177

پاکستان سے محبت کرو،پاکستان کی تعمیر کرو” شہید حکیم محمد سعید کا نعرہ تھا۔ حکیم لطف اللہ



پاکپتن (ماجد رضا سے) حکیم صاحب پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت کرنے والے ایک ایماندار اور وضع دار انسان تھے وہ انسانیت کی خدمت کیلئے ہی پیدا ہوئے تھےپاکستان سے محبت کرو،پاکستان کی تعمیر کرو” شہید حکیم محمد سعید کا نعرہ تھا.

اخلاق ،محبت، خلوص، علم،ایثار،انسان دوستی،فروغ طب وحکمت، وقاراطباء،تعمیر وطن، سعی وعمل کی ہمیشہ زندہ رہنے والی تاریخ کا دوسرا نام حکیم محمد سعید ہےان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللّه سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے گورنمنٹ ہائرسیکنڈری سکول میں شہید حکیم محمد سعید کی سالگرہ کے حوالہ سے منعقدہ تقریب سے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکیم صاحب نے اپنی پوری زندگی بامعنی بامقصد اور مثبت گزاری وہ کہتے تھے کہ میرا ملک سورة رحمٰن کی زندہ تصویر ہے ہمیں اللہ تعالی کی دی ہوئی تمام نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے سنجیدگی، حساسیت، ہوش و خرد،عقل و شعور، فہم وادراک، تحمل وبردباری،قناعت وصبر، ہمت وجرات اور جوش و ولولہ جیسی تمام ترخوبیاں اللّه تعالٰی نے اس ایک شخص میں سمو دی تھیں۔ وہ بچپن سے ہی غیر معمولی ذہانت اور حیران کن یادداشت کے مالک تھے یہی وجہ ہے کہ وہ 9 برس کی عمر میں حافظ قرآن بنے۔

تقسیمِ برصغیر کے بعد حکیم صاحب نے 1948 میں بھارت سے کراچی ہجرت کی۔آپ گورنر سندھ اور مشیر طب صدر پاکستان بھی رہے۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اسحاق آسی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان، غلام رسول پاکستانی کنوینیئر پی ایس اے گرین پاکستان کلین پاکستان نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوۓ کہا کہ آپ مایہ ناز طبیب ومعالج کے ساتھ ساتھ معلم،سماجی،رہنما، سکالر،مقرر،مدیر،سیاح،سیاسی قائد اورصنعتکار تھے۔

انکی خدمات سے آج بھی لاکھوں لوگ فیض یاب ہورہے ہیں۔انہوں نے کراچی میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر 1953میں مدینة الحکمہ کی بنیاد رکھی جس میں دین سائنس اور اسپورٹس کے شعبہ قائم کیے انہوں نے ہمدرد یونیورسٹی کے علاوہ ہمدرد پبلک اسکول،ہمدرد کالج آف سائنس،ہمدرد کالج آف کامرس، ہمدردلائبریری، ہمدرد کالج آف میڈیسن اینڈ ڈسپنسری، ہمدرد کالج آف ایسٹرن میڈیسن اور ہمدرد انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم کروائیں۔

انکے جرائد میں ہمدرد نونہال،ہمدرد خبرنامہ،ہمدردصحت،ہمدرد اسلامکس، ہمدردمیڈکس اور ہمدرد ہسٹاریکس شامل ہیں ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان نہایت اہم اور باوقار ادارے ہیں۔

شہید حکیم محمد سعید نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتابیں تحریر کیں۔انہوں نے اپنی کاوشوں سے عالمی ادارہ صحت (WHO) سے طب یونانی کو سائنس تسلیم کروایا اور طب یونانی ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی کو ایک صفحے پر لانے میں کامیاب ہوئے۔

بچوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ حکیم صاحب نے نونہال ادب کا شعبہ قائم کیا خبرنامہ اور نونہال کے نام سے باقاعدہ رسالہ جاری کیا، وہ اپنی آخری لمحات تک ہمدرد نونہال سے وابستہ رہے۔بچوں کے ادب پر سو سے زائدکتابیں اور سفرنامے لکھے۔حکیم صاحب نے 1993سے1994تک بطور گورنر سندھ امور انجام دیے اور کراچی کو یونیورسٹیوں کا شہر بنا دیا حکومت پاکستان نے انکی اعلی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا۔

حکیم صاحب پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت کرنے والے ایک ایماندار اور وضع دار انسان تھے وہ انسانیت کی خدمت کیلئے ہی پیدا ہوئے تھے لفظ ہمدرد ان کی زندگی اور ان کے بنائے ہوئے اداروں کی پہچان بن گیا۔حکیم صاحب روزانہ بیس گھنٹے کام کرتے اور چار گھنٹے سوتے تھے زندگی کے آخری دنوں میں چار گھنٹوں کے آرام میں سے ایک گھنٹہ اور کم کر دیا۔انہوں نے کفایت شعاری کی ہمیشہ تلقین کی اور فضول خرچی سے منع فرمایا حتیٰ کہ اپنی بیٹی کی شادی پر بارات کو صرف چائے پیش کی جس کی مثال آج نہیں ملتی۔عجزوانکساری انکی فطرت میں تھی فکر انکا طریقہ زندگی تقویٰ اور پرہیز گاری انکا سلیقہ زندگی تھا قناۃ کا سبق انہیں بچپن کی صحبتوں نے دیا تھا انہوں نے پاکستانی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کی۔

حکیم سعید کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفا نہیں ہوتی شہید حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ ڈھاکہ اور لندن میں بھی ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔حکیم صاحب نے جتنے مریضوں کا فری علاج کیا یہ اعزاز بھی شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔ہمدرد غیر منافع بخش ادارہ ہے حکیم صاحب نے 1953 میں ہی ہمدرد کو وقف پاکستان کردیا تھا جس کی تمام ترآمدنی طبی تحقیق اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہے۔

تقریب کے اختتام پر بچوں کے ساتھ ملکر کیک کاٹا گیا حکیم صاحب کے نام کے پودے اور پرندوں کے لئے گھونسلے بھی لگائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں