66

قصہ سمندر کے غائب ہونے کا … (تنویر ساحر)

تحریر: تنویر ساحر

انسان نے ایسا شاید کبھی صدیوں پُرانی کہانیوں میں بھی نہ پڑھا ہو گا نہ فلموں میں دیکھا ہو گا ۔۔۔ کہ کوئی پورے کا پورا سمندر ہی ختم ہو جائے! اُس سے وابستہ تمام سمندری حیات اور سمندری روزگار ختم ہو جائے ۔۔ سمندر میں ہزاروں میل تک جو جہاز جہاں تیر رہا ہوں وہیں لوہے کا کاٹھ کباڑ بن جائے ۔ سمندر کا سارا پانی غائب ہو جائے اور پیچھے صرف نمک اور ریت کا صحرا رہ جائے ۔ یہ منظر کیونکہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا اس لیے ایسی کوئی خیالی کہانی یا فلم بھی شاید نہ بن سکی لیکن جِنوں، بھوتوں، پریوں اور ظالم دیو والے علاقے”کوہ قاف“ میں ایسا حقیقت میں ہو چکا ہے ۔ ”کوہ قاف“ بھی جِسے ہم بچپن میں کوئی ماورائی علاقہ سمجھتے تھے اسی کرہ زمین کا خطہ ہے۔

البتہ سمندر کے ختم ہونے کا یہ واقعہ پلک جھپکتے تو نہیں ہوا یہ منظر بنتے بنتے بیس سال لگ گئے یہ کوئی صدیوں پُرانا قصہ بھی نہیں ہے صرف 61 سال پُرانی بات ہے۔ ختم ہونے والی یہ دنیا کی چوتھی بڑی سمندری جھیل ازبکستان اور قازقستان کے درمیان واقع تھی جس کی لمبائی 68 ہزار کلومیٹر تھی۔ یہ سمندری جھیل اپنے شمال کی طرف سے 138 فٹ گہری تھی اور جنوب کی طرف اس کی گہرائی 335 فٹ تک گہری تھی ۔ دنیا بھر میں اس کرہ زمین پر تین حصے پانی اور ایک حصہ خُشکی ہے یعنی ہماری زمیں کا کل رقبہ 71 فیصد پانی پر مشتمل ہے جس کا صرف تین فیصد پانی ہی پینے کے قابل ہے۔

ہماری دنیا پہلے چار بڑے سمندروں میں تقسیم تھی جنہیں بحرہ ہند، بحرہ اوقیانوس، بحرالکاہل اور آرکیٹک اویشن کہا جاتا تھا اب کچھ سالوں سے ان میں ایک پانچویں سمندر کا اضافہ بھی ہو چکا ہے جو بحرہ منجمند جنوبی اور شمالی کہلاتا ہے جس کا پانی کم نمکین اور بہت زیادہ ٹھنڈا ہے۔ بڑے سمندر کو بحر کہا جاتا ہے جیسے بحر ہند چھوٹا سمندر بحیرہ کہلاتا ہے جیسے کہ بحیرہ عرب ۔ دنیا میں دس سے زیادہ سمندری جھیلیں موجود ہیں۔ مذکورہ ختم ہونے والی سمندری جھیل بحیرہ ارال کہلاتی ہے جس کا تاریخ میں پُرانا نام بحیرہ خوارزم تھا۔

خوارزم بھی ماضی کی بہت بڑی مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد اتنسر نامی سپہ سالار نے رکھی تھی خوارزم اُس کا لقب تھا اسی نام سے خوارزم صوبہ بنا خوارزمی سلطنت کا دارلحکومت ”اورگنج“ نامی شہر تھا خوارزمی سلطنت کے بانی اتنسر کے پڑپوتے جلال الدین خوارزمی کو اسلامی تاریخ کے طاقتور اور بہادر ترین سپہ سالار اور حکمران کا مقام حاصل ہے جس نے مغلوں، چنگیز خان اور باطنی فدائیوں کو متعدد بار شکست دی اس نے اپنی سلطنت ازبکستان میں قازقستان، افغانستان اور ترکمانستان کو بھی شامل کر لیا تھا۔ ایران، ترکی اور پاکستان کے کچھ علاقے بھی اس کی سلطنت میں شامل تھے۔ 626 ہجری میں جلال الدین خوارزمی کی وفات کے بعد خوارزمی سلطنت کا بھی خاتمہ ہو گیا اور کچھ صدیوں بعد بحیرہ خوارزم بھی ختم ہوا۔

تاریخ کے مشہور شہر سمر قند، بخارہ اور قوقند بھی اسی بحیرہ خوارزم پر واقع تھے ”کوہ قاف“ بھی اسی علاقے میں موجود تھا۔ اس علاقے کے دو بہت بڑے دریا تھے جنہیں دریائے ”آمو“ اور دریائے ”سیر“ کہا جاتا ہے دریائے آمو کا پُرانا نام دریائے ”جہیوں “ اور دریائے سیر کا پرانا نام دریائے ”سہیوں“ تھا.

ان دونوں دریاوں کا پانی دنیا کی چوتھی بڑی جھیل بحیرہ ارال میں گرتا تھا۔ جھیل کوئی چھوٹی نہر نہیں بلکہ یہ دریاوں سے بھی بڑی اور سمندر کے برابر ہوتی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جھیل ”پیرائٹھیسیں سی میگا لیک“ ہے جو سمندر سے بھی بڑی جھیل کہلاتی ہے۔

موجودہ روس اور پُرانے سوویت یونین میں 1918 کے دوران ولادی میر لینن نے بالشویکوں کی حکومت کے دوران فیصلہ کیا کہ دریائے”آمو“ اور دریائے ”سیر“ سے نہریں نکال کر ازبکستان کے صحرا میں آب پاشی کے ذریعے کپاس، تربوز اور اناج اُگائے جائیںـ ازبکستان کا ستر فیصد علاقہ پہلے ہی صحرا پر مشتمل تھا جس میں کاشت کاری کے لیے ان دونوں بڑے دریاوں سے نہریں نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا. جس پر 1930 میں باقاعدہ کام کرتے ہوئے نہروں کی کھدائی کا عمل شروع ہو گیا. ان نہروں کے پانی سے صحرا میں بے تحاشا کپاس کی فصل تو ہونے لگ گئی لیکن دونوں دریاوں کا پانی جو پہلے بحیرہ ارال میں گرتا تھا اب ان نہروں میں تقسیم ہو کر ازبکستان کے صحرا میں جانے لگ گیا جس سے بحیرہ ارال کے پانی میں کمی ہونے لگ گئی وہ بحیرہ ارال جو 1960ء تک ایک پورا سمندر تھا 1961ء سے 1970ء تک اس میں بیس سینٹی میٹر سالانہ پانی کم ہونے لگ گیا اور اگلے دس سالوں میں پانی کی یہ کمی پچاس سینٹی میٹر تک پہنچ گئی جس کے بعد بحیرہ ارال جو 68 ہزار کلومیٹر طویل تھا صرف 28 ہزار کلومیٹر رہ گیا پانی کی کمی کے باعث 1987 میں بحرہ ارال دو حصوں میں بٹ گیا جن کو ملانے کے لیے ایک نئی نہر بھی کھودی گئی لیکن 1999 میں پانی کی کمی سے وہ نہر بھی بند ہو گئی اور اب 68 ہزار کلومیٹر والے اس بحیرہ ارال کا 90 فیصد علاقہ ایسے بیابان صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں موجود سینکڑوں زنگ آلود بحری جہازوں سے ہی لگتا ہے کہ کبھی یہ سمندر تھا اس میں جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو اس کی ریت اُڑ کر ایشیاء کے چاپان اور دیگر قریبی مغربی ملکوں تک بھی چلی جاتی ہے۔ تمام سمندری حیات اور کاروبار ختم ہونے سے وہاں کے لاکھوں ماہی گیر اور دیگیر مکین شہر کے شہر خالی کر کے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ سمندر میں موجود 35 اقسام کی لاکھوں مچھلیاں ختم ہو چکی ہیں آبی پرندے سالوں سے کوُچ کر چکے ہیں بحیرہ ارال کی بندرگاہ کا اب کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

ازبکستان جو پہلے ہی ستر فیصد ریگستان تھا اب بحیرہ ارال کا 58 ہزار کلومیٹر علاقہ بھی صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے جسے کوئی انسانی ترقی دوبارہ سمندر میں تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہے ۔۔ ہمارے دو بڑے دریا راوی اور ستلج بھی پہلے پاکستانی سمندر میں گرتے تھے لیکن سندھ طاس معاہدے کے بعد ان کا پانی انڈیا نے روک کر ڈیم بنا لیے ستلج اور راوی سمیت دریائے بیاس سمندر میں گرنے کی بجائے ختم ہو کر رہ گئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو ان قدرتی تبدیلیوں کے باعث ہم گوادر کو پاکستانی ترقی کا سنگ میل سمجھتے سمجھتے اپنے سمندر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت، لاہور)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں