218

ادھوری محبت … افسانہ … محمد مقصود، پاکپتن شریف.

تحریر: محمد مقصود۔ پاکپتن شریف۔

ایک لڑکا جس کا نام عمران تھا اور وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، نہ تو وہ پڑھاکو بچوں میں سے تھا اور نہ ہی نالائق تھا۔ پہلے وہ ایک استاد کے پاس پڑھتا تھا اور اب وہ ایک استانی کے پاس پڑھنے لگاتھا، جس کا نام طاہرہ تھااور عمر لگ بھگ اکیس بائیس سال ہوگی، وہ دوسری استانیوں سے بالکل الگ سادہ لباس میں آیاکرتی تھی وہ سکول میں آٹھویں جماعت کو ریاضی پڑھایا کرتی تھی اور تمام بچوں کے ساتھ گھل مل کر رہتی تھی۔

جب کبھی عمران کے نمبر ٹیسٹ میں کم آتے تو وہ ان کو کوئی بڑی سزا دینے کی بجائے صرف یہ کہتی تھی کہ ”پڑھنا کچھ ہوتا نہیں، بلکہ یہ کہنا کہ مجھے تو یہ آتی ہی نہیں“ ایک بار جب فوجی صاحب سکول کا وزٹ کرنے آئے تو انہوں نے تمام کلاس والوں سے ایک ہی سوال پوچھا کہ آپ پڑھ لکھ کر کیا بننا چاہتے ہیں جس پر عمران کا جواب تھا کہ وہ پائلٹ بننا چاہتا ہے۔ جب فوجی صاحب جا چکے تو مس نے کہا کہ سادہ تجزی کرنی تو آتی نہیں اور خواب ”پائلٹ“ کے ہیں۔

عمران عزت کرنے والا طالب علم تھا وہ خاموش رہا۔ دراصل مس کی یہ توج عمران کے اچھے مستقبل کے لیے تھی۔ دوسری طرف عمران مس کی ہر بات پر دھیان دیتا مگر کیا کرتا وہ پڑھائی میں فطری طور پر تھا ہی کمزور۔ باقی وہ ہر طرح سے مس کا احترام کرتا۔ جب کوئی سوال سمجھانے کے لیے آتی رجسٹر دیتے لیتے وقت اور پن، پنسل دیتے وقت اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ کہیں اس کا ہاتھ مس کے ہاتھ سے نہ لگ جائے۔ اس طرح سے وقت گزرتا رہا اور امتحان سر پر آگئے۔ ریاضی کے پیپر سے ایک دن پہلے مس طاہرہ نے تمام بچوں کو اپنے گھر بلایا اور ان کو تیاری کروائی۔

اللہ تعالی کے کرم اور مس طاہر کی محنت سے تمام طلباء پاس ہوگئے۔ چونکہ یہ مڈل تھا تو تمام بچوں لڑکوں کو میٹرک کے لیے بوائز سکول میں جانا پڑا۔ جب وہاں دبنگ استاد سے واسطہ پڑگیا۔ تعداد ذیادہ تھی، کسی کو عمران کی فکر نہ تھی بہت سے استاد آتے پیریڈ پڑھا کر چلے جاتے۔ ایسے میں عمران کو اپنی مس کی یاد آتی۔ جب وہ پڑھنے لکنے بیٹھتا تو اس کے ذہن میں مس طاہرہ کے بارے میں ہی خیال آتے رہتے تھی، اس کو پڑھنے لکھنے میں بہت مسئلہ ہوتا تھا۔ ایک دن غصہ میں آکر عمران نے جو کبھی کبھار اپنی مس کو ملا کرتا تھا وہ بھی چھوڑ دیا۔ دراصل ان کے خیال عمران کو پڑھنے نہیں دیتے تھے۔

اب عمران جوان ہوچکاتھا، مس سے ناملنے کے باوجود بھی اس کے خیالوں میں محو رہا کرتا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ انجانے میں عمران کو اپنی استانی سے محبت ہوگئی تھی۔ مس کاخیال آنے پر عمران یہ سوچتے ہوئے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دیتا کہ وہ ان کے پاس پڑھتا رہا ہے اس لیے یہ خیالات فطری ہیں مگر جب ان خیالات کا سلسلہ روز بروز بڑھتا گیا، تو وہ بھی پریشان ہوگیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کرے۔

ایک دن اسے ایک بات یاد آئی جو میم ہمیشہ کہتی تھی کہ ”جس کام یا پھر بات کے لیے دل کرے تو اس کو کرلینا چاہیے“ بجائے اس کے کہ بعد میں پچھتایا جائے، یوں اس نے مس کو اپنی دلی کیفیت سے آگاہ کرنے کی ٹھان لی۔ لیکن یہ مرحلہ تھا بہت دشوار، اب پریشانی اس بات کی تھی کہ عمران اپنیوہ تھوٹی سی عزت جو طالب علم کے طور پر مس طاہرہ کے دل میں تھی اس کو کھونے سے بھی ڈرتا تھا کہ اگر ان کو برا لگا تو کیا ہوگا۔ اسی کشمکش میں عمران اپنے آپ سے ایک جنگ لڑرہا تھا، جس کی کسی کو کوئی خبر نہ تھی۔

وہ جب مس کے ہاں ملاقات کے لیے جانے کو تیار ہوتا تو اس کی ہمت جواب دے جاتی۔ جانے یہ محبت کے آداب تھے یا تہذیب کا اثر کہ وہ کچھ کہہ ہی نہیں پایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج وہ سافٹ ویئر انجینئر بن چکا ہے لیکن ”اظہار“ ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں