65

”کرونا اور لاشعوری عوام“ ۔۔.. (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

کرونا جیسے مہلک مرض نے پاکستان سمیت دنیا بھر کی سپر طاقتوں، غریب و امیر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، اس اس جان لیوا موذی بیماری نے فروری 2020 میں پاکستان کا رخ کیا اور رنگ و نسل قومیت سے بلا امتیاز ہو کر ایسے وار کیے کہ قوم اور حکومت چکرا کر رہ گئی، پہلی کے بعد دوسری اور اب تیسری لہرنے پاکستان میں ہزاروں اور دنیا بھر میں لاکھوں انسانی جانوں کو نگل لیا، جب کہ کروڑوں افراد اس موذی مرض سے متاثر ہوئے اور آئے روز اس وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے.

دنیا کے اکثریتی چھوٹے بڑے ممالک میں اس بیماری کے باعث ریڈ الرٹ جاری ہو چکا ہے، کچھ ایسی ہی کیفیت پاکستان میں بھی ہے، وفاقی حکومت نے سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں خطرے کا الارم بجاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے کئی اضلاع میں لاک ڈاون کے باوجود کرونا وائرس بے قابو ہوچکا ہے جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لئے بیڈز کم پڑچکے ہیں اور مریضوں کی تعدادمیں روزبروز اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ عوام کا عدم تعاون ہے جو حکومتی ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کررہی. حکومت کی یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ پاکستانی قوم نے کرونا وائرس کے مرض کو سنجیدہ نہیں لیا، جو کہ مرض کے پھیلاو کا باعث بن رہا ہے.

یہ بات کہنے اور لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ دنیا بھرکے ممالک کے حکمرانوں کی طرح پاکستان کی حکومت بھی اس موذی مرض پر قابو پانے کےلئے رات دن ایک کئے ہوئے ہے، اس مرض سے فرنٹ لائن پرلڑنے والے محکمہ صحت کے ڈاکٹرز اور عملے کو انسداد کرونا ویکسین لگائے جانے کے بعد پہلے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے بزرگوں اور اب 50سال سے زائد عمر کے وطن باسیوں کوسرکاری سطح پر مفت ویکسین حکومت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے، لیکن لاشعوری قوم کا ویکسین لگوانے کی طرف رجحان نہ ہونے کے برابر ہے، جن شہروں میں کرونا کے مریضوں کی شرح زیادہ ہے ان میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کے احکامات بھی جاری ہیں لیکن عوام حکومتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر رہی، جو مرض کا بڑھنے کا باعث بن رہی ہے، حکومت کی بارہا اپیلوں کے باوجود قوم کا حکومتی احکامات پر عملدرآمد آٹے میں نمک کے برابر ہے، جو حکومت اور کرونا سے لڑنے والے فرنٹ لائن ورکرز کے لئے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

حکومت پاکستان اپنے تئیں کرونا کے مرض سے نمٹنے کے لئے ہر سطح پر کوشاں ہے، ملک بھر میں گزشتہ روز تک کل ایک کروڑ 49 ہزار 336 مریضوں کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 6 لاکھ 96 ہزار 184 افراد میں کرونا وائرس مثبت آیا، جن میں سے 14924 زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ 6 لاکھ 18 ہزار 158 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، اس طرح سندھ میں 2 لاکھ 66 ہزار 926، کے پی کے میں 93033، پنجاب میں 235569، اسلام آباد میں 62 ہزار 221، بلوچستان میں 19 ہزار 850، آزاد جموں و کشمیر میں 13 ہزار 529، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 61 مریض شامل ہیں جو کرونا وائرس جیسے موذی مرض سے متاثر ہوئے، یہ وہ شرح ہے جو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترتیب دی گئی ہے، لیکن پاکستانی قوم کا یہ المیہ ہے کہ اس مرض کے مریضوں کی اکثریت ٹیسٹ کرانے سے گریزاں ہے، اور جن افراد کو یہ مرض لاحق ہو رہا ہے وہ یا ان کے لواحقین اس مرض کو چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد سرکاری تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بارے بار بار واضح کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی شخص میں اس وائرس کی علامت پائی جائے تو وہ فوری طور پر سرکاری ہسپتال سے رجوع کر کے اس کا ٹیسٹ کروائے، مگر عوام ایسا نہیں کر رہے۔

راقم گزشتہ روز ایک دوست کی تیمار داری کےلئے گورنمنٹ ٹیچنگ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا کے آئسولیشن وارڈ میں گیا تو عجب ماجرہ دیکھا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے میں مصروف تھے، تو دوسری طرف مریضوں کے لواحقین حکومتی ایس او پیز کی دھجیاں بکھیرے ہوئے تھے، وارڈ میں موجود ڈاکٹر اسامہ بن سعید کا کہنا تھا کہ نا مساعد حالات کے باوجود ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف کرونا جیسے موذی مرض کے مریضوں کی زندگیاں بچانے کےلئے اپنی زندگیاں داﺅ پر لگا کر کام کر رہا ہے، لیکن عوام میں شعور نہ ہونے کے باعث سیریس مریضوں کے لواحقین کا ڈاکٹرز اور عملے سے جھگڑا روز کا معمول بن چکا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کے علاج معالجہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، بار بار سرگودھا سمیت پنجاب کے مختلف شہروں کے آئسولیشن وارڈز میں ناخوشگوار واقعات پیش آ رہے ہیں، جس کے بارے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور محکمہ صحت کی دیگر تنظیمیں حکومت پنجاب کو آگاہ کر چکی ہیں مگر کرونا وارڈز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پاکستان میں اس مرض کے اپنے تئیں درجنوں نہیں سینکڑوں علاج دریافت کر لئے گئے ہیں، اب کرونا کی تیسری لہر نے حالات کو اس قدر گھمبیر بنا دیا ہے کہ سول ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کےلئے بیڈز کی تعداد انتہائی کم پڑ چکی ہے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو داخل کرنے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑی تعداد گھروں میں ہی قرنطینہ ہونے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کی تیسری لہر نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے.

پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج اور تعلیمی نظام ٹھپ ہو چکا ہے، جبکہ وائرس سے متاثرہ دنیا کے دیگر ممالک میں حالات اس سے بھی گھمبیر ہیں، اسپین دسمبر سے اب تک ہنگامی صورتحال میں ہے جو آئندہ کئی ماہ تک چلنے کا امکان ہے، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ جیسے ملکوں میں کرونا سے نمٹنے کےلئے ایمر جنسی کی سی صورتحال ہے. اٹلی اور دیگر ممالک کی حکومتیں لاک ڈاﺅن میں گھری ہوئی ہیں، اسی طرح کی کیفیت دوسرے یورپی اور ایشیائی ممالک میں ہے، اس طرح پاکستان سمیت دنیا بھر کی اقوام کورونا وائرس کے ساتھ جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، دنیا کے طب پر تحقیق کرنے والے ادارے خطرے کا الارم بجا رہے ہیں کہ تیسری لہر کا وائرس انتہائی خطرناک ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ اسی طرح کے ہسپانوی فلو کے باعث1917 سے 1919 تک 2 سالوں میں کروڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اب بھی حالات وہی عندیہ دے رہے ہیں، حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب حکومتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ کر پوری قوم کو متحد ہو کر کرونا وائرس سے جنگ لڑنا ہو گی، ورنہ حالات اس قدر گھمبیر ہو جائیں گے کہ یورپی ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی کرونا سے مرنے والوں کو دفنانے والوں کا فقدان پیدا ہو جائے گا ۔ ڈاکٹر اسامہ بن سعید کا کہنا ہے کہ حکومت بالخصوص پوری قوم کو اس بارے عوام میں شعور بیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قانون پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے، اس کے لئے حکومت کو چاہیے کہ قانون میں فوری طور پر ترمیم کرے اور کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے قانون میں سزائیں بڑھائے، ورنہ آنے والے وقت میں حکومت اور عوام کےلئے کرونا جیسے موذی مرض پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں