226

پاکپتن: صاف پانی سے محروم عوام بوند بوند کو ترس گئے. حکیم لطف اللہ



پاکپتن‌ (میڈیا ٹاک) صاف پانی زندگی ہے اور ایک صحت مند معاشرے کی اولین ترجیح ہے صاف پانی سے محروم عوام بوند بوند کے لئے ترس رہے ہی جوہڑوں سے انسان اور جانور اکٹھا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی کی قلت کے اعتبار سے صورتحال خطرناک حد كراس کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللّه سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے صاف پانی کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے ملکی سطح پر جو نقصان ہورہا ہے اس کا تخمینہ محتاط اندازے کے مطابق 110ارب روپے سالانہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت سروے کے مطابق %82 پانی انسانی صحت کے لئے غیرمحفوظ ہے ملک کے 24 بڑے شہروں میں %69 پانی آلودہ ہے.

عالمی ادارہ یونیسیف کے مطابق 6 کروڑ شہری زہریلے پانی کی وجہ سے سلو پوائزننگ کا شکار ہیں ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق لاہور جیسے شہر کی صرف ایک سوسائٹی ڈیفنس کے علاوہ پورے شہر کا پانی آلودہ اور زہریلا ہے پاکستان میڈیکل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق %90 بیماریوں کی وجہ مضر صحت پینے کا آلودہ پانی ہے جس سے سالانہ 11 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کینسر اور پولیو کی بنیادی وجہ آلودہ پانی ہے. دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہوچکا لیکن ہم ابھی تک اس سے چھٹکارا تو کیا قابو نہیں پاسکے.

پانی میں آلودگی کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں پانی کی آلودگی زیادہ تر فضلے میں پیدا ہونے والے جراثیموں گدلا پن پانی میں حل شدہ مضر صحت عناصر نائیٹریٹ اور فلورائڈ کی موجودگی ہے۔ موجودہ مضر صحت جراثیموں کی موجودگی سے ہیپا ٹائٹس،قبض،السر، تیزابیت، ہیضہ، ڈائریا پیچش اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں عام ہو رہی ہیں.

پانی میں موجود آرسینک جیسی مضر صحت دھاتوں کی موجودگی مختلف اقسام کی ذیابیطس، جلدی امراض، گردوں کی خرابی، امراض قلب، ہائی بلڈپریشر جیسی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے اس کے علاوہ بچوں میں پیدائشی نقائص کی شرح بھی اسی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں