227

کرنسی نوٹوں کی بے توقیری، حکومت خاموش کیوں؟ ۔۔۔ اکرم عامر۔سرگودھا



تحریر: اکرم عامر۔ سرگودھا

دنیا میں وہ قومیں اور ممالک ترقی کی حدوں کو چھوتے ہیں جو اپنے محسنوں، اسلاف، آباو اجداد، تہذیب وتمدن، ثقافت کی قدر کرتے اور اسے محفوظ رکھتے ہیں، جن قوموں نے ان چیزوں کو در گزر کیا اور انہیں پست پشت ڈال کرنئی روایات اپنائیں ان ممالک کی قومیں تباہ و برباد ہوکر جہالت اور بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں۔

ہمارا ملک اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں کے باسیوں کی اکثریت نے ہمیشہ اپنے محسنوں، تہذیب وتمدن، رہن سہن کو پروان اور روایات کی ترویج کی، اسی تناظر میں ملک بھر میں گاہے بگاہے ثقافتی پروگرام کئے جاتے ہیں جن میں تمام صوبوں کی ثقافت کے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ ماضی کی بعض روایات محب وطن لوگوں کےلئے تکلیف دہ بن کررہ گئی ہیں، جس کیلئے حکومت کو قانون سازی کی ضرورت ہے، راقم آج جس اہم مسئلہ کی طرف حکومت اور حکمرانوں کی توجہ دلانا چاہتا ہے وہ خوشیوں کی تقریبات میں کرنسی نوٹ نچھاور کرنا ہے، جن پر بانی پاکستان کی تصویر اور کئی نوٹوں پر محمد کا نام لکھا ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ قیام پاکستان سے قبل برصغیر بالخصوص پاک وہند میں انگریز دور میں خوشی کی تقریبات کے موقع پر کرنسی نوٹ جن پر اس وقت کے انگریز حاکمین وقت کی تصاویر ہوتی تھیں نچھاور کرنے کا رواج عام تھا، خوشی کی تقریب کے موقع پر ویل کی شکل میں کرنسی نوٹ دینے، گلے میں نوٹوں کے ہار پہنائے جانے ریزگاری نچھاور کرنے جیسی رسومات انگریز دور میں عام تھیں، لیکن قیام پاکستان کے بعد ملک کی کرنسی تبدیل ہوئی، کرنسی نوٹوں پر قائد اعظم محمد علی جناح جو کہ ملک کے بانی ہیں کی تصویر شائع کی گئی جو تا دم تحریر سٹیٹ بینک آف پاکستان ہر نوٹ پر شائع کر رہا ہے، جبکہ سٹیٹ بینک کے کئی گورنرز کے نام محمد سے شروع ہوتے ہیں جو من و عن نوٹوں پر بھی شائع کیے جاتے ہیں۔

تکلیف دہ امر یہ ہے کہ آج بھی مختلف صورتوں میں تقریبات شادیوں، میلے ٹھیلوں، کشتیوں، گھوڑا ناچ، مذہبی محافل، کبڈی میچوں، کرکٹ میچوں، موت کے کنویں، سرکس، بالخصوص خواجہ سراﺅں اور طوائفوں کے رقص، ڈھول کی تھاپ پر رقص اور مختلف روحانی ہستیوں کے عرس کی تقریبات پر داد دینے کیلئے کرنسی نوٹ نچھاور کیے جاتے ہیں، شادی بیاہ کی تقریبات میں فنکاروں کے مجرے ڈانس پارٹیوں علاقائی و ثقافتی رقص کے دوران بھی فنکاروں پر کرنسی نوٹ نچھاور کرنا معمول بن چکا ہے۔

کئی ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں، جن میں دولت کے نشہ میں دھت لوگ سڑکوں سے گزرنے والی بارات پر بھی نوٹ نچھاور کر کے اس بری روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ اپنا بڑا پن ثابت کر سکیں، ان تمام واقعات میں جس چیز کی بے حرمتی ہو رہی ہے وہ ہمارے ملک کے کرنسی نوٹوں پر شائع بانی پاکستان کی تصویر اور محمد کا نام ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ کرنسی نوٹ صرف لین دین میں استعمال ہوں تا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر اور محمد کے نام کی بے حرمتی کسی طور پر نہ ہو، قیام پاکستان سے اب تک اقتدار میں آنے والی کسی بھی حکومت نے اس کی طرف توجہ نہیں دی کہ وہ اس پر کوئی قانون سازی کرے اور تقریبات میں نوٹ نچھاور کرنے کی روک تھام کی جائے۔ جس کیلئے انعامات کے طور پر اکٹھی رقم ہاتھوں میں بھی دی جاسکتی ہے یا مستحقین کو تقسیم کرنے یا فنکاروں کو دینے کیلئے دیگر طور طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں تاکہ کرنسی نوٹوں پر شائع شدہ بانی پاکستان کی تصویر اور محمد کے نام کی بے توقیری نا ہو۔

پی ٹی آئی کے کپتان کی حکومت تبدیلی کے نعرے کی صورت میں وجود میں آئی ہے، لیکن کپتان یا اس کے کھلاڑیوں نے بھی اس اہم مسئلہ پر اب تک کوئی توجہ نہیں دی اور انگریز دور کی یہ روایت بدستور جاری و ساری ہے، کپتان کو چاہئے کہ موثر قانون سازی کرکے ان گھٹیا طور طریقوں سے خوشی کی تقریب میں دیئے جانے والے انعامات کو روکیں، اس ضمن میں حکومت کو چاہئے کہ قانون سازی کر کے کرنسی نوٹوں کی بے توقیری کرنے والوں کیلئے فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کی دفعات عائد کی جائیں، اور ایسے عناصر کو کڑی سزا دی جائے، جو کرنسی نوٹوں پر بنی قائد کی تصویر کی بے توقیری کرتے ہیں، کپتان جی اگر ایسا نہ کیا گیا تو انگریز دور کی یہ فرسودہ روایت بڑھتی چلی جائے گی اور اس صورت میں بانی پاکستان اور محمد کے نام کی بے حرمتی بھی ہوتی رہے گی۔

اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ دی جائے اور اسے قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے، آئین میں ترمیم کر کے تقریبات میں کرنسی نوٹ نچھاور کرنے پر پابندی عائد کی جائے، تا کہ بانی پاکستان اور محمد کے نام کی بے حرمتی جو آئے روز مختلف مقامات پر دیکھنے میں آتی ہے ختم کی جا سکے۔ اس سے محب وطن لوگوں کی دل آزادی بھی ختم ہو گی اور انگریز کی فرسودہ روایت بھی اپنی موت آپ مر جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں