95

پاکپتن: ڈریپ اور وزارت صنعت وپیدوار کی غفلت سے ملکی خزانے کو 208 ارب روپے کا نقصان ہوا. حکیم لطف اللہ

پاکپتن (ویڈیو پیغام) موجودہ حکومت کو ناکام کرنے کی سازش کے تحت وزارت صحت اور وزارت صنعت کی غفلت اور لعیت لعل سے صرف متبادل ادویات کی مد میں 208 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے کمپنیوں کو فارم 7 جاری نہیں کیا جارہا 35000 درخواستیں التوا کا شکار وزارت صحت کے ماتحت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اجات نامے دینے تھے جس کو روک رکھا ہے اور اسی طرح ہزاروں دواساز ادارے جنکو اِن لسٹ کئے سالوں گزر چکے ہیں انکو وزٹ نہیں کیا گیا۔ان خیالات کااظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کیا.

ویڈیو پیغام سننے کے لیے یہاں کلک کریں

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت وزارت صحت ڈریپ کو کون سمجھائے یہ دواساز ادارے جو نسل در نسل دواسازی کے اس شعبہ سے منسلک تھے اب انہیں دواسازی کرنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ وہ اپنے سارے اثاثے انڈسٹریل ایریا میں چار کنال اراضی خرید کر یا کرایہ پر لےکر اس پر کروڑوں روپے انویسٹ کر کے بیٹھے ہیں۔ ان میں سے کچھ ادارے عدالتوں سے ریلیف لے کر کام کررہے ہیں اور جو ادارے بند پڑے ہیں اسکے پیچھے کتنے خاندان بیروزگار ہوۓ اگر حکومت عام سا تخمینہ لگائے ایک درمیانے سائز کے ضلع میں کم از کم دس ہزار افراد ایسے ہیں جو متبادل طریقہ ہائے علاج سے واسطہ یا بلا واسطہ جڑے ہیں اور وہ بیروزگار ہیں اور خودکشیںاں کرنے پر مجبور ہیں غریب آدمی آج بھی بدنصیبی کی چکی میں پس رہا ہے۔اور بڑی کمپنیوں والے راتوں رات امیر ہورہے ہیں۔ بڑی کمپنیوں کو فائدہ دینے کیلئے چھوٹی کمپنیوں کو وزٹ نہیں کیا جارہا اورجو پراسس میں ہیں انکو فارم 7 جاری نہیں کئے جارہے۔ اس وقت ہربل دواسازی کے 7000 ادارے بند پڑے ہیں جسکی وجہ سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہوۓ ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت ان اداروں کو جلد مکمل کرانے میں مدد کرتی ان اداروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور برآمدات میں اضافہ کیا جاتا جس سے اربوں روپے کا زرمبادلہ ملک میں آتا اور ملک خوشحال ہوتا اور انکو معیاری ادویہ سازی کیلئے آسان شرائط پر قرضہ جات دئیے جاتے۔دنیا بھر میں جن جن ممالک نے ترقی کی اس ترقی میں گھریلو صنعت اور حکومت کی سرپرستی کا بڑا عمل دخل ہے ہمارے ہاں متبادل طریقہ ہائے علاج کی حوصلہ شکنی کر کے ایلوپیتھی اور نیوٹراسوٹیکل کو فروغ دیا جارہا ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن who گزشتہ چار دہائیوں سے ممالک کو بار بار پابند کررہا ہے کہ اپنی روایتی طبّوں کو فروغ دیں لیکن بدقسمتی سے ہم فروغ کی بجائے انکو بند کیا جارہا ہے۔جبکہ ہندوستان اور چائنا کی متبادل ادویہ کی انڈسٹری ملک کے ریونیو میں بہت بڑا حصہ ڈال رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دواساز اداروں کے پراسس کو جلد از جلد مکمل کیا جائے کام کو نہ روکا جائے اور انکو وقت دیا جائے دواساز اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم رشوت کے بغیر کوئی کام کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے اور بلاوجہ پکڑ دھکڑ کرکے لوگوں کو چور بازاری پر یا خودکشی پر مجبور کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں