155

کرونا وائرس اور تعلیمی پسماندگی

تحریر: ڈاکٹرفیاض احمد

آج ان نوجوانوں کو کیسے اس بات پر قائل کریں گے کہ تعلیم کامیابی کی کنجی ہے جو اپنے اردگرد تعلیم یافتہ لوگوں کو غریب اور مجرموں کو امیر پاتے ہیں. کسی بھی ملک کی معاشیت کو تباہ و برباد کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے اس ملک کے معیار تعلیم کو گرا دو ملک خودبخود ہی ختم ہو جائے گا کیونکہ علم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے. علم کی پستی ملک وقوم کا زوال ہے. کسی ملک کی علم کی روشنی کو بجھاﺅ گے تو اس ملک کو بغیر ایٹم بم کے ختم کر سکتے ہیں. اس لئے علم کی شمع بجھنے سے پہلے ہی اس کی حفاظت کرنی چاہیے.

“علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نا جانا پڑے” ان دنوں تو ہمارے ملک کا نظام تعلیم تو بہت ہی کمزور ہو چکا ہے. ماسٹر ڈگری ہونے کے باوجود ہم میں اتنی بھی قابلیت نہیں ہے کہ ہم بتا سکیں کہ ہم نے کیا پڑھا ہے. کیوں کہ آجکل کی تعلیم صرف اور صرف پیسوں سے ہوتی ہے. پرائیویٹ سکولوں اور اکیڈ میوں نے تو تعلیم کو صرف اور صرف کاروبار بنا لیا ہے. فیسیں زیادہ ہیں تو سکول اچھے ہیں، سکول والے پیسوں سے طلباءکی پوزیشن لگواتے ہیں، جس سے معاشرے میں مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے. جب ہم اپنے مستقبل کے بچوں کے ساتھ اس قسم کا دھوکہ کریں گے تو عذاب الہٰی برپا کیوں نہیں ہوگا.

آجکل ایک بیماری کرونا وائرس بھی ایک عذاب الہی ہے، مگر ہم اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہیں اس وائرس نے تو باقی کی کسر بھی پوری کر دی. اب تو تعلیمی اداروں کی موجیں لگ گئی ہیں. بغیر اخراجات کے فیسوں کے نام پر منافع ہی منافع۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ وہاں پر پڑھانے والے بھی ٹیویشن سنٹرز اور اکیڈمیوں کے نام پر اپنے فرائض سے غافل ہو چکے ہیں. پہلے دور میں سکول اور اساتذہ ایمانداری سے پڑھاتے تھے مگر آجکل تو سکول کا صرف نام ہوتا ہے. اصل میں پڑھائی تو اکیڈ میوں میں ہوتی ہے، دولت کی حوس نے انسان کو اندھا کر دیا ہے، اس کو پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے. ایک معلم ایک قوم کا معمار ہوتا ہے اگر معمار ہی اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائے گا تو قوم کیسے ترتیب سے چلے گی. طلبہ کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں اگر ایسا معیار تعلیم اور کرونا وائرس کا سلسلہ جاری رہا تو ملک و قوم کا مستقبل کیسا ہولناک ہو گا ذرا سوچیں۔

ہمارے معاشرے میں گورنمنٹ کی جاب حاصل کرنا سب سے مشکل کام ہے کیونکہ اچھے معیار تعلیم کے ساتھ اچھی سفارش اور نوٹ ہونے بھی ضروری ہیں. گزشتہ دنوں کی بات ہے کہ لیکچرار کے امتحانات ہوئے مگر رزلٹ افسوس ناک ۔۔۔۔ طلبہ کا معیار تعلیم اتنا اچھا تھا اور ہمارے اداروں اور اساتذہ کی انتھک محنت اتنی رنگ لائی کہ طلبہ نے سو میں سے چالیس نمبرز بھی لینے سے قاصر رہے. ہمارے لئے باعث شرم بات ہے مگر ہم بے شرم ہیں کیونکہ شرم تو آنے جانے والی بات ہے دولت نہیں۔ ہم بس ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں.

سرکاری اساتذہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں کیوں پڑھاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا۔ ہم کس سسٹم کی پیداوار ہیں؟ ہم نے ماسٹر کی ڈگری تو فرسٹ کلاس میں حاصل کر لی مگر ہمارے معیار تعلیم پر تو سوالیہ نشان ہے، کہ ہم نے ڈگری کیسے حاصل کی؟ اسی طرح تعلیمی معیار کی پہلی درس گاہ ماں ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے عورت کی تعلیم و تربیت پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی بلکہ عورت کی تعلیم کو معاشرے میں برا مانا جاتا ہے. جہاں پر عورت کی تعلیم پر پابندی نہیں. وہاں پر معیار تعلیم ناقص ہے. تعلیمی معیار کی دوسری درسگاہ معلم ہوتا ہے معلم کو معلم بننے سے پہلے معلم کے فرائض سے آگاہی ہونا ضروری ہے. معلم کو انسان روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے جس شخص کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے وہی انسان اپنی اولاد کو بگاڑنے میں مصروف عمل ہے. آج کے معلم نے لالچ کے عوض اپنی عزت وقار کو کھو دیا ہے.

آج کل استاد کی وہ قدر نہیں جو زمانہ قدیم میں ہوتی تھی. اس وقت کے اساتذہ بے لوث ہوتے تھے جس کی وجہ سے شاگرد بھی عزت کرتے تھے، مولانا رومی جو علامہ محمد اقبال کے استاد تھے، مولانا صاحب کے شاگرد مولانا صاحب کے گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل کر علم حاصل کرتے تھے. آج نہ وہ استاد ہیں اور نہ وہ شاگرد۔ تعلیمی پسماندگی کی تیسری درسگاہ ادارے ہیں جو پہلے بھی بہتر کارکردگی سے قاصر تھے، باقی رہی کسر کرونا وائرس نے پوری کر دی تعلیمی اداروں کی بندش اور امتحانات کا ملتوی ہونا، طلبہ کے لئے حکومتی نوکریوں کا فقدان ہے، کیونکہ اس طرح سے ڈگری اور امتحانات میں تاخیر کی وجہ سے طلبہ کو عمر کے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑے گا. قوم کے مستقبل کو ہم ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے. پہلے معیار تعلیم کی کمی پھر تعلیمی ادارے بنداور اب شروع ہوں گے عمر کے مسائل۔۔۔۔

جب معاشرے میں یہ ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں تب پیدا ہوتے ہیں بدمعاش، غنڈے اور چور۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ نوبت بہاں تک آجائے ابھی بھی وقت ہے ان مستقبل کے ستاروں کو ٹوٹنے سے بچالیں اگر ایسا نہ کیا تو بے روزگاری اور طعنوں کی آندھی ان کو اڑا لے جائے گی، پھر اس وقت ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ ہو گا…
ذرا سوچیے!!۔۔ تھانوں میں رحم نہیں ۔۔ سکولوں میں تعلیم نہیں ۔۔ عدالتوں میں انصاف نہیں ۔۔ دلوں میں ایمان نہیں ۔۔ رشتوں میں احساس نہیں ۔۔۔ خون میں وفا نہیں ۔۔ نصیحت میں اثر نہیں ۔۔ یا اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرما .. آمین!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں