60

نور مقدم کیس … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی.

اس کیس کے بارے میں آپ سب اتنا پڑھ چکے ہیں کہ تفصیلات دہرانا بوریت پیدا کرے گا۔ میرا تجزیہ یہ ہے ظاہر جعفر ذہنی مریض ہے اور یہ ثابت ہوجائے گا۔ قوی امکان ہے کہ اسے شیزوفرینیا کی ایک قسم ہو جس میں ایک دم غصہ آتا ہے aggression and impulsivity. اگر ایسا ہوا تو قتل کا hallucination کے باعث ہونا ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا۔
تاہم یہ مریض مکار بھی بہت ہوتے ہیں۔ میری رائے ہے کہ نور کی کسی بات سے غصے میں تشدد سے اس سے نور کا قتل ہوگیا اور اس کا سر اس نے جان بوجھ کے کاٹا تاکہ یہ عمل اس کی ذہنی بیماری کا ثبوت بنے کیونکہ اس کے وکیل کا دفاع یہ ہوگا کہ کوئی نارمل آدمی قتل کے بعد سر کیوں کاٹے گا؟

ظاہر کے والدین بچ جائیں گے کیونکہ بالغ مرد اور عورت کے کمرے سے آنے والی چیخوں سے سینکڑوں میل دور بیٹھے والدین قتل کا گمان کیسے کرسکتے تھے۔ یہ تو ان کا روز کا سیاپا ہوگا! مزید یہ کہ انھوں نے ری ہیبلیٹیشن تھراپی ٹیم کو فون کرکے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی اور اپنا دفاع پیدا کرلیا۔

مرزا پور کے ”کمپاؤنڈر“ اور “للت” کی طرح دونوں ملازمین “لگے جائیں گے“ کیونکہ انھوں نے قتل ہونے سے نہ روک کر اور مدد مانگنے کے باوجود مقتولہ کی مدد نہ کرکے معاونت جرم کی۔ ویسے بھی راجہ کو بچانے کے لئے پیادے قربان ہوتے ہیں۔

سب سے اہم بات ہے کہ ہم سب کو اپنی اپنی ”نور“ کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔ یہ victim blaming نہیں احساس ذمہ داری ہے۔ کوئی لڑکی جنگل میں بھیڑیئے کے منہ میں خود چلی جائے تو کیا یہ Victim blaming ہوگی؟ انسانوں کے روپ میں کتنے بھیڑیئے پھر رہے ہیں۔ یہ محض ڈائیلاگ ہیں کہ مرد کی اجارہ داری کو ختم کرو۔ عورتیں خود یہ نہیں چاہتی ہیں۔ کوئی عورت، ماں کے روپ میں یہ نہیں چاہے گی کہ اس کے بیٹے کی اجارہ داری بہو پر کم ہو اور وہ ”تھلے لگ جائے“! عورت اچھے بیٹے پالے گی تو اجارہ داری ختم ہوجائے گی، masculine toxicity بھی۔

آج کل سوشل میڈیا پر دس خواتین پر ظلم کی تصویریں گردش کررہی ہیں۔ ان میں سے صرف قرۃ العین شادی شدہ تھی باقی زیادہ تر بغیر شادی کے تعلقات۔ دو بالغ مرد عورت جیسے بھی چاہیں مرضی سے تعلقات رکھ سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی منافق مرد شادی کے بغیر تعلقات کے لئے ابھی میچور نہیں ہے۔ بیرون ممالک کافر گرل فرینڈ کو وہی عزت اور رتبہ دیتے ہیں جو بیوی کو لیکن پاکستان میں گرل فرینڈ کو آج بھی ”پھنسائی“ ہوئی کا خطاب دیا جاتا ہے۔ کوئی مرد اپنی بیوی کی پرائیویٹ تصویریں کسی دوست کو نہیں دکھاتا لیکن گرل فرینڈ یا ”پھنسائی ہوئی“ کی ضرور دکھاتا ہے۔ اسی لئے تشدد کرتے وقت بھی لاشعوری طور پر بیوی کا خیال یا بچوں کا احساس کہیں نہ کہیں ہاتھ روک دیتا ہے لیکن بغیر شادی کے حاصل عورت کو مار کر وہ لاشعوری طور پر ایک ”بری عورت“ کو مار رہا ہوتا ہے جس کی اس کی نظر میں بستر میں آنے کے بعد کوئی عزت اور اہمیت نہیں رہتی خواہ بظاہر ایسا لگے کہ ہے۔ ایسے جانوروں سے خود کو بچانا عقلمندی ہے۔ یہ نصیحت صرف عقل والوں کے لئے ہے اور جنھیں یہ عقلمندی victim blaming لگے وہ بخوشی اپنے مشاغل جاری رکھیں۔ ان سے پیشگی معذرت!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں