103

کیا کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو پائے گی؟ ۔۔۔ (اکرم عامر۔ سرگودھا)



تحریر: اکرم عامر سرگودھا

اپوزیشن اور حکومت کے مابین جاری سیاسی لڑائی آخری مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے، پی ٹی آئی کے کپتان حکومت بچانے کیلئے اور اپوزیشن کپتان کو گھر بھجوانے کیلئے تمام حربے استعمال کر رہی ہے، اپوزیشن جماعتوں کی قیادت آئے روز لاہور اور اسلام آباد میں اجلاس کر کے کپتان کو گھر بھجوانے کی پلاننگ کر رہی ہے اسی تناظر میں قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کیلئے ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے۔

اپوزیشن کی پیش کی جانے والی درخواست پر سیاسی ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو 15 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہے مگر اجلاس کا منظر نامہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ یہ کب ہو گا؟ ظاہر ہے حکومت سوچ سمجھ کر اجلاس بلائے گی، اسمبلی میں کسی بھی تحریک کی کامیابی کا انحصار سپیکر قومی اسمبلی پر ہوتا ہے اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کہتے ہیں کہ وہ اجلاس بھی بلوائیں گے، ووٹنگ بھی کروائیں گے لیکن انہیں (سپیکر قومی اسمبلی) کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پارٹی ٹکٹ سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو خلاف ورزی پر ووٹ ڈالنے سے روک سکتے ہیں؟ جس پر اپوزیشن واویلہ کر رہی ہے کہ حکومت تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے دن دھاندلی کرے گی۔

اپوزیشن کہتی ہے کہ اس کے پاس نمبر گیم پوری ہے، تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی اور کپتان کو گھر جانا ہو گا، یاد رہے کہ ملک میں اصل سیاست بیرون ملک بیٹھ کر سیاستدان کر رہے ہیں، نواز شریف ایک طویل عرصہ سے علاج کیلئے لندن گئے ہوئے ہیں، تو ان کی تقلید کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے قائد جہانگیر ترین بھی علاج کرانے برطانیہ پہنچ گئے، علیم خان نے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنایا تو وہ بھی جہانگیر ترین سے ملنے برطانیہ گئے، مگر ان کی جہانگیر ترین سے ملاقات نہ ہو سکی اور وہ وطن واپس آ گئے۔

اسی بناءپر جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ ابھی تک الگ الگ تصور کیے جا رہے ہیں، لیکن یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پی ٹی آئی میں دو فارورڈ بلاک ہیں جن میں ایک کی قیادت جہانگیر اور دوسرے کی علیم خان کر رہے ہیں، واضح رہے کہ برسراقتدار جماعت میں فارورڈ بلاک اس وقت بنتے ہیں جب اقتدار میں تبدیلی کا منظر واضح ہو، اپوزیشن پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے قائدین اور اراکین سے رابطے میں ہے تا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں ان سے حمایت حاصل کر سکے۔

پی ٹی آئی کے کپتان اور کھلاڑیوں کو اس وقت دو محاذ پر جنگ لڑنا پڑ رہی ہے، ایک تو اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانا اور دوسرا پی ٹی آئی کا عوام میں اعتماد بحال کرنا، اسی تناظر میں پی ٹی آئی نے اچانک ملک میں جلسوں کا اعلان کیا، اور منڈی بہاوالدین کے بعد حافظ آباد میں پی ٹی آئی نے اپنا پاور شو کیا ہے، اور کپتان نے للکارا کہ ہر محاذ پر اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب اور وزراءکی ٹیمیں رات گئے تک ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقاتوں میں مصروف رہے، توجہ طلب امر یہ ہے کہ وزیر اعلی اور وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں میں اپوزیشن کے کئی ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں، کپتان کا دعوی ہے کہ اپوزیشن کے 20 ارکان قومی اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں اور اپوزیشن کا دعوی ہے کہ پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک عدم اعتماد کی صورت میں ان کی حمایت کریں گے۔

کپتان نے عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ سے ایک دن پہلے اسلام آباد میں بڑے جلسے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ جلسہ ہوتا نظر نہیں آ رہا، کیونکہ ابھی تک سپیکر نے عدم اعتماد پر ووٹنگ کیلئے تاریخ کا اعلان نہیں کیا، حکومت مناسب وقت کے انتظار میں ہے اور تیزی سے توڑ جوڑ کر رہی ہے تا کہ حکومت بچا سکے، کپتان مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی، اگر پی ٹی آئی کے کسی رکن اسمبلی نے غداری کی تو اس کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا ہو گا، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، ایسا نہ ہو کہ پھر سب 10 سال تک لائن میں لگے رہیں۔ چند روز قبل پارلیمنٹ لاجز میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ کسی کو اسلام آباد میں داخل ہو کر قانون شکنی کرنے کی اجازت نہیں دینگے، قانون شکن عناصر کیخلاف سختی سے نمٹیں گے، عدم اعتماد کی پولنگ کے دن اپوزیشن کو پوری سکیورٹی دیں گے، لیکن ملیشیا فورس (جے یو آئی کی ذاتی فورس) کو پارلیمنٹ لاجز میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، اگر انہوں نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو سخت ایکشن لیں گے، اسی طرح کا جواب اپوزیشن نے حکومت کو دیا ہے، پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمان کہتے ہیں کہ حکومت نے کوئی اوچھی حرکت کی تو کراچی سے خیبر تک ملک جام کر کے رکھ دیں گے۔

سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہو رہی تھی ملک کے سیاسی ماحول کی جو کہ انتہائی کشیدہ ہے، ایک طرف اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کر رکھی ہے اور دوسری طرف حکومت کی اتحادی مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان اور قائدین سوچ بچار کر رہے ہیں کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دیں یا نہ دیں اس کا فیصلہ یہ تینوں جماعت آئندہ 48 گھنٹوں میں کر لیں گی، پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کے قائدین جہانگیر ترین اور علیم خان سے پی ٹی آئی قیادت کے بیک ڈور رابطے ہیں، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کہتی ہے کہ وہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، جبکہ یہ بات بھی طے پا چکی ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت کے وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی یعنی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی سے رابطے ہیں، ذرائع کہتے ہیں کہ حکومت بچانے اور حکومت گرانے کیلئے تجوریوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں اور سردست حالات کے مطابق عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں حکومت یعنی پی ٹی آئی کے کپتان کو ایک ووٹ کی برتری حاصل ہو گی کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کرنا ہے جو کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں اور عین ممکن ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کاسٹ ہونے والے ارکان اسمبلی کے ووٹ بڑی تعداد میں مسترد کر دیئے جائیں گے؟

اسی تناظر میں اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ حکومت تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ پر دھاندلی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس طرح حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی جگہ مطمئن ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ عدم اعتماد ناکام اور اپوزیشن کہتی ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں