112

یورپی یونین کی پاکستان مخالف قرارداد کا جائزہ … (صاحبزادہ مبشر علی صدیقی)

تحریر: صاحبزادہ مبشر علی صدیقی۔

یورپی یونین کے اجلاس میں پاکستانی توہینِ مذہب اور توہین رسالت کے قوانین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان فی الفور ان قوانین کو معطل کرے اور موت کی سزا سنائے جانے والے دو عیسائی قیدیوں کو بھی رہا کرے ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو یورپی ممالک میں ٹیکسٹائل پروڈکٹس کی برآمدات پر جی۔ایس۔پی کی رعایت ختم کر دی جائے۔ مذکورہ قرارداد پر عجیب و غریب بحثوں اور افواہوں کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے کہ نعوذباللہ اس قرارداد کے بعد پاکستان صفحہِ ہستی سے مٹ جائے گا ۔

اس حوالے سے چند باتیں سمجھنی ضروری ہیں فی الحال یہ صرف قراردادپیش کی گئی ہے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل پروڈکٹس پر جی۔ایس۔ پی کی رعایت ختم کردی گئی ہے بلکہ اس پر نظر ثانی یا عارضی طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے.
جی ایس پی کیا ہے؟
جی ایس پی گلوبل۔سروس ۔ پرووائیڈر کا مخفف ہے اس کے ذریعے یورپی درآمدات کو ٹیکس فری قرار دیا جاتا ہے %75 پاکستانی برآمدات برائے یورپی ممالک کو یہ رعایت حاصل نہیں ہے جن میں باسمتی،ماربل،وغیرہ شامل ہیں ۔ صرف ٹیکسٹائل پروڈکٹس کو یہ رعایت حاصل ہے جو پاکستان کی یورپ میں برآمدات کا ٹوٹل 15% سے %20 ہیں۔

کیا یورپ واقعتا پاکستانی ٹیکسٹائل پر جی۔ایس۔پی کی رعایت ختم کرسکتا ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ یورپ جی۔ایس ۔ پی کی رعایت ختم نہیں کرے گا بلکہ یہ قرارداد محض ایک دھمکی ہے اس کی کوئ حیثیت نہیں ہے۔

یورپ اس وقت تین ممالک سے ٹیکسٹائل پروڈکٹس خریدتا ہے : پاکستان،بھارت،بنگلہ دیش ۔
پاکستان سے ٹیکسٹائل پروڈکٹس خریدنا یورپ کی مجبوری ہے کیونکہ فی الحال بھارت اور بنگلہ دیش کرونا وائرس کے سبب اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ٹیکسٹائل پروڈکٹس یورپ کو برآمد کرسکیں ۔ اس صورتحال میں پاکستان ٹیکسٹائل پروڈکٹس بند کردے تو یورپ کے پاس کوئی دوسرا رستہ نہیں ہے ۔ بالفرض ٹیکسٹائل پروڈکٹس سے جی۔ایس۔پی کی رعایت ختم بھی کردی جائے تو ہم تباہ و برباد نہیں ہو جائیں گے جہاں %75 برآمدات پر ہم یورپ کو ٹیکس دے رہے ہیں تو %15، %20 برآمدات پر مزید ٹیکس دے کر صفحہ ہستی سے نہیں مٹ جائیں گے ۔

ایسی بلیک میلنگ،دھمکیاں ، پابندیاں معمول کی کارروائی ہیں ماضی میں بھی بہت سی معاشی اور دفاعی پابندیوں کا سامنا ہم کر چکے ہیں الحمدللہ ان سب سازشوں کے باوجود پاکستان پوری آب و تاب کے ساتھ عالم وجود میں ہے. میں یہاں بطور مثال امریکہ بہادر کی پاکستان کے خلاف لگائی گئی پابندیوں کا ذکر کرتا چلوں۔

ان نوازشات کا آغاز 1965 کی جنگ سے ہوا پھر محبتوں کا یہ سلسلہ تھوڑے بہت وقفے کے ساتھ 1977،1979،1998،1999، میں بھی جاری رہا ۔

تمام پابندیاں وطن عزیز کی ترقی کو نہ روک سکیں بحمد اللہ تعالیٰ آج پاکستان دنیا کے 196 آزاد ممالک میں یو۔ایس ۔ نیوز اور ورلڈ رپورٹ کے مطابق بلحاظ معیشت ٹاپ 22 ممالک میں شامل ہے جبکہ دفاعی لحاظ سے پاکستان دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے۔

مذکورہ یورپی یونین کی قرارداد سے مرعوب ہوکر پاکستان کی نظریاتی،اسلامی اساس کے خلاف کوئ بھی فیصلہ کرنے سے باز رہنا چاہیے ۔ اس معاملے میں کوئی بھی غلط فیصلہ مملکت خداد کا امن وسکون تباہ کرسکتا ہے۔ پاکستان اپنی خود مختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے خود کرے اب بیرونی دباؤ، بلیک میلنگ یا فنڈز کے لالچ میں آکر فیصلے کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔

میری رائے ہے کہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاکر ملک کا بہت سا قرض بھی اتارا جاسکتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب قوم سے خطاب کریں اور انہیں بتائیں کہ ہماری معاشی صورت حال بہت خراب ہے جس کی وجہ سے یورپ ہمیں بلیک میل کر رہا ہے ہمیں مجبوراً کوئی ایسا قدم نہ اٹھانا پڑجائے جو اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے خلاف ہو میری تمام محب وطن پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ اگر آپ اسلامی قوانین کا تحفظ چاہتے ہیں تو وطن عزیز کے لیے فنڈ دیں تاکہ ہم یورپ کا سارا قرضہ اتار کر آئے روز کی بلیک میلنگ سے بچ سکیں۔

میری ناقض رائے ہے مذکورہ طریقے سے فنڈ ریزنگ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فنڈ ریزنگ ہوگی لوگ اپنے گھر تک بیچ کر تحفظ ناموس رسالت و تحفظ اسلام کے نام پر فنڈز فراہم کر دیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں