67

اصل آمد کی خوشی … (تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی)

تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

ماہ ربیع الاول کی آمد سے ہی پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان رہتے ہیں سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں اپنے اپنے انداز سے محبت و عقیدت کا اظہار دھوم دھام سے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جو کہ اپنے پیارے حبیب سے محبت و عقیدت کی بہت بڑی نشانی ہے لیکن ایسے حالات میں جہاں اپنی مرضی کی عقیدت اور الفت کی جا رہی ہو ایسے حالات میں ہم مسلمانوں کو محبت کے معیار کا پتہ ہونا چاہیے اور ساتھ ساتھ آمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کا بھی پتہ ہونا چاہیے کہ سرکار دوعالم اس دنیا میں تشریف لائے ان کے آنے کا مقصد کیا تھا، ان کا منہج کیا تھا، ان کی دعوت کیا تھی وغیرہ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سابقہ انبیاء و رسل علیھم الصلاۃ والسلام حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ تک جتنے بھی نبی رسول آئے سب کے آنے کا مقصد اور ان کی دعوت یہی تھی کہ انسان اللہ رب العزت کے در پہ آ جائیں اور جو ہم اللہ رب العزت کا پیغام لے کر اس دنیا میں آئے ہیں وہ انسانوں تک پہنچائیں۔

پیارے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کے مقصد کا تب ہی پتہ چلے گا جب ہم ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں گے، جب ان کے اخلاق حسنہ کا مطالعہ کریں گے، الغرض جب ان کی پوری زندگی سے اچھی طرح واقف ہوں گے ۔ تب ہمیں پتہ چلے گا کہ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کے آنے کا مقصد کیا تھا۔

آمد مصطفٰی کے کئی ایک مقاصد میں سے چند ایک قارئین کی نظر کرتا ہوں ۔تاکہ ہم حقیقی معنوں میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عملی محبت کر کےیعنی آمد مصطفی کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنی دنیا دنیا اور آخرت سنوار سکیں۔
آمد مصطفی کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ایک اللہ رب العزت کی عبادت کی جائے اس کے علاوہ سب معبودان باطلہ کی نفی کر دی جائے جیسا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بتوں کی پوجا کی جاتی تھی اور اللہ رب العزت نے آپ کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور “لاالہ الااللہ” کا کلمہ دے کر بھیجا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں باقی سارے معبود باطل ہیں صرف اور صرف اللہ رب العزت کے آگے ہی اپنے سر کو جھکایا جائے۔
آمد مصطفی کا دوسرا اہم مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اللہ رب العزت اور پیارے آقا کی بات مانیں ان کو جنت کی خوشخبری سنائیں اور جو لوگ اللہ رب العزت اور پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات نہ مانیں بلکہ من مانی کی زندگی بسر کریں ۔ناجائز خواہشات کے پیچھے پڑ کر اللہ اور رسول کی باتوں کو پس پشت ڈال دیں ان کو ڈرائیں عذاب سے جو اللہ رب العزت نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔

آمد مصطفی کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں رہنے والے انسانوں کا تزکیہ نفس کریں ان کو پاک کریں ان کو ظلمات سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ آپ نے کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعہ لوگوں کے اندر پائے جانے والی خرافات کو دور کر کے ان کا تزکیہ نفس کیا۔ جیسا کہ رب تعالی نے اپنی کلام پاک میں فرمایا :اللہ تعالیٰ ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے،یقینا اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔(سورۃ الجمعۃ 2)۔
آمد مصطفی کا چوتھا مقصد یہ ہے کہ جو اللہ رب العزت نے شریعت دے کر نبی پاک کو بھیجا ہےاس کو دنیا میں قائم کریں۔ لوگوں کو اس دین کی دعوت دیں،اس دین پر مکمل عمل کرنے کی تلقین کریں اور لوگوں کو ان کے دینی و معاشرتی تمام تر معاملات میں ہر طرح کے اختلافات سے دور رہنے کی تلقین کریں اور جب کبھی کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو اللہ کی وحی کے ذریعہ فیصلہ کرکے ان اختلافات کا حل کریں۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو (سورۃ النساء/105)

آمد مصطفی کا پانچواں مقصد یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پڑھ کر سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں کیونکہ آپ کی زندگی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنانا رب تعالی کا حکم ہے اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں اس بات کا اعلان فرمایا ہے : یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔
(سورۃ الأحزاب:21)۔

امام الانبیاء ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت دے کر پوری انسانیت کی طرف بھیجا ہے لیکن افسوس ہے کہ آج امت اسلامیہ کی اکثریت آمد مصطفٰی کے اہم مقاصد کو بھول چکی ہے۔ حالانکہ اصل آمد کی خوشی تب ہو گی جب بعثت کے مقاصد کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنے شب و روز کو گزاریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں