56

پاکپتن: بھٹو کی شہادت پاکستان کی تاریخ کا وہ دلخراش واقعہ تھا جس نے ہر صاحبِ دل کو اشکبار کردیا. نسیم محمود ہوتیانہ

پاکپتن (رانا صفدر سے) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما بیرسٹر میاں نسیم محمود ہو تیانہ ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ بھٹو کی شہادت پاکستان کی تاریخ کا وہ دلخراش واقعہ تھا جس نے ہر صاحبِ دل کو اشکبار کردیا.

انہوں نے مذید کہا کہ یہ قتل ملک کی تاریخ پر کس طرح اثرانداز ہوگا اس وقت تو کسی کو اندازہ نہ تھا اور ڈکٹیٹر سمیت بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کچھ سال بعد یہ نام ماضی کا حصہ بن جائیگا مگر ایسا نہیں ہوا. وقت گزرنے کے ساتھ بھٹو نام تو ایک نظریہ حیات بن گیا ہے. شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے آپ کو قائدعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئین پاکستان بھی کہا جاتا ہے.

آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے جولائی 1977ء میں جمہوریت کا قتل کرنیوالے جنرل ضیاالحق کو معلوم نہیں تھا کہ 4 اپریل 1979 کی شب وہ جس نام کو مٹانے جارہا ہے وہ نام رہتی دنیا تک تاریخ کے سنہری الفاظ میں لکھا جائیگا. وہ نہیں جانتا تھا کہ جس سوچ کو قتل کرنے نکلے ہیں وہ سوچ کبھی ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ سچائی کا قتل نہیں ہوسکتا. اس رات جبر کے کڑے پہروں میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانے والے نہیں جانتے تھے کہ وہ جسے ختم کرنے جا رہے ہیں وہ لوگوں کے دلوں پر ہمیشہ راج کرتا رہیگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں