107

دن بدن بڑھتے معاشرتی مسائل اور بگاڑ کا تدراک کیسے ممکن؟ … (پیر فیضان علی چشتی)

تحریر: پیر فیضان علی چشتی

معاشرتی جرائم اور معاشرتی ناسور ہمارے معاشرے میں دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں کہیں کسی بچی کے ساتھ زیادتی تو کہیں نوجوان عورت کا ریپ، کہیں دن دیہاڑے چوری ڈکیتی تو کہیں شراب جوؤں کے اڈے، کہیں قتل و غارت تو کہیں غریب پر ظلم و زیادتی، کہیں کرپشن تو کہیں رشوت غرض کہ جدھر دیکھیں جس طرف جائیں جرائم اور معاشرتی ناسور سر اٹھاتے اور دن بدن بڑھتے آپ کو دکھائی دیں گے اور یہ سب قرآنی و نبوی قوانین کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے ہے ورنہ دور نبوی، دور خلفائے راشدین کا معاشرہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے وجہ کیا تھی کہ اس معاشرے میں طاقت کا راج نہیں تھا بلکہ قوانین نبوی کا راج تھا۔

بہرحال اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ان برائیوں اور بگاڑ سے پاک ہو یا پھر اس میں کمی واقع ہو تو ہمیں قرآنی قوانین کو فالو کرنا ہوگا اور ایک بات اور قابل غور ہے کہ جب بھی ہمارے معاشرے میں کوئی واقعہ سامنے آتا ہے تو تمام تجزیہ کار صحافی اینکر مختلف دینی سماجی سیاسی تنظیموں کے رہنما اور میڈیا اس پر رائے تبصرہ اور گفتگو کرتے نظر آتے ہیں مگر یہ کیوں ہوا؟ اصل وجہ کیا ہے؟ اور سدباب کیسے ہو سکتا؟ اس پر توجہ نہیں ہوتی معاملہ ویسے کا ویسے رفع دفع ہو جاتا ہے مسائل پر گفتگو کرنے کی بجائے اس کے تدارک حل اور سدباب پر گفتگو کی جائے اور اسی پر زور دیا جائے تو کافی حد تک معاشرے میں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں