98

دنیا الحاد، دہریت، سیکولرازم، کی زد میں … (پیر فیضان علی چشتی)



تحریر: پیر فیضان علی چشتی

دنیا بہت تیزی کے ساتھ بدلاؤ اور مادی اعتبار سے ترقی کے زینے طے کرتی چلی جارہی ہے جو چیز کل ناممکن نظر آتی تھیں آج وہ ممکن نہیں بلکہ معرض وجود میں آتی دکھائی دے رہی ہے اسی تیزی کے ساتھ کہیں دہریت سر اٹھاتی نظر آتی تو کہیں الحاد اپنے پنجے گاڑتا نظر آتا تو کہیں سیکولرازم امت مسلمہ کے سوچ و افکار کو پراگندہ کرتا نظر آتا ہے
اسلام دشمن طاقتیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اور عقلی دلائل کا استعمال کر کے آئے روز نت نئے اعتراضات اٹھاتی نظر آتی ہیں.

اس لیے اہل اسلام اور علماء کو بہت سارے چیلنجیز اور اعتراضات درپیش ہے جن کا میدان عمل میں اتر کر جواب دینا اور مناسب حکمت عملی اپنانا بےحد ضروری ہے خاص کر الحاد دہریت سیکولرازم مسلمانوں اور نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل سے کم نہیں اور انکارد منطق فلسفہ اور دیگر عقلی علوم کے بغیر ممکن نہیں مگر ہمارے مدارس میں ان علوم کو غیر مفید سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ آنے والے دور میں اس کے بغیر اسلام کی تبلیغ کما حقہ ناممکن نظر آتی ہیں کنزالمدارس بورڈ خراج تحسین کا مستحق ہیں کہ انہوں نے بے دین لوگوں کا رد باقاعدہ طور پر نصاب میں شامل کیا جو وقت کی اشد ضرورت ہے.

افسوس کہ ہم فروعی مسائل میں الجھ کر رہ گئے مگر ان فتنوں کی طرف توجہ نہ رہی کہ یہ بے دینی کتنا بڑا لاوا بن کر امت مسلمہ میں افتراق اور اسلامی تہذیب و تمدن کے لئے نقصان کا باعث بنے گی.

ویکیپیڈیا کے مطابق دنیا کا زیادہ آبادی والا مذہب عیسائیت ہے جس کے پیروکار کی تعداد 2 ارب 40 کروڑ ہے یہ مجموعی آبادی کا 30 فیصد ہے۔دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے جسے ایک ارب 80 کروڑ لوگ مانتے اور دنیا میں ایک ارب بیس کروڑ لوگ بے دین سیکولر لبرل ملحد جو مجموعی آبادی کا 16فیصد ہیں اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اس لیے اس حوالے سے وارثان منبرومحراب اور مفکرین اسلام کو اقدامات کرنے ہوں گے آج کے اس دور میں ہمارے علماء کو فروعی مسائل سے نکل کر ان باطل گمراہ اور بے دین لوگوں کو جواب دینا ہو گا اور اپنے مدارس میں الحاد دہریت سیکولرازم کا باقاعدہ لازمی طور پر شامل نصاب کرنا ہوگا تاکہ امت مسلمہ کو ان فتنوں سے بچا کر اسلام کی طرف گامزن کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں