215

سری لنکن شہری کا قتل! ملک کے خلاف سازش ؟ … (اکرم عامر، سرگودھا)



تحریر۔ اکرم عامر سرگودھا

ہمارا مذہب اسلام جہاں محبت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے وہاں ہمارے ملک میں شعائر اسلام اور حضور نبی پاکﷺ و انبیاءکرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کڑی سزا دینے کیلئے باقاعدہ قانون موجود ہے، جس کے تحت کئی مقدمات میں شعائر اسلام و انبیاءکرام کی توہین کے جرم میں گستاخوں کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں، ہمارے ملک میں اقلیتوں کو اپنی عبادت، رہن سہن، روایات کے تحت کام کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن جمعہ کے روز سیالکوٹ میں ایک المناک واقعہ پیش آیا، جس میں ہجوم نے فیکٹری پر حملہ کرنے کے بعد ایک سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کو تشدد کر کے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی، جس سے اس کے جسم کا اکثریتی حصہ جل گیا، اس واقعہ نے ملک کی حکومت اورقوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وزیر اعظم، آرمی چیف، وزرائ، وزراءاعلی سمیت ملک کا ہر شہری رنجیدہ نظر آ رہا ہے.

پریانتھا پر مبینہ الزام یہ لگایا گیا کہ اس نے مشین پر لگی مقدس تحریر کے پوسٹر اتروائے تھے، پریانتھا ایک غیر مسلم شہری تھا، اسے عربی پڑھنی نہیں آتی تھی، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر پریانتھا جو کہ سری لنکن شہری ہے نے کوئی غیر قانونی فعل کیا تھا تو اس کیخلاف فوجداری مقدمہ درج کرایا جاتا، عدالت اس کی سزا جزاکا تعین کرتی، لیکن ایسا کرنے کی بجائے جنونیوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر پریانتھا کو بہیمانہ طریقے سے موت کی نیند سلا دیا، جس سے پوری دنیا میں پاکستان اور پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے، سری لنکن عوام اور ملک کے وزیر اعظم نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا جس کے پیش نظر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو سری لنکن صدر گوٹابایاراجاپا کسے کو فون کر کے اظہار ہمدردی کرناپڑا، اور انہیں یہ بھی بتانا پڑا کہ پریانتھا کے قتل کے واقعہ کے 118 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کو سری لنکن ہم منصب کو بھی فون کر کے پریانتھا کے قتل کے حوالے سے وضاحت دیناپڑی اور انہیں یقین دلانا پڑا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی، سری لنکن وزیر اعظم نے بھی امید ظاہر کی کہ پریانتھا کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ ملک میں شاید یہ اکلوتا قتل ہے جس پر ملک کے وزیرا عظم کو سری لنکا کے صدر اور وزیر اعظم کو فون کر کے وضاحت کرنا پڑی اور سری لنکن حکومت کو یقین دلانا پڑا کہ واقعہ کے ملزموں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یہاں توجہ طلب امر یہ ہے کہ سری لنکن شہری کی موت جس طرح ہوئی اس پرمذہبی جماعتوں کے قائدین اور علماءکرام و ہر شہری مذمت کر رہا ہے، جو کہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستان اب کسی جنونیت کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر کسی نے کوئی گستاخی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہئے، اب تک سامنے آنے والے حالات واقعات کے مطابق واقعہ پلاننگ کے ساتھ کیا گیا، اور تاثر دیا گیا کہ سری لنکن فیکٹری منیجر نے مذہبی پوسٹر اتروا کر گستاخی کی؟ حالانکہ پولیس، حکومت اور ارباب اختیار کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، منیجر کا قتل فیکٹری میں صفائی والے نے کیا اور دوسری وجہ فیکٹری ملازمین کی سرزنش اور تنخواہ نہ بڑھانا بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعہ کو کرنے کے دو مقصد نظر آتے ہیں ایک تو پاکستان کو بدنام کرنا؟ دوسرا تحریک لبیک کو بدنام کرنا؟

ذرائع کہتے ہیں کہ فیکٹری میں کام کرنے والوں نے کچھ لبرل لوگوں سے مل کر یہ سب ڈرامہ کیا اور قتل چھپانے کیلئے اسے توہین مذہب کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قتل فیکٹری کے اندر ہوا تب کسی نے ویڈیو کیوں نہ بنائی اور اگر منیجر نے گستاخی کی تھی تو اس کی ویڈیو کہاں ہے کیونکہ بقول ذرائع فیکٹری میں کیمرے لگے ہوئے ہیں اور اس وقت بھی فیکٹری میں موجود اکثر لوگوں کے پاس موبائل فون موجود تھے۔ پھر لاش کو فیکٹری سے باہر لایا گیا اور سازش کا دوسرا پارٹ شروع ہوا، اور وہ تھا تحریک لبیک کو بدنام کرنا، سب نے مل کر لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانا شروع کر دیئے تا کہ قوم ، حکومت اور دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ واقعہ تحریک لبیک پاکستان نے کیا ہے؟ جس کی واضح مثال واقعہ کے فوری بعد پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کیخلاف سوشل میڈیا پر فوری ٹرینڈ چلا دینا بھی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف گستاخی کا ڈھونگ رچایا گیا تو دوسری طرف پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت تحریک لبیک کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، کیونکہ تحریک لبیک کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سو بات ہو رہی تھی سری لنکن شہری پریانتھا کے قتل کی یہ بات ابھی تک سامنے نہیں آئی کہ قتل ہونے والے نے کوئی گستاخی کی ہو اور نہ اس بارے کسی بھی گرفتار ہونے والے نے ابھی تک کوئی بیان پولیس کو دیا ہے کہ پریانتھا نے کب، کہاں اور کیا گستاخی کی تھی۔ تاہم یہ بات سامنے آئی ہے کہ سری لنکن شہری پریانتھا نے فیکٹری کی مشین پر لگے ایک پوسٹر جس پرعربی تحریر تھی اتروایاتھا، سری لنکن شہری عربی زبان سے لا علم بتایا جاتا ہے، اس طرح سری لنکن شہری کا قتل ملک کیخلاف سازش نظر آتی ہے، اور ملک میں قانون اور عدلیہ کے ہوتے ہوئے ایسے واقعہ کا رونما ہونا ماورائے عدالت قتل ہے، جس کے بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں ہے، ایسے واقعات ملک دشمن ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات سے ملک پر مزید پابندیاں لگ سکتی ہیں، حکومت وقت نے بروقت کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، اور اب سری لنکن شہری کے قاتلوں کیخلاف مقدمہ دہشتگردی کی عدالت میں چلے گا.

کیا ہی مناسب ہوتا کہ اگر سری لنکن شہری پریانتھا نے کوئی گستاخی کی تھی تو جنونی حملہ آور قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے پریانتھا کیخلاف قانونی کارروائی کرتے تو عدالت پریانتھا کی سزا جزا کا تعین کرتی، لیکن سینکڑوں جنونیوں نے قانون شکنی کر کے پاکستان اور قوم کا سر دنیا میں نیچا کر دیا ہے، اس طرح یہ جنونی کسی طرح بھی محب وطن نہیں ہو سکتے، حکومت بالخصوص وزیر اعظم پاکستان نے سری لنکن صدر و سری لنکن ہم منصب کو فون کر کے اظہار افسوس کر کے اور پریانتھا کیس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کر کے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے، کیونکہ دنیا کے اکثریتی ممالک کا میڈیا اس واقعہ پر اظہار افسوس کر رہا تھا، وزیر اعظم عمران خان نے معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر یہ بھی کہاہے کہ وہ اس مقدمہ کی براہ راست خود نگرانی کر رہے ہیں، اب پریانتھا کے قتل کا کیس انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چلے گا اور قاتلوں کی سزا جزا کا تعین عدالت کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں