148

ریاست مدینہ میں حکومتی سطح پر بھنگ کی کاشت؟ … (اکرم عامر، سرگودھا)



تحریر: اکرم عامر سرگودھا

اسلام میں ہر طرح کے نشہ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر ہر مذہب کی کتاب میں بھی ہے، ملک میں نشہ کی مختلف اقسام ہیں جن میں ایک قسم بھنگ بھی ہے جو کہ ایک سستا نشہ ہے، جسے اکثر درگاہوں کے باہر بیٹھے، قبرستانوں اور کھلے مقامات پر درختوں کے نیچے ڈیرے لگائے ملنگ کثرت سے گھوٹ کر پیتے ہیں، نشہ چونکہ اسلام میں حرام ہے اور موجودہ حکومت ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوی کر کے اقتدارمیں آئی ہے، ملک کے قانون میں ہر طرح کے نشہ پر پابندی بھی ہے، لیکن قوم کو تعجب اس وقت ہوا جب حکومت نے سرکاری سطح پر بھنگ کی کاشت کرائی اور اس کی کٹائی کے عمل کا افتتاح ریاست مدینہ کے ایک وفاقی وزیر نے کیا جن کا کہنا تھا کہ بھنگ کی کاشت کرنے والا کاشتکار ایک ایکڑ سے چار سے پانچ لاکھ روپے سالانہ کما سکتا ہے، سو اس طرح بظاہرحکومت نے ملک میں بھنگ کی کاشت کو جائز قرار دے دیا ہے؟

یوں تو بھنگ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور سے اسلام آباد جانے والے جی ٹی روڈ اور ملک کے پہاڑی علاقوں اور سڑکوں کے کنارے بھی کثرت سے پیدا ہوتی ہے، اس کا بیج جہاں گر جائے وہاں ہی پودا بن کر ابھرنا فطری عمل ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں بھنگ کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے، کوئی اسے بادام، خشخاش، کالی مرچ ڈال کر گھوٹ کر پیتا ہے تو کوئی پکوڑے نکال کر اس کے نشہ سے لطف اندوز ہوتا ہے، بھنگ کا قدیم استعمال ہندوستان میں 1000 سال قبل سے کھانے پینے میں ہو رہا ہے، بھنگ روایتی طور پر مہا شیوارتری اور ہولی کے موسم بہار کے تہوار کے دوران ہندو کثرت سے استعمال کرتے ہیں، بھنگ سے تیار ہونے والے مشروب کو ٹھنڈائی کہتے ہیں۔ گوا میں مقیم ایک پرتگالی یہودی طبیب گارشیا ڈی اورٹا نے بھنگ کے بارے کہا ہے کہ یہ سستا ذریعہ تفریحی ہے۔ اسی وجہ سے یہ پاکستان، ہندوستان سمیت برصغیر کے کئی ممالک میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔

1596 میں ولندیزی جان ہیوگین وان لنشوٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفر کی دستاویز میں تین صفحات لکھے۔ اس نے مصری چرس، ترکی بوزا، ترکی برناوی اور عربی برج کی کھپت کی اقسام کا بھی ذکر کیا اور کہا ہے کہ کونڈی ڈنڈا کا استعمال کرتے ہوئے، بھنگ کی پتیوں کو پیسا جاتا ہے اور پھر انہیں کھانے کی اشیاءمیں شامل کیا جاتا ہے، بھنگ کے مشروب کے لیے اسے دودھ میں ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اکثر لوگ اسے خشخاش، چینی، پھل اور مختلف مصالحوں کے ساتھ ذائقہ دار بنا کر استعمال کرتے ہیں، ہندوستان میں تہواروں کے دوران اس کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ متھرا میں بھنگ ٹھنڈائی اور بھنگ لسی میں پیا جاتا ہے، بھنگ کو گھی اور چینی کے ساتھ ملا کر جامنی رنگ کا حلوہ بھی بنایا جاتا ہے، بھنگ اور کالی مرچ کی گولیاں بنا کر چبا کر بھی استعمال کی جاتی ہیں، اور بھنگ کی چٹنی بھی تیار کر کے استعمال کی جاتی ہے، جسے بھنگیرا کی چٹنی بھی کہا جاتا ہے، یہ ایک ڈش ہے جسے اتراکھنڈ کے کھانوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ جو بھنگ کے بیجوں ،پودینہ، ٹماٹر اور مختلف مصالحوں کے ساتھ پیس کر بنایا جاتا ہے۔

بھنگ برصغیر پاک و ہند میں قدیم ہندو روایت اور رواج کا حصہ ہے۔ دیہی ہندوستان کے کچھ حصوں میں حکیم بھنگ کے پودے سے بخار، پیچش اور سن اسٹروک، بلغم کو صاف کرنے، ہاضمے میں مدد دینے، بھوک بڑھانے، گویائی کی خرابیوں اور لنگوٹی کو دور کرنے اور جسم کو ہوشیار رہنے کی ادویات بھی تیار کرتے ہیں۔ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے بہت سے حصوں میں اسے قانونی حیثیت حاصل ہے اور بنیادی طور پر ہولی کے دوران کثرت سے فروخت ہونے والا نشہ بھنگ ہے، ملنگ بھنگ کے پکوڑے بھی کبھی کبھی کھاتے ہیں، بھارت کے اتر پردیش میں بھنگ کی دکانوں کا لائسنس ہے، اور ہندوستان میں کئی جگہوں پر آسانی سے بھنگ سے تیار کردہ مصنوعات خریدی جا سکتی ہیں، کچھ ریاستیں جیسے بہار اور مغربی بنگال میں بھی بھنگ کی پیداوار کی اجازت ہے۔ لیکن بھارت کی ریاست راجھستان میں بھنگ کی پیداوار کی اجازت تو نہیں لیکن یہاں بھنگ کی خریدو فروخت کی اجازت ہے۔

ہولی کے دوران بھنگ کی لسی پینے کی روایت شمالی ہندوستان میں خاص طور پر عام ہے، ہندووں کے لیے مذہبی اہمیت کے حامل قدیم شہر متھرا میں بھنگ بہت زیادہ پی اور کھائی جاتی ہے۔ جن کا خیال ہے کہ یہاں یہ عمل کرشنا کے پیروکاروں نے متعارف کرایا تھا اور تب سے یہ قائم ہے۔ متھرا میں، کچھ لوگ اپنی بھوک بڑھانے کے لیے بھنگ کا استعمال کرتے ہیں ۔ بھارت میں ہندوﺅں کے نزدیک بھنگ منشیات نہیں ہے، اسے ایک روایتی نیند میں امداد اور بھوک بڑھانے والا پودا سمجھا جاتا ہے، بھنگ کی گولی کے تقریباً دو گھنٹے کے بعد اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو استعمال کرنے والے صارف کو خواب جیسی مراقبہ کی حالت میں بھیج دیتا ہے۔

بھارت میں 1961 میں اس حوالے سے پہلا قانون پاس ہو تھا، جس میں بھنگ (یا چرس) کو دیگر منشیات کے ساتھ شامل کیا گیا تھا اور دواوں اور تحقیقی مقاصد کے علاوہ ان کی پیداوار اور سپلائی پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم اس قانون میں بھنگ کے پودے کے پتے کی تعریف شامل نہیں ہے، اس طرح ہندوستان میں بھنگ کلچر کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔ قطع نظر چونکہ بھنگ نے ہندوستان کی ثقافت اور روحانی طریقوں میں اتنا اہم کردار ادا کیا ہے، اس لیے بھارت میں بھنگ کو مکمل طور پر جرم قرار دینا ناممکن سا ہو چکا ہے۔

سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی پاکستان میں حکومتی سطح پر بھنگ کی کاشت کی جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے، کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جو کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آئی اور موجودہ حکومت کے کپتان عمران خان بھی ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے تو ایک اسلامی حکومت کے دور میں بھنگ جو کہ لوگ نشہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں کی اجازت کاشت کی اجازت دینا سمجھ سے بالا تر ہے، اور اس پر مذہبی حلقوں کی خاموشی بھی معنی خیز ہے، حالانکہ 2020ءتک ملک میں بھنگ کاشت کرنا تو درکنار بھنگ کی خرید و فروخت کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جاتی تھی اور انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جاتے تھے، لیکن اب حکومتی سطح پر بھنگ کی کاشت سے کیا یہ سمجھا جائے کہ حکومت اس نشہ کو عام کرنے جا رہی ہے، یا کہ بھنگ کاشت کر کے اس کی سپلائی دوسرے ملکوں میں کر کے زر مبادلہ کمایا جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر ذی شعور شہری حکومت وقت سے کر رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے خاموشی معنی خیز ہے اور وزراء صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بھنگ کی کاشت سے فی ایکڑ لاکھوں آمدن ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں