103

نور مقدم کا قتل اور پاکستانی سوسائٹی … تنویر ساحر

تحریر: تنویر ساحر

نور مقدم کا قتل پاکستانی سوسائٹی کے لیے بہت ہی ہولناک قتل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قاتل ظاہر جعفر نفسیاتی مریض تھا تو پھر ہر قاتل کہیں نہ کہیں سے تو نفسیاتی مریض ہوتا ہی ہے۔ قتل جیسے سنگین جُرم کا ارتکاب نارمل انسان کب کرتے ہیں؟

بیس جولائی کو عید کی رات اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل سے تقریبا” تین ماہ قبل لاہور میں 26 سالہ برطانوی نژاد پاکستانی لڑکی مائرہ ذوالفقار بھی تین مئی کو قتل ہوئی تھی۔

قتل کے اِن دونوں ہولناک واقعات میں بہت ساری مماثلت موجود ہے جس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں قتل ہی ہولناک نہیں ہیں بلکہ ایلیٹ کلاس پورا معاشرہ ہی ہولناک دوراہے پر آ کھڑا ہوا ہے۔

دونوں مقتول لڑکیوں کی عمر 26 سال تھی، دونوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا، دونوں لڑکیاں اپنے والدین سے جھوٹ بول کر گھروں سے نکلی تھیں، دونوں لڑکیوں کو اُن کے قریبی دوستوں نے قتل کیا، دونوں لڑکیوں اور اُن کے قاتلوں کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا، دونوں لڑکیوں کے گھروں میں اتنی آزادی تھی جس کا ابھی بھی پاکستانی معاشرے میں تصور نہیں کیا جا سکتا، کہ مقتولہ مائرہ ذوالفقار گھر میں دوبئی کا کہہ کر نکلی اور لاہور کے ڈیفنس فائیو میں اپنی دوست کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہائش پذیر ہو گئی جس سے والدین لاعلم تھے۔ مقتولہ نور مقدم گھر سے لاہور کا کہہ کر نکلی اور اسلام آباد ہی کے سیکٹر ایف سیون فور میں قاتل ظاہر جعفر کے گھر پہنچ گئی جو اس کے بچپن کا دوست تھا۔ دونوں مقتول لڑکیاں اپنے دوستوں کے ٹریپ کرنے یا اُن کے ورغلانے پر اُن کے جھانسے میں آ کر خود اُن کے پاس پہنچیں یہی دوستی اُنہیں موت کی آغوش میں لے گئی۔

اِن دونوں واقعات کے درمیان میں ایک اور ہولناک واقعہ بھی رونما ہو چکا ہے جب لاہور کی ایک لڑکی اپنے دوست سے ملنے اسلام آباد ہی کے سیکٹر ای الیون میں عثمان مرزا کے فلیٹ پر پہنچ گئی پھر وہ جس صورت حال سے دوچار ہوئے وہ ہولناکی بھی پورے معاشرے نے دیکھی کہ بظاہر اُن کی زندگی تو بچ گئی لیکن شاید اب اُن کے ہونے والے بچے بھی اس واقعہ کو ساری عمر سینے سے لگائے پھریں گے۔

پاکستان میں 80ء کی دہائی تک یونیورسٹیوں میں بھی لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان ایک ہی کلاس کے اندر دیوار نما عارضی پردہ حائل ہوتا تھا۔ پھر یورپ کی اندھی تقلید میں ہماری ایلیٹ کلاس نے پاکستان کے اندر اپنے گھروں میں ایک مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دے دیا۔ رہی سہی کسر انٹر نیٹ کی آمد اور سوشل میڈیا نے نکال دی۔

بات ہو رہی تھی پاکستانی سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 26 سالہ نور مقدم کے ہولناک قتل کی، قاتل اور مقتولہ کی دونوں فیملیاں آپس میں پُرانے قریبی تعلق دار ہیں قاتل اور مقتولہ بچپن کے دوست ہیں قاتل ظاہر جعفر کی حرکتیں ٹھیک نہیں تھیں وہ امریکہ سے اس لیے ڈی پورٹ ہو چکا تھا کہ وہاں اُس نے اپنی ماں کو باندھ کر تشدد کیا جس کے بعد مقتولہ نور مقدم کے والد نے اپنی بیٹی کو قاتل سے ملنے اور رابطہ رکھنے سے منع کر دیا. لیکن لڑکی اپنے والدین سے چھپ کر رابطے میں رہی۔

وقوعہ سے دو دن قبل بھی نور مقدم اپنے گھر میں دوستوں کے ساتھ لاہور جانے کا بتا کر ملزم ظاہر جعفر کی کوٹھی پر پہنچ گئی۔ جہاں دو گارڈ ایک خانساماں اور ڈرائیور بھی موجود تھے اتنے ملازمین کی موجودگی بھی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ ایلیٹ کلاس کے ملازمین بھی اُن کے ذہنی غلام ہوتے ہیں جو اپنی آنکھوں کے سامنے مالکان کی درندگی دیکھ کر بھی بطور انسان نہ مزاحمت کر سکتے ہیں نہ شور ڈال سکتے ہیں۔ قاتل ظاہر جعفر کیسا نفسیاتی مریض ہے جو قتل کی کئی روز پہلے پلاننگ کرتا ہے اپنے دوستوں سے مشورہ بھی کرتا ہے کہ اگر وہ پاکستان میں قتل کر دے تو غیر ملکی شہری ہونے کے باعث اُسے تو گرفتار ہی نہیں کیا جا سکتا. دوست پوچھتے ہیں کہ کس کو قتل کرنا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں فیملیوں کے دوست بھی مشترکہ ہیں اس لیے یہ بات قتل کے بعد مقتولہ کی فیملی تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ یہ نفسیاتی مریض قاتل کتنی پلاننگ سے نور مقدم کو ٹریپ کرتا ہے کہ اب ہمارے ملنے پر تو پابندی ہے ہم زندگیاں ساتھ نہیں گزار سکیں گے تو اب یہ آخری عید ہی اکٹھی ساتھ گزار لیں وہ نور مقدم کو جذباتی ٹرانس میں لا کر اس بات پر راضی کر لیتا ہے کہ وہ گھر بتائے بغیر اُسے عید ملنے آ جائے اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا تو ملنے نہیں دیں گے۔

نرم دل معصوم نور مقدم جو کُتے، بِلیوں اور پرندوں تک کی خوراک کا خیال رکھتی ہے، تکلیفوں میں مبتلا انسانوں کے دُکھ درد بانٹنے کے لیے سوشل ورک کرتی ہے، وہ معصوم نور مقدم اس ظالم درندے کے جھانسے میں آ کر والدین کو بنا بتائے اسے ملنے پہنچ جاتی ہے، تو یہ درندہ اُس کا موبائل فون بھی آف کر دیتا ہے، کہ گھر سے آنے والی کالز ہمیں ڈسٹرب نہ کریں ۔۔۔۔ اُس کے بعد دو دن تک ظلم و بربریت کی کیا دلخراش داستان رقم ہوتی ہے ۔۔۔ گھر سے اکیلی نکلی وہ معصوم لڑکی جو کسی درندے کا دل رکھنے کے لیے نکلی ہے ۔۔۔ اُس کے نازک دل پر کیا کیا بیتی ہے. اُس ہولناکی کا ہم زندہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتے ۔۔۔ وہ بربریت جھیلنے والی تو اس عالم میں دنیا سے رخصت ہو چکی ہے کہ اس کی گردن بھی تن سے جُدا تھی. عید کے دن جب جانوروں پر چُھریاں چلتی ہیں وہ درندہ ایک معصوم لڑکی کی گردن کاٹ چکا تھا۔

جب تک والدین اور پولیس اُس کی آ خری موبائل لوکیشن ٹریس کر کے اُس تک پہنچے وہ حساس دل لڑکی ہولناک اذیتیں سہہ سہہ کر یہ دنیا چھوڑ چکی تھی۔ ملزم کے قبضہ اور جائے وقوعہ سے آلہ قتل چُھری، پستول اور آہنی مُکا برآمد ہو چکا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مقتولہ کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل کی ہدایت پر قتل کی تعفتیش کے لیے ایس ایس پی انوسٹی گیشن اسلام آباد عطاالرحمٰن کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے. جس کے ممبران میں اے ایس پی آمنہ بیگ اور متعلقہ ایس ایچ او شامل ہیں۔ جائے وقوعہ سے بندھے ہوئے ہاتھ پاوں سے ملنے والا ملزم ظاہر جعفر پولیس حراست میں ہے. ڈیوٹی مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کی عدالت سے پہلے تین روز اور پھر دو روز 26 جولائی تک کا جسمانی ریمانڈ بھی پولیس کو مل چکا. ان تمام اقدامات سے ملزم ہو سکتا ہے سزا تک پہنچ جائے ۔۔۔۔ لیکن معصوم نور مقدم کبھی واپس نہیں آئے گی ۔۔ جس سے پاکستانی باقی موجود تمام نوجوان لڑکیوں کو یہ سبق اپنے پلے سے باندھ لینا چائیے کہ دوست بچپن کا ہو یا چند دنوں کا کبھی بھی اُس کے پیار کے جھانسے میں آ کر گھر سے مت نکلیں. دنیا بھر میں اُن کا والدین کے علاوہ کوئی سچا دوست نہیں ہے. کوئی پتہ نہیں کس کا دوست کس وقت درندہ بن جائے. کس کا پیار اُس کی زندگی چھین لے یا زندگی بھر اسے بلیک میل کر کے اس کی زندگی برباد کر دے. اپنی عزت اور جان بچانے کے لیے اس نسل کی لڑکیوں کو اپنے اوپر یہ پابندیاں خود عائد کرنا ہوں گی. کیونکہ والدین کی دی گئی آزادی کا غلط فائدہ اُٹھانے کا ہمیشہ غلط نتیجہ ہی نکلتا ہے۔ (بشکریہ روزنامہ نوائے وقت. لاہور)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں