کی جانب سے ایکسپورٹ امپورٹ میں بے جا ٹیکسیشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسی وجہ سے پاکستان دنیا کی مارکیٹ میں نہ اچھے ریٹس پر اپنی چیزیں بیچ سکتا ہے اور نہ خرید سکتا ہے، گرے لسٹ میں شامل ملک کو معاشی طور پر اتنا کمزور اور بے بس کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا، آج میڈیا پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالے جانے کی خبریں چل رہی ہیں باقاعدہ اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے آخری وقت پر ایف اے ٹی ایف میں شامل ممالک اپنا فیصلہ تبدیل بھی کر لیں؟ کیونکہ ایف اے ٹی ایف میں شامل ممالک اور ادارے جمہوریت پسند نہیں آمریت پسند ہوتے ہیں.

یہ اپنے مقاصد کو سامنے رکھتے ہیں اگر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جاتا ہے تو اس کا پھل موجودہ حکومت کھائے گی، جب کہ قابل توجہ امر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سابقہ دور میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا، بزرگ کہتے ہیں کہ درخت لگانے والا قسمت سے ہی اس کا سایہ حاصل کرسکتا ہے یا اس کا پھل کھا سکتا ہے، درخت کی چھاوں میں لگانے والے کی آنے والی نسل بیٹھتی ہے.

2018 میں عمران خان اقتدار میں آئے تو ملک گرے لسٹ میں شامل تھا، ساڑھے تین سال تک عمران خان نے ملک کو گرے لسٹ سے نکلوانے کیلئے بہت سی کوشش کی، لیکن اب پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا وقت آیا تو عمران خان کی محنت کا ثمر موجودہ حکومت کو ملے گا، اس پر اینکرز و صحافتی حلقے مختلف رائے بھی دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کو گرے لسٹ سے نکلوانے کیلئے عمران خان کی حکومت نے ہر طرح کی قانون سازی کی تاکہ منی لانڈرنگ روکی جاسکے، جبکہ موجودہ اپوزیشن نے فیٹف بل پر ووٹ دینے کیلئے بھی نیب ختم کرنے کی شرط رکھی تھی، یہ ایک حقیقت ہے کہ سابقہ حکومت کی کارکردگی پر پاکستان کا گرے لسٹ سے نام نکالا جائے گا؟ لیکن نیب قوانین ختم ہونے پر شاید ایک سال میں پھر یہ عذاب ہم پر مسلط کردیا جائے؟

فیٹف ہو یا آئی ایم ایف اقوام متحدہ ہو یا کوئی اور ادارہ یہ وہ تلواریں ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کیلئے استعمال ہوتی ہیں اور ہوتی رہیں گی، کیونکہ یہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ کوئی اسلامی ملک ایٹمی پاور بن کر اتنا طاقتور ہوجائے کہ کل ہمیں آنکھیں دکھانے لگے، اسلام دشمن قوتوں کے تھنک ٹینک مسلمانوں کی ماضی کی فتوحات کو سامنے رکھ کر سارے فیصلے کرتے اور پالیسیاں بناتے ہیں، کفار کی ہر پالیسی بڑی جنگ کے گرد گھومتی ہے، جو ایک دن یہود ونصاری کی مسلمانوں سے ہونا ہے، جس کیلئے وہ ہمہ وقت تیاری کررہے ہیں اور امت مسلمہ بحیثیت مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہیں اور امت مسلمہ کے ممالک میں اکثریت اقتدار کی جنگ ہی ہمارا مقصد ہے، ہم اپنے ملک میں پڑے جن ہتھیاروں پر فخر کرتے ہیں شاید وقت آنے پر وہ چل ہی نہ سکیں؟ کیونکہ ہمارے دشمن ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں دنیا بھر کے اسلامی ممالک اندرونی سازشوں کا شکار ہیں، دنیا کا کوئی مسلم ملک ایجادات کی طرف توجہ نہیں دے رہا؟

دنیا کے تمام اسلامی ممالک کے سربراہ کی سب سے آخری خواہش یہ ہی ہوتی ہے کہ اس کا لندن یا امریکہ میں گھر ہو اور اس کے بچے انہیں ممالک میں پڑھیں یہ ہی وجہ ہے کہ آج کفار ہم پر سواری کر رہا ہے، اس لئے اسلامی ممالک کے عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یورپی ممالک کی طرح ہم اپنے اپنے ممالک میں اصلاحات کر کے ملک کو اس نہج پر پہنچائیں کہ ہمارے اسلامی ممالک بھی یورپی ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں، اسلامی ممالک کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، اگر یورپ کا بنائی ہوئی ایف اے ٹی ایف پر کسی اسلامی ملک پر بے جا پابندیاں عائد کرے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ایف اے ٹی ایف اور اس میں شامل ممالک کوئی بھی وجہ بنا کر کسی بھی اسلامی ملک پر بے جا پابندیاں عائد کرتے رہیں گے، جس کا خمیازہ ان اسلامی ممالک کے عوام کو بھگتنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں