175

کالی تربیت … حمزہ ارشد



تحریر: حمزہ ارشد

حلال رشتوں کی طرف جنسی رحجان کی وجہ بچپن میں بچوں کو ایک ساتھ نہلانا ، کپڑے پہنانا ، والدہ کا بچوں کے سامنے اپنے کپڑے تبدیل کرنا یا باتھ روم میں چھوٹے بچوں کے سامنے نہانا بچپن میں بہن بھائیوں کا ایک ساتھ مل کر بے حیا ڈرامے اور فلمیں دیکھنا ، نالائق والدین کی نالائق تربیت ، پو-ر-ن ، غلط دوستوں یاروں کی صحبت ، مغربی ممالک کا لکھا گیا جنسی لیٹریچر ، سود کھانا ، بدکردار والدین ، دونوں میں سے کسی ایک کا بدکردار ھونا بھی بچوں کو متاثر کرتا ھے کیونکہ انسان کے جسم سے نکلنے والی وائبریشن جو ہر لمحہ نکل کر ارد گرد موجود لوگوں تک پہنچتی ھے جسے یوگ کی زبان میں Aura بھی کہتے ہیں اورا انسان کے کرتوتوں کے مطابق بنتا ھے جس انسان کی سوچ سلجھی اور نیک ھوتی ھے اسکا اورا بھی پرکشش اور مضبوط بنتا ھے جس سے اسکے ارد گرد والے بھی فائدے میں رھتے ہیں مگر جنکی سوچ زانی ھو کردار کالا ھو انکا اورا بھی منفی وائبریشن کو اپنے ارد گرد 4پھیلاتا رہتا ھے اس منفی اورا کے قریب رھنے والے لوگ بھی بہت جلد اسی منفی سوچ کا شکار ھو جاتے ہیں اسی لئے کہتے ہیں اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور برے لوگوں سے دور رہیں کیونکہ ہر اورا قریب رہنے والے کمزور لوگوں کو اپنا عادی بنا لیتا ھے اپنے پیچھے لگا لیتا ھے ۔۔۔

اپنے بچوں کو سمجھانے سے پہلے خود کی سوچ کی سروس کروائیں جن والدین کو انکے والدین نے صرف روٹی کپڑا مکان اور کچھ پڑھائی کے سوا کوئی تربیت نام کی چیز سے نہیں نوازہ وہ کیا خاک اپنے بچوں کو تربیت دیں گے ۔۔۔

پڑھی لکھی جاہل مائیں ہر انڈین پاکستانی ڈرامہ بچوں کی موجودگی میں دیکھتی بھی ہیں اور بغیر سینسر کے بچوں کو پوری فلم یا ڈرامے دکھاتی بھی ہیں ، گزارش ھے ایسی جاہل اور پڑھی لکھی جاہل ماؤں سے کہہ چار سال سے لے کر 18 سال تک کے بچوں کی سوچ پتلے آئینے کی طرح شفاف مگر بہت نازک ھوتی ھے کہ ہلکی سی ٹھوکر ہلکا سا جھٹکا ہلکی سے ڈراموں فلموں میں دیکھی گئی لڑکیوں لڑکوں یا کسی بھی رشتے کی چاہت ، محبت ، بے حیائی، آوارہ ڈائیلاگ ،گالی گلوچ ، گندی ڈرسنگ ، آدھے ننگے نظر آنے والے جسم ایک دوسرے کو چومتے ھوئے رومینس کرتے اداکاروں کو دیکھنا سننا وغیرہ وغیرہ اسی لمحے دل میں گھستی ھے کیونکہ یہ معاملات ہر عمر کی سوچ کیلئے کشش رکھتے ہیں لاشعور میں گھر بنا کر بیٹھ جاتے ہیں بچے معصوم تو ھوتے ہیں اسی لئے ان چیزوں سے فورا ہپناٹائز ھو جاتے ہیں یعنی یہ سب جادو کی طرح انکے ذہنوں پر سوار رہتا ھے پھر بچے موقع ڈھونڈتے ہیں جو دیکھا اسے اپلائی کرنے کیلئے یا پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی بچپن میں ٹیوی ڈراموں ،فلموں ، گھر کے ماحول ، والدین کے آپس کے معاملات سے ملنے والے اثرات جوانی میں ایک ایک کر کے سامنے آتے جاتے ہیں ۔ لبرل ماحول میں بچوں کی تربیت کر کے والدین خوش مطمعن رھتے ہیں یا پھر اس چیز کو اتنا سیریس نہیں لیتے کہ بچوں کو کس بات سے روکنا ٹوکنا ھے انکی ڈرسنگ انکی سوچ کی مرمت بھی کرنی ھے والدین کھلی چھٹی دے کر پہلے بچوں کی سوچ لبرل بناتے ہیں جب بچے والدین کی لبرل تربیت میں پلتے جوان ھوتے ہیں اور اپنی من مانیاں کرنے لگتے ہیں اس وقت والدین رونے پہ اتر آتے ہیں ہمارا بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہماری بیٹی ہماری ایک نہیں سنتی خود سر اور آذاد ھوتی جا رہی ھے کسی بڑے کو کچھ نہیں سمجھتی ، تو جناب بچوں کی اس لبرل آزادانہ تربیت کے ذمہ دار والدین خود ہیں جنہیں خود کسی چیز کی تمیز نہیں تھی کہ بچوں کی اصل تربیت کرتے کیسے ہیں معصوم بچوں کے دوست بن کر اپنا والدین والا رعب ہی ختم کر دیا ہر معاملے میں آزادی سے چلنے کی عادت ڈال کر جب وہ درخت مضبوط جڑ پکڑ گیا تب والدین بچوں کو کوستے ہیں برا بھلا کہتے ہیں جبکہ بچے وہی کچھ کر رھے ھوتے ہیں جنکا والدین خود عادی بنا چکے ہیں آپ ہی کی دی گئی تربیت آج یہ رنگ لائی ھے بہت آذادی ،دوستانہ ماحول یا بہت سختی کہ سانس لینا بھی دشوار ھو بچوں کو باغی اور خود سر بناتا ھے ۔

بچے والدین کا ہی رنگ ھوتے ہیں رنگ کچا ھے یا پکا ، کالا ھے یا نیلا گندہ ھے یا خوش نما ذمہ دار والدین ہی ہیں پہلے اپنے رنگوں کو چیک کیجئے اسکے بعد اپنے بچوں کے کارناموں پہ ان کو برا بھلا کہیں کیونکہ آپکے بچے آپ ہی کا دیا رنگ اور تربیت کی چھاؤں میں پروان چڑھ کر آپ ہی کیلئے تکلیف اور عزیت کا باعث بنیں ہیں ۔ ۔ ۔
بھگتیں ۔ ۔ ۔

ہر دوسرا شخص فتووں کی زد میں ھے
پتہ نہیں علم بڑھ رہا ھے یا جہالت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں