151

چک داتار سنگھ ریلوے اسٹیشن ۔۔۔ (احمد نعیم چشتی)

تحریر: احمد نعیم چشتی

پاکپتن سے ڈھلتے سورج کے تعاقب میں ایک چھوٹی سی سڑک نکلتی ہے۔ پاکپتن سے کراچی جاتی صد سالہ بوڑھی ریلوے لائن بھی اسی سڑک کے ساتھ ساتھ بچھی چلی جاتی ہے۔ آس پاس گندم کے سرسبز کھیت لہرا رہے ہیں۔ کھیتوں سے ریل گاڑی چھک چھک کرتی گزرتی ہے تو ذرا فاصلے سے یوں دکھائی پڑتا ہے گویا کسی بچے کی کھلونا گاڑی سبز مخملی قالین پہ پھسلتی چلی جا رہی ہو۔ بھٹوں کی چمنیوں سے دھوئیں کے مرغولے نکل کر ہوا کے رخ بادلوں کی طرح اڑے جا رہے ہیں۔

شہر سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ٹیلے پہ آباد چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں ایک گردوارہ بھی ہے۔ اس گروگھر کو خاص شرف حاصل ہے۔ روایت ہے کہ پندرہویں صدی میں بابا گرو نانک جی اور ان کے مسلمان ساتھی بھائی مردانا صاحب بابا فرید الدین گنج شکر کی خانقاہ پہ حاضری دینے آئے تو اس ٹیلے کو اپنا مسکن بنایا۔ یہاں ان کی ملاقات بابا فرید درگاہ کے گدی نشین جناب ابراہیم (فرید ثانی) سے ہوئی جنہوں نے بابا فرید کے اشلوک سانجھے کیے جو سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کا بھی حصہ بنے۔

لہذا یہ وہ تاریخی جگہ ہے جہاں بابا گرو نانک آئے، جہاں ایک مسلمان صوفی بزرگ اور سکھ گرو کے محبت بھرے خیالات کا سنجوگ ہوا، جہاں بابا فرید کے شعر دل کے راستے مقدس کتاب میں جا اترے جو آج بھی کروڑوں سکھوں کی روح میں اترے جاتے ہیں۔ بھاگ بھرے لوگوں کے ٹھہرنے کی وجہ سے اس چھوٹے سے ٹبے کو بڑا نام ملا اور ’’ٹبہ نانک سر‘‘ کہلانے لگا۔

نانک کے اس ٹبے سے آگے چلیں تو بھبھڑ، پکا سدھار اور عظمت کے دیہات آتے ہیں۔ بستیوں کے ناموں میں عجیب سی کشش ہے۔ ان ناموں کے پیچھے بھی ضرور کوئی کہانیاں ہوں گی جو وقت کی دھول میں کہیں اوجھل ہو گئیں۔

یہ چک داتار سنگھ کا ریلوے اسٹیشن ہے جو انیس سو چوبیس میں تعمیر کیا گیا تھا۔ دودھ سے نہائی ایک چھوٹی سی عمارت ہے جو سرسبز پیڑوں کی گود میں خاموش کھڑی ہے۔ عمارت کے روشن ماتھے پہ سیاہ حروف میں ’چک مراد چشتی‘ لکھا ہوا ہے۔ کبھی یہاں ’چک داتار سنگھ‘ لکھا ہوتا تھا۔ مقامی زمیندار نے اس کا نام تبدیل کروا لیا۔ داتار سنگھ پہ چونے کا لیپ کیا اور چک مراد چشتی لکھ دیا۔ مگر غور سے دیکھیں تو چونے کی تہہ کے نیچے مدھم سا پرانا نام پورا پڑھا جاسکتا ہے۔ بہت سال بیت گئے مگر پہلے نام کے نشان مکمل مٹے نہیں۔

ٹرین آنے میں ابھی کچھ دیر ہے۔ داتار سنگھ ریلوے اسٹیشن پہ سکوت طاری ہے۔ برآمدے میں مسافروں کی پیاس بجھانے والے مٹی کے گھڑے خود پیاسے پڑے ہیں۔ ’ٹکٹ‘ والی ننھی سی کھڑکی بند پڑی ہے۔ دیوار پر کرایہ نامہ لٹک رہا ہے جس سے لاہور اور کراچی تک کے دونوں اطراف کے ریلوے اسٹیشنوں کے نام مع کرایہ درج ہیں۔ سنا ہے یہ فہرست طویل ہوا کرتی تھی۔ دھیرے دھیرے اس سے بہت سے ریلوے اسٹیشن سوکھے پتوں کی طرح جھڑ گئے۔

ریلوے اسٹیشن سنسان ہے مگر ویران نہیں۔ درختوں پر بیٹھے کوے کائیں کائیں بولے جاتے ہیں۔ پل پل پھدکتے بلبل چہک رہے ہیں۔ رب جانے گلہری کیوں لگاتار بول رہے ہیں۔ اور دور سڑک سے گزرتے ٹرک کی پاں پاں سنائی دے رہی ہے۔

یہ گاؤں رائے بہادر سردار داتار سنگھ نے آباد کیا تھا۔ ان کے والد سردار حکم سنگھ متحدہ پنجاب کے بڑے زمینداروں میں شمار ہوتے تھے۔ پاکپتن سے عارف والا کے درمیان ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک تھے۔ ماچھی سنگھ، داتار سنگھ، کلیانہ، امر سنگھ، ٹہی جوند سنگھ، بارہ اور دیگر دیہاتوں کے نام اسی پریوار کے لوگوں کے ناموں پر رکھے گئے۔

داتار سنگھ نے منٹگمری ( ساہیوال) اور امرتسر سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1919 میں انگلستان کا رخ کیا۔ زراعت میں تعلیم مکمل کی اور نیشنل ڈیری ڈپلوما لے کر انیس سو اکیس میں ہندوستان لوٹے۔ ساہیوال میں متحدہ ہندوستان کا پہلا ڈیری فارم قائم کیا اور یوں ہندوستان میں ڈیری فارمنگ کے بانی مانے جاتے ہیں۔ ڈیری فارمنگ اور جانوروں سے محبت پروان چڑھی اور اسی مشترکہ خوبی کی وجہ سے مہاتما گاندھی کے قریب ہوئے۔

داتار سنگھ نے 1934 میں کوپن ہیگن اور انیس سو سینتیس میں برلن میں انٹرنیشنل ڈیری کانفرنسز میں ہندوستان کی نمائندگی بھی کی۔

داتار سنگھ نے اپنے گاؤں چک داتار سنگھ میں فصلوں کی آبپاشی کے لئے جدید ٹیوب ویل بھی نصب کروایا جو اس وقت علاقے کا پہلا ٹیوب ویل تھا۔ پنجابی زبان میں ٹیوب ویل کو ’بمبا‘ کہا جاتا ہے اسی لیے مقامی لوگ چک داتار سنگھ کو بمبا کہہ کر بھی پکارتے تھے۔ بزرگ آج بھی وہی نام استعمال کرتے ہیں۔

داتار سنگھ کو زراعت اور ڈیری فارمنگ کی خدمات کے عوض انگریز سرکار نے سر کا خطاب دیا۔

مقامی بزرگ بابا محمد فاضل کے مطابق داتار سنگھ اپنے گاؤں میں مال منڈی بنانا چاہتے تھے۔ جس کی منظوری بھی لے چکے تھے اور زمین بھی مختص کی جا چکی تھی۔ پھر سنتالیس کا سال آیا اور داتار سنگھ کے پورے پریوار کو اپنا گاؤں بمبا اور سبھی منصوبے یہیں چھوڑ کر سرحد کے پار جانا پڑا۔ ڈیری فارمنگ کے گر اور مویشیوں سے محبت وہ ساتھ لے گئے اور ہندوستان میں بھی اس پر بہت سارا کام کیا۔

جانوروں کی دیکھ بھال اور رکھشا کی روایت داتار سنگھ کی نواسی تک پہنچ چکی ہے۔ انڈیا کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی بہو، سنجے گاندھی کی بیوی، مانیکا گاندھی سردار داتار سنگھ کی نواسی ہیں۔ مانیکا گاندھی منجھی ہوئی سیاستدان ہیں اور کئی بار وزیر رہ چکی ہیں۔ رائٹر ہیں اور جانوروں کی دیکھ بھال پر کئی کتابیں لکھ چکی ہیں اور اپنے نانا کی ریت کو بخوبی نبھا رہی ہیں۔ بٹوارے کو پون صدی ہو چکی۔ داتار سنگھ کا نام چونے کی موٹی تہہ کے نیچے اب مدھم سا دکھائی پڑ رہا ہے۔

بابا فاضل ایسے بزرگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔ دنیا اس بستی کو کسی نام سے بھی پکارے وہ اس گاؤں کو آج بھی چک داتار سنگھ کہتے ہیں۔ مانیکا گاندھی اور داتار سنگھ کے پریوار کے لوگ گوگل میپ پہ چک داتار سنگھ لکھ کر اپنے پنڈ کو تلاش کرتے ہوں گے مگر انہیں اپنا آبائی گاؤں نہ ملتا ہو گا۔ کیونکہ گوگل بھی اب اس گاؤں کو چک نمبر تین ای بی اور ریلوے اسٹیشن کو ’مراد چشتی‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔

شہر سے جو سڑک ڈھلتے سورج کے تعاقب میں نکلتی ہے وہ چک داتار سنگھ سے گزر کر ڈوبتے سورج کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

چک داتار سنگھ ریلوے اسٹیشن ۔۔۔ (احمد نعیم چشتی)” ایک تبصرہ

  1. بہت ہی اچھا مضمون ہے، بہت پسند آیا، معلومات میں بھی اضافہ ہوا، احمد نعیم صاحب کا قلم بہت فطرت کے قریب ہے، مجھے ایسا لگا جیسے میں راقم کے ساتھ ہوں۔بس دو چیزوں کی کمی محسوس ہوئی، راقم اور بابا فاضل کی تصویر کی۔
    اتنا اچھا مضمون تھا کہ 144لوگوں کو شئیر کر دیا۔ خوش رہیں۔ ہوسکے تو تصویریں اپڈیٹ کر دیں۔ شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں