54

تبدیلی خان کا قوم سے خطاب اور مسلسل جھوٹ … اطہر شریف

تحریر: اطہر شریف

تبدیلی خان کا آج قوم سے خطاب اب آئیے اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اعداد وشمار اور مستند حوالوں کے ساتھ.
قوم سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ دو کروڑ خاندانوں کیلئے پیکج لارہے ہیں جس سے 13 کروڑ پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، گھی، آٹا اور دال پر 30 فیصد سبسڈی ملےگی۔

ان کا کہنا تھاکہ 120 ارب روپے کا پیکج لارہے ہیں۔ اس کا حقیقت سے جائزہ لیتے ہیں۔ 120 ارب کا مطلب 1 کھرب 20 ارب روپے تقسم ہو گا 2 کروڈ خاندانوں میں۔ تو فی خاندان 6000 روپے حصہ آئے گا وہ بھی 6 ماہ میں۔ اس کا مطلب ہے ایک ہزار روپے مہینہ فی خاندان کا حصہ آئے گا۔ ایک خاندان میں اوسط” 6 افراد ہوتے ہیں تو فی فرد 166.66 روپے ماہانہ حصہ آئے گا اونٹ کے منہ میں زیرے کی بجائے ہاتھی کے منہ میں زیرے کے برابر ہو گا پوری قوم کے ساتھ مذاق ہے-

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھاکہ 3 سے 4 مہینے میں تیل کی قیمتیں 100 فیصد بھی بڑھ گئی ہیں لیکن ہمارے ملک میں 33 فیصد بڑھی ہے یہ بھی حسب روایات ایک بہت بڑا جھوٹ ہے۔ تبدیلی خان کے وزیر اعظم کے حلف 18 اگست 2018 کو لینے کے بعد دنیا میں ستمبر 2018 میں خام تیل کی قیمت 78.79 امریکی ڈالر تھی۔ 2018 میں ا وسط” 69.49 امریکی ڈالر۔ 2019 میں اوسط” 64.05 امریکی ڈالر۔ 2020 میں اوسط” 41.33 امریکی ڈالر اور 2021 میں جنوری سے لے کر نومبر 2021 تک اوسط” خام تیل کی قمیت دنیا میں 63.73 امریکی ڈالر ہے تبدیلی خان جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں کہ 100 ٪ فیصد قمیت میں اضافہ ہوا اگر ستمبر 2018 سے نومبر 2021 تک تیل کی عالمی منڈی میں صرف 5.24٪ فیصد اضافہ ہوا اگر 2021 کی اوسط” قمیت 63.73 امریکی ڈالر فی بیرل ہے سے مقابلہ کرۓ تو بھی بھی اضافہ 30.12% فیصد بنتا ہے نہ کہ 100٪

تبدیلی خان مسلسل قوم کو دھوکا دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گیس کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ امریکا میں قدرتی گیس کی قیمت میں 116 فیصد، یورپ میں 300 فیصد جبکہ پاکستان میں گھروں کو دی جانے والی گیس کی کوئی قیمت نہیں بڑھی، سب چیزیں ملک میں پیدا ہوں تو قیمت نہ بڑھنے دیں، جو مہنگائی باہر سے آرہی ہے، ملک میں کشتیوں میں سامان آتا ہے، فریٹ کی قیمتوں میں ساڑھے 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں گیس کے 3 کی بجائے 6 سلیب کر دیے اور اوسط اپریل 2018 میں گیس کی قمیت 310 روپے فی کیوبک میٹر سے بڑھا کے اوسط” 713.16 روپے یعنی 403.16 روپے اضافہ 130٪ کر دیا فرماتے ہیں کوئی نہیں کیا نچے اوگرا کا نوٹیفکیشن نمبر اور تاریخ بھی دی ہے- اگست 2021 میں تیل کی قمیت عالمی منڈی میں $70.33 ڈالر فی بیرل تھی ۔ نومبر 2021 میں 82.93 ڈالر فی بیرل۔ اضافہ 12.6 امریکی ڈالر فی بیرل اضافہ۔17.19 فیصد اضافہ۔

تبدیلی خان دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں کبھی بھی معاشی حالات اتنے برے نہیں تھے جو ہمیں ملے، قرضہ زیادہ اور تاریخی خسارہ تھا، زرمبادلہ ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے۔ 2018 میں مالیاتی خسارہ 6.5% فیصد 2021 میں بڑھ کر 7.1% فیصد ہو گیا ۔ تجارتی خسارہ 2018 میں 10.9% قیصد 2021 میں 9.3% فیصد.

قرضوں کی حقیقت
Total debt & liabilities (billion PKR) نواز شریف کی حکومت کے خاتمے پر 2018 میں 13541.2 ارب روپے
2021 میں 3 سالوں میں 2021 میں 17949.6 ارب روپے اضافے کے ساتھ 47,829.00 ارب روپے تک پہنچ گیا –
Total public debt as % of GDP نواز شریف کی حکومت میں 86.30٪ فیصد-
تبدیلی سرکار کے صرف 3 سالوں میں 100.30%٪فیصد –
آضافہ 14٪ فیصد 3 سالوں میں-

Gross public debt (billion PKR)
نواز شریف کی حکومت میں 24952.90 ارب روپے۔
تبدیلی سرکار کی حکومت کے صرف 3 سالوں میں 39,859.10 ارب روپے-
اضافہ 3 سالوں میں 14906.2 ارب روپے ۔

Gross public debt as % of GDP
نواز شریف کی حکومت میں 72.10% فیصد
تبدیلی جھوٹے وعدے اور خواب دکھانے والی کے دور میں 83.50% فیصد اضافہ صرف 3 سالوں میں
Total debt of government (billion PKR 2018 میں 23024.00 ارب روپے
نواز شریف کے دور میں اضافہ میں 35756.50 ارب روپے
تبدیلی سرکار کے دور میں 12732.50 ارب روپے اضافہ ہوا 3 سالوں میں
$Public external debt (billion US 2018 میں 70.2 ارب ڈالر نواز شریف دور میں-
2021 میں میں 85.6 ارب ڈالر اضافہ 15.4 بلین ڈالر صرف 3 سالوں –
Public external debt as % of GDP
نواز شریف کی حکومت 2018 میں 24.70% فیصد –
تبدیلی سرکار کے صرف 3 سالہ دور میں 28.20% فیصد-
Total external debt (billion US$)
نواز شریف کی حکومت کے خاتمے 2018 میں 34.3 بلین ڈالر اضافہ کا ساتھ بڑھ کر 95.2 بلین ڈالر ہو گیا-
تبدیلی سرکار کے صرف 3 سالوں میں 27 ارب ڈالربڑھ کر 122.2 بلین ڈالر پر پہنچ گیا ہے-

تبدیلی خان کہتے ہیں پاکستان میں اشیا علاقائی ممالک سے اب بھی سستی ہیں، ہم علاقائی ممالک سے مہنگائی کا تقابل کرتے ہیں، ملک میں پیٹرول کی قیمت بھارت اوربنگلا دیش کےمقابلے میں کم ہے جبکہ علاقائی ممالک میں غربت کی شرح پاکستان سےزیادہ ہے تقابلی جائزے میں یہ بات نہیں کرتے ان ممالک میں فی کس آمدنی آمدنی کتنی ہیں- صرف انڈیا سے مقابلہ کر لے چینی انڈیا میں 79 روپے کلو پاکستان میں 115 سے 123 روپے کلو ۔ صرف پیٹرول کا تقابلی جائزہ نہ لے باقی باقی عام آدمی کے استعمال کی اشیاء کا بھی جائزہ لیں۔ گڑ پاکستان میں 150 روپے انڈیا میں 119 روپے کلو۔ گھی پاکستان میں 350 روپے انڈیا میں 292 روپے کلو ۔ بناسپتی چاول پاکستان میں 160 انڈیا 112 روپے کلو۔ میدہ پاکستان میں 99 روپے انڈیا میں 50 روپے کلو۔ بیسن پاکستان میں 190 انڈیا 112 روپے کلو ۔آٹا پاکستان میں 75 انڈیا 57 روپے کلو۔سرخ مرچ پاکسان میں 360 انڈیا 228 روپے کلو ۔لپٹن یلو لیبل چائے 475 گرام پاکستان میں 590 انڈیا میں 390 روپے ۔سفید چنے پاکستان میں 150 اور انڈیا 128 روپے کلو-دال ماش پاکستان 235 روپے انڈیا 187 روپے کلو ۔ بجلی ریٹ اوسط” فی یونٹ 300 یونٹ پر 17.6 روپے انڈیا 14.3 روپے ۔ گیس فی 15 mmbtu average rate پاکستان میں 713.16 روپے انڈیا 180.75 روپے.

حوالہ جات (SOURCE)
OGRA SRO.795 DATED 01 JULY 2019
OGRA SRO. 726 DATED 30 JULY 2015
MINISTRY OF FINANCE 26 AUG 2021 CONSOLIDATED FISCAL
OPERATION
SBP 9 AUGUST 2021 LIQUID OF FOREIGN EXCHANGE
SBP 31 AUG 2021 PAKISTAN DEBIT AND LIABILITIES
OPEC
COUNTRY ECONOMY
INDIA MART
LAHORE AKBARI MANDI
KHISTOCKS
COMMODITIES CONTROL

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں