112

خواتین اور اسلام … اے.ڈی.شاہد



تحریر: اے. ڈی. شاہد

عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے کسی مذہب نے نہیں دیا ۔ دور جہالت اور خاتون اسلام کا موازنہ کیا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جہالت کے دور میں عورت کو کتنا حقیر سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے اسے کتنا اونچا مقام عطا کیا ہے مگر آج کی مسلم خواتین مغرب کے جھوٹے پروپیگنڈے ، فتنے ، گمراہ کن افکار اور نام نہاد آزادی سے متاثر ہو کر پوری طرح سے بھٹک چکی ہیں ۔ وہ بھول چکی ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان کی بھلائی دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی ہے ۔ اور ان کی کامیابی و کامرانی اسلام کے ان ضابطوں اور اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں ہے جو کہ ان کے تحفظ کے لیے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیے ہیں ۔ سورہ احزاب میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” اور دیکھو کسی مومن مرد و عورت کو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے بعد اپنے کسی عمل کا اختیار باقی نہیں رہتا ” ۔ یاد رکھو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو نافرمانی کرے گا وہ صریحا گمراہی میں پڑے گا۔

آج کل کی خواتین میں میک اپ کرنا ، بننا سنورنا اور بیوٹی پارلرز پر روپیہ لٹانا عام سی بات ہو چکی ہے ۔ یہ سب مغربی فیشن کے نام پر میڈیا کے ذریعے ہماری خواتین میں کامیابی سے سرائیت کر چکا ہے ۔ جہاں پر فیشن ، میک اپ اور بیوٹی پارلرز کو فروغ ملا وہاں پر بے پردگی بھی عام ہوگی ۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک عورت کو دیکھا وہ بن سنور کر بازار سے گزر رہی تھی اور اس کے سنورنے کی وجہ سے مرد اسے دیکھنے پر مجبور تھے اس پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت غصہ آیا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے شام کو اس عورت کے خاوند کو بلایا اور اس کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” جو عورت اس طرح گھر سے بن سنور کر نکلے کہ غیر مرد اس کو دیکھیں تو اللہ تعالی کے فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں کہ جب تک وہ گھر واپس نہ آ جائے اور عورت کے لئے صرف یہ جائز ہے کہ وہ صرف اپنے خاوند کے لیے بناؤ سنگھار کرے اور اپنے خاوند کی خوشی کے لئے اور وہ بھی جائز حدود کے اندر رہ کر ۔ اس کے علاوہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ گھر کے باہر بن سنور کر نکلے ” ۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ” کسی مرد کے بے غیرت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی عورت کو ایسی جگہ لے کر جائے جہاں اس کو غیر مرد دیکھیں اور وہ اپنی بیوی کو اس کی اجازت دے اور وہ بن سنور کر باہر نکلے” ۔

مگر آج کل ہمارے معاشرے میں خواتین نہ صرف بن سنور کر گھر سے نکلتی ہیں بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات میں تو وہ اپنی نمائش ایسے کرتی ہیں جیسے ماڈلنگ کرنے آئی ہوں اور ہمارے مرد حضرات خواتین کو خود بیوٹی پارلرز پر لے کر جاتے ہیں اور باہر گھنٹوں انتظار کے بعد انہیں بنا سنوار کر بڑے فخر سے بازاروں ، پارکوں ، تفریحی مقامات یا رشتہ داروں کے گھر لے جاتے ہیں ۔ یہ تمام خرافات مغربی ممالک سے ہمیں گمراہ کرنے کے لیے ہیں ۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک کی سورۃ النور میں واضح فرمایا ہے کہ ” اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے چادریں اپنے گریبانوں اور سینوں پر بھی ڈال کے رکھیں اور وہ اپنے بناؤسنگھار کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے اور تم سب کے سب اللہ تعالی کے حضور توبہ کرو اے مومنوں تاکہ تم ان احکامات پر عمل پیرا ہوکر فلاح پا سکو” ۔

آج کل خواتین میں ناخن بڑھانے کا فیشن بڑی تیزی سے سرایت کر چکا ہے حالانکہ اسلام میں یہ کسی صورت جائز نہیں ہے ۔ ہمارے پیارے نبی پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” دس چیزیں پیغمبروں کی فطرت ہیں ان میں ناخن کاٹنے کا بھی حکم ہے ” ۔ لہذا مرد و خواتین کو انتہائی کم مدت میں ناخن کاٹنے کا شرعی حکم ہے ۔ بڑھے ہوئے ناخنوں سے کھانا اور نماز مکروہ ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ خواتین میں ناخن بڑھانے کا عمل عقل کے بھی خلاف ہے اور اس میں زینت بھی نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کی تبدیلی کی علامت ہے اور انسان کی جب فطرت تبدیل ہو جاتی ہے تو یہ سراسر نقصان اور لمحہ فکریہ ہے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ” شیطان ان کو بہکائے گا اور یہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی تخلیق کو تبدیل کر دیں گے ” ۔ اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے کہ ہماری فطرت کبھی بھی تبدیل نہ ہو خواتین کی اسلام سے دوری کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کل طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے معاشرے پر منفی اور بہت برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہذا ” لوٹو اللہ کے دین کی طرف لوٹو اسی میں ہی فلاح ہے” ۔

سورۃ احزاب پارہ نمبر 22 کی آیت مبارکہ ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ” بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں ، سچے مرد اور سچی عورتیں ، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والیاں ، عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں ، خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں ، اپنی پارسائی کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں ، اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والیاں ، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر رکھا ہے ۔ بلاشبہ اسلام ہی عورت کا بہت بڑا محافظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں