147

ریاست مدینہ کا دستور اور موجودہ حکام اعلی کا رویہ … ( پیر فیضان چشتی)

تحریر: پیر فیضان چشتی

معاشرے میں امن اور نظم و نسق کو قائم کرنے کے لیے پہلے ادوار میں قاضی (جسٹس)ہوا کرتے تھے جو لوگوں کے معاملات کو نمٹایا کرتے تھے ان کے بارے میں فقہائے کرام نے لکھا کہ مساجد میں اپنی عدالت لگائیں گے اور مسائل حل کریں گے مسجد کی قید اس لئے لگائی کہ یہ عوامی جگہ ہے لوگوں کا آنا جانا اور محور و مرکز مساجد ہوتی ہیں اور یہ کی ایک عام انسان کی رسائی بھی قاضی تک حاصل ہو سکے۔

لیکن افسوس آج کے دور میں ایک جج تو کیا ایک نچلی سطح کا کوئی عہدیدار اور کوئی گورنمنٹ افسر تک بات کرنے یا کام کروانے کے لئے سفارشوں کی ضرورت ہوتی ہے پھر جا کر کہیں بات کرنے کا ٹائم ملتا کام تو دور کی بات ہے
نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نفاذ ہوتا تو آج انصاف چل کر ہمارے گھروں کی دہلیزوں پر آتا ہے لیکن آج انصاف کے لیے دھکے بھی کھانے پڑھتے رشوت بھی دینی پڑھتی اور سفارش بھی لگوانی پڑھتی۔

آئیں اپنی سوچ کو بدلیں نظریات کو قرآن و سنت کے مطابق کریں تاکہ جہالت ختم ہو اور علم کی روشنی سے عالم چار سو جگمگا اٹھے۔
اس کے لیے ہمیں اسلام کے سیاسی معاشرتی معاشی اور سماجی نظام کو پڑھنا ہوگا تاکہ ہمیں پتہ تو چلے کہ آخر صحیح سمت کیا ہے اور ہم کس طرف جا رہے ہیں اور ہمارے ملک و قوم کے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ ہمارے سماج اور معاشرے کی کم علمی میں اپنے حقوق سے ناواقفیت اور فکر و تدبر سے عاری ہونے کے سبب طاغوتی طاقتیں امراء و سلاطین ہمارے اوپر مسلط ہیں اگر اس قوم میں شعور بیدار ہو جائے تو دنیا کے ہاں اور نہ کے فیصلے کرنے لگے۔

اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
تو اپنی منزل نظر آتی ہے ان کو آسمانوں میں

یہ حکمران کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ یہ قوم سوچنا شروع کر دیں یہ فکر و تدبر کرنے لگ جائے انہوں نے ہمارے سوچ کو ذہنی غلامی پر لگانے کے لئے گلیاں بنانے روٹی اور پیٹ بھرنے کے چکر میں لگا دیا اور فکر و تدبر کی طرف جانے نا دیااور ہماری قوم بھی اسی چیز کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں