47

پاکپتن: ہماری یونیورسٹیاں ماسٹر ڈگری اور PHD کی شکل میں بیروزگار پیدا کر رہی ہیں. حکیم لطف اللہ

پاکپتن (ماجد رضا سے) ہماری یونیورسٹیاں ماسٹر ڈگری اور PHD کی شکل میں بیروزگار پیدا کر رہی ہیں ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کے حصول کے بعد روزگار کے دروازے کھلتے ہیں ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز بیروزگاری پھیلا رہی ہیں ہمارے ہاں نظام تعلیم رٹہ لگانے پر زور دیتا ہے اور پڑھائی لکھائی سکھاتا ہے ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کیا.

انہوں نے کہا کہ اس میں ڈیجیٹل پاکستان کے خالق پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے صدر سید عمار حسین جعفری نے یونیورسٹی پلس کا پروگرام متعارف کرایا ہے جو طالب علم کالجز اور یونیورسٹیز میں بیروزگار ہو کر نکلنے والے تھے انکو روزگار کے حصول کیلئے انہی کالجز اور یونیورسٹیز میں 6 ماہ کا کورس یونیورسٹی پلس متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اداروں سے نکلتے ہی روزگار کما سکیں.

مسلمانوں نے دنیا پر 800 سو سال تک حکمرانی علم کے بل بوتے پر کی تھی جب ہم نے علم کا دامن تھامے رکھا دنیا ہمارے آگے سرنگوں رہی ہے اور جب سے ہم نے علم کا حصول ترک کر دیا ہے ہم دنیا کے آگے سرنگوں ہیں آج بھی اگر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اپنانا ہو گا. آج بھی بنگلور سمارٹ ٹیکنالوجی سٹی ہے اور پوری دنیا سے ریونیو اکٹھا کر رہا ہے اور اس سمارٹ سٹی کا عام ورکر گیارہ، بارہ لاکھ ماہانہ کما رہا ہے جبکہ مینجمنٹ کے افراد 25 لاکھ ماہانہ کما رہے ہیں. ہم نے وقت بہت برباد کر لیا ہے اب ہمیں وقت کو پر لگانے ہونگے تیز ترین ٹیکنالوجی اپنانا ہو گی.

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں تیز ترین وائرلس انٹرنیٹ مہیا ہو ہماری تمام جدید ٹرانسپورٹ وائی فائی سے منسلک ہوں تاکہ نوجوان سفر میں اپنا بھی اپنا ورک جاری رکھ سکیں ہمارے دفاتر کو بجلی کے بجائے سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ 24 گھنٹے کام کر سکیں لاہور کے ایک ایریا کو حال ہی میں بزنس سٹی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے گزارش ہے کہ اس کو بزنس سٹی بنانے کے بجائے اس کو سمارٹ ٹیکنالوجی سٹی کا اعلان کیا جائے اور ملک کے ہر بڑے شہر میں اس طرح کے پروجیکٹ شروع کیے جائیں جس میں دنیا بھر کی ٹاپ رٹیڈ کمپنیاں مائیکروسافٹ گوگل یاھو، ایمزون اپنے دفاتر میں قائم کر سکیں فری لانسنگ میں پاکستان اس وقت دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے گزشتہ تین برسوں میں 60 ارب صرف فری لانسنگ سے کمائے گئے ہیں اس طرح دنیا میں چھوٹی موبائل ایپس ہیں جو ہم استعمال کر رہے ہیں جنکے صارفین کروڑوں میں ہیں وہ اربوں روپے سالانہ کما رہے ہیں.

IT ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر پے پال اور ایمازون یہاں تک آ گیا تو IT کی بدولت ہم تین گنا زیادہ کما سکیں گے اگر ہم نے امریکہ سلیکون ویلی انڈین بنگلور اورIT پارک دبئی کی طرز پر ہم سمارٹ ٹیکنالوجی سٹی بنانے پر کامیاب ہو جاتے ہیں معاشی بد حالی بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل چند سالوں میں ختم کیے جا سکتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں