117

”سینئر صحافیوں پر مقدمات پر ملک گیر احتجاج“ … (اکرم عامر سرگودھا)



تحریر: اکرم عامر سرگودھا

ہمارے ملک کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس میں اقتدار میں آنے سے پہلے ہر سیاستدان بڑے بڑے وعدے کرتا ہے، اور جب وہ اقتدار تک پہنچ جاتا ہے تو وہ اقتدار کے نشہ میں ایسا مست ہو جاتا ہے کہ اسے عوام سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں اور حکومت میں شامل سیاستدان اپنے مخالفین کیخلاف ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جس تک ان کی رسائی ہوتی ہے، ان حالات میں صحافی معاشرے میں ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، اور مظلوم کی آواز حکومت کے ایوانوں تک پہنچاتے ہیں، عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کیلئے میڈیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، معاشرتی نا ہمواریوں اور جرائم کے خاتمے کیلئے مختلف اداروں میں ہونے والی کرپشن کے خلاف صحافی ہی تو ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کرپٹ مافیا کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں، حکومتی کوتاہیوں اور کرپشن کو عوام کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرپٹ مافیا اور حکومتی جبر اور غضب کا شکار بھی صحافی ہی ہوتے ہیں.

مگر پھر بھی جذبہ حب الوطنی سے سرشار قلم کا مزدور اگلے دن نئے جوش، جذبے سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے، معاشرے میں عدم برداشت کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکمران اور بیورو کریٹس اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے مسائل کی نشاندہی پر صحافیوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں، کئی بار تو کرپٹ مافیا، سرکاری مشینری، سرکاری وسائل اور اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہوئے حق اور سچ کی آواز دبانے کیلئے صحافیوں پر ظلم و تشدد پر اتر آتے ہیں، مگر قلم کے مزدور محب وطن پھر بھی اپنے ملک کے عوام کو ان ظالموں سے نجات دلانے کیلئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں، اسی وجہ سے صحافت خطرناک شعبہ اور کانٹوں کی سیج بن کر رہ گیا ہے۔

اسی طرح کی صورتحال کچھ موجودہ حکومت کی بھی ہے، جو اقتدار میں آنے سے پہلے تک صحافیوں کے مسائل کے حل اور آزادی رائے کیلئے بلند و بانگ دعوے کرتے رہے، لیکن جونہی پی ڈی ایم کی حکومت بر سراقتدار آئی تو چند روز میں ملک کے سینئر اینکر پرسنز ارشد شریف، صابر شاکر، عمران ریاض، سمیع ابراہیم سمیت کئی دیگر صحافیوں کیخلاف مقدمات درج ہو گئے، جس پر ملک بھر کی صحافتی برادری اور صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں، سینئر صحافیوں کیخلاف مقدمات کے اندراج کیخلاف پاکستان میڈیا کونسل کی مرکزی قیادت کی جانب سے دی گئی کال پر 24 مئی کو کراچی سے خیبر تک صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے ڈویژن، ضلع، تحصیل، ٹاﺅنز کی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے، اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ سینئر صحافیوں کیخلاف درج جھوٹے مقدمات خارج کیے جائیں، ان احتجاجی مظاہروں میں جہاں حکومت وقت کو ہدف تنقید بنایا گیا وہاں پاک فوج اور عدلیہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا، کیونکہ عدلیہ نے پولیس کو سینئر صحافیوں کی گرفتاری سے روکا اور حکم دیا ہے کہ تا حکم عدالت سینئر صحافیوں کو گرفتار نہ کیا جائے؟

احتجاجی مظاہروں میں دفاع وطن کیلئے دن رات قربانیاں دینے والی پاک فوج اور عسکری قیادت کی کارکردگی کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ پاک فوج اور پولیس دو ایسے ادارے ہیں جو ہمہ وقت ملک میں قیام امن کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی، ملک کے مختلف اضلاع ، تحصیلوں میں احتجاجی مظاہروں سے مہر حمید انور مرکزی صدر، اکرم عامر مرکزی جنرل سیکرٹری، مقصود احمد مرکزی سینئر نائب صدر، وزیر احمد مہر مرکزی نائب صدر، چوہدری عبدالرشید صوبائی صدر، آرگنائزر آزاد کشمیر امین بٹ، صدر کے پی کے ملک دراوڑ خان، چیئر مین سندھ نعمان شیخ، صدر بلوچستان غلام جیلانی شاہ، مہر کلیم اﷲ ڈپٹی جنرل سیکرٹری، حسن بخاری جنرل سیکرٹری، راﺅ عابد علی خان صدر جنوبی پنجاب،چوہدری آصف جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب، صدر سندھ محمود قادری، آرگنائزر سندھ مشرف بھٹی، جنرل سیکرٹری ریاض کھوکھر، وائس چیئر مین آصف رضا عاشق، آرگنائزر پنجاب زاہد عباس نقوی، جنرل سیکرٹری پنجاب آصف بخاری، سینئر نائب صدر پنجاب عرفان چوہدری، جائنٹ سیکرٹری پنجاب سہیل چوہدری، نائب صدر پنجاب ساجد اعوان، مرکزی سیکرٹری اطلاعات دوست محمد،رہنما پی ایم سی کامران سکندر، علی رحمانی، جاوید ہنجرا، سعید عباس بھٹی، ذوالفقار قائم خوانی، ہادی بخش جلپانی، اسماعیل خلجی، عبدالغفار ملک سرپرست اعلی سندھ، اے ڈی شاہد، علی گوہر گوپاند و دیگر رہنماﺅں نے اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ نا صرف سینئر صحافیوں کیخلاف درج مقدمات خارج کیے جائیں بلکہ بڑے شہروں کی طرح چھوٹے شہروں میں بھی صحافیوں کو سر ڈھانپنے کیلئے صحافی کالونیاں دی جائیں اور بڑے شہروں کے پریس کلبوں کی طرح ہر ضلعی و تحصیل کے پریس کلبوں کو حکومت فنڈز دے، اور چھوٹے شہروں کے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے.

ملک گیر احتجاج کر کے پاکستان میڈیا کونسل نے ثابت کر دیا کہ وہ صحافیوں کی واقعی نمائندہ تنظیم ہے جس نے صحافیوں کے حقوق کیلئے ہر سطح اور ہر مقام پر آواز بلند کی، پی ایم سی کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی کسی صحافی کے ساتھ ملک میں زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ نیز زرد صحافت کرنے والوں کا قلع قمع کیا جائے گا اور پی ایم سی کسی بھی سطح پر زرد صحافت کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے گی بلکہ ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پاکستان میڈیا کونسل کا سینئر صحافیوں کیخلاف درج مقدمات کے حوالے سے احتجاج اچھا اقدام ہے، اور پی ایم سی وہ واحد صحافتی تنظیم ہے جو گراس روٹ لیول پر چھوٹے بڑے شہروں میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پی ایم سی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال ملک بھر میں کامیاب رہی اور کراچی سے خیبر تک ہر چھوٹے بڑے شہر میں صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے احتجاج کر کے سینئر صحافیوں، ارشد شریف، سمیع ابراہیم، صابر شاکر، عمران ریاض کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور مقدمات خارج کرنے کا مطالبہ کیا، پی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں