159

نظریاتی انتہا پسندی … (صاحبزادہ مبشر علی صدیقی)

تحریر صاحبزادہ مبشر علی صدیقی

ہمارے وطن کے محب وطن مفکرین دن رات شدت پسندانہ نظریات کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ ملکی مسائل پر سیر حاصل اظہار خیال فرماتے ہیں ۔ یقیناً یہ ان کی وطن عزیز سے محبت کا منھ بولتا ثبوت ہے ۔ اس بات کو بھی طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ارض پاک کے مسائل کی وجہ کون ہے ۔ مگر کیا ملک کی ساری برائیوں اور ناکامیوں کی ذمّہ داری کسی ایک طبقہ یا فریق پر تھوپ دینا اپنی ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر چاہے وہ اس کا ذمہ دار ہے یا نہیں شدت پسندی نہیں ؟

اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین ملک کی ساری ناکامیوں کی وجہ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہیں حتی کہ اگر انہیں رات میں کوئ ڈراؤنا خواب بھی آ جائے تو وہ صبح اٹھ کر اس کی ذمہ داری بھی اسٹیبلیشمنٹ پر ڈال دیتے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کے چاہنے والے ملک کی تمام بربادی کا ذمہ دار سیاست دانوں کو قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد مختلف جماعتوں کے لوگ سارا گند ایک دوسرے کی جماعت پر ڈالنے کے لیے بضد نظر آتے ہیں۔ مثلا ن لیگ کے کارکنان سپریم کورٹ پر حملہ اپنا جمہوری استحقاق قرار دیتے ہیں جبکہ پی۔ ٹی۔ آئی کے کارکنوں کا پی ٹی وی پر حملہ ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے محبین اس کے متضاد بیانیہ رکھتے ہیں۔

ایک تیسرا نظریہِ بھی ہے جس میں سبھی لوگ تقریباً متفق نظر آتے ہیں وہ ہے مذہبی جماعتوں پر کیچڑ اچھالنا اور یہ ان حضرات کا سب سے آسان اور محبوب مشغلہ ہے کہ تمام مسائل اور ناکامیوں کی ذمہ داری مذہبی جماعتوں پر تھوپ کر خود بری الذمہ ہوجائیں۔

ہے جرم ضعیفی سزا مرگ مفاجات ۔

مذکورہ تمام نظریات کے حامل لوگ اپنی اپنی سطح پر ایک شدت پسندانہ نظریہ کے حامل ہیں کوئی اپنے طبقہ کی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

دو رنگی چھوڑ یک رنگ ہوجا
سرا سر موم یا سنگ ہوجا۔

ہر روز ایک طرح کی بحث ہوتی ہے نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ہر کوئی قدامت پسندی کی وجہ سے ایک دوسرے کے نظریات کو ٹارگٹ کرتا ہے کوئی یہ نہیں دیکھتا میری جماعت یا میرے نظریات میں کیا خامیاں ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پہچانیں پاکستان کو یہاں تک پہچانے میں سبھی طبقات معاشرہ کا حصہ بقدر جثہ شامل ہے۔ اپنی اپنی غلطیوں کی اصلاح یقینی بنائیں۔

بقول شاعر:

برے بندے نوں میں لبھن ٹریا برا نہ لبھیا کوئی
جد میں اندر جھاتی پائی میتھو برا نہ کوئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں