52

ریاست مدینہ اور سود خور مافیا … (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

دنیا میں ہر کام کےلئے محنت اور سرمایہ لگانا ضروری ہوتا ہے وہ کام خواہ صنعت و حرفت سے ہو یا زراعت، تجارت سے، پھر کوئی ایسا کاروبار نہیں جس میں نفع کے ساتھ نقصان کا خطرہ نہ ہو۔ لیکن سود کا کاروبار کرنے والے ہمیشہ منافع کے حصہ دار ٹھہرتے ہیں اور انہیں کبھی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ انسانی محنت اگر ضائع بھی ہو جائے تب بھی سود خور سرمایہ دار اپنا حصہ (سود) چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال عقل، منطق، اخلاقیات الغرض ہر اعتبار سے غیر منصفانہ ہے۔

سودی نظام کا عملی اطلاق در اصل انسانیت پر سرمایہ کو فوقیت دینا اور تسلیم کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب معاشرے میں شرافت، ہمدردی، حلال اور انسان کی قیمت گرتی جا رہی ہے، سود کی لعنت دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ یہ اب معاشرے میں ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے، ملکی نظام چلانے سے لے کر گلی محلوں تک مختلف طریقوں سے سود کے کاروبار کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ جہاںملکی نظام سود پر قرض حاصل کر کے چلایا جاتا ہے۔ وہاں پر گلی محلوں میں ایسے خواتین و افراد موجود ہوتے ہیں، جو مجبور اور بے کس افراد کو سود پر رقم دے کر اس کے بدلے میں گارنٹی چیک، مکانات، جائیدادوں کی رجسٹریاں تک اپنے پاس گروی رکھ لیتے ہیں ، پھر قرض حاصل کرنے والا فرد جس کا تعلق یقینا غریب طبقہ سے ہوتا ہے زندگی بھر اپنی کمائی سود خور مافیا کو دیتا رہتا ہے اور اصل رقم سے کئی گنا زیادہ وصول کرنے کے باوجود سود کی مد میں سود خور مافیاز اتنی رقم متعلقہ شخص کے ذمہ نکال دیتے ہیں کہ پھر گروی رکھی جائیداد دے کر بھی متاثرہ شخص سود خوروں کا مقروض رہتا ہے اور اکثر اسی حالت میں جہان فانی سے خود تو کوچ کر جاتا ہے لیکن اپنے بیوی بچوں اور اہل خانہ کو سود خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتا ہے۔

2020ء میں سود خور مافیاز کے ستائے ہوئے پنجاب میں 19، سندھ میں 11، بلوچستان میں دو، خیبر پختونخواہ میں 7، گلگت بلتستان میں 2، آزاد کشمیر میں 4 افراد نے خود کشی کر کے زندگی کا خاتمہ کر کے موت کو گلے لگا لیا تھا، جبکہ 2021ءمیں اب تک ملک کے مختلف شہروں میں سود خور مافیا کے ستائے 11 افراد کے خود کشی کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ تشویشناک امر ہے۔ جبکہ سود کی لعنت ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ جہاں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں کے گلی محلوں میں سود خور مافیاز کی صورت اختیار کر چکے ہیں وہاں بازاروں میں قسطوں کے سامان کی صورت میں یہ کاروبار عروج پر ہے۔ بظاہر سامان تو قسطوں پر دیا جاتا ہے اور اس کے عوض گارنٹی بھی دی جاتی ہے۔ مگر بروقت قسط ادا نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ کی مد میں سود وصول کیا جاتا ہے۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان بشمول آزاد کشمیر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سائیکل سے لے کر گاڑیاں ٹرک اور الیکٹرانک کے سامان استری سے لے کر فریج اے سی تک حتیٰ کہ ضروریات زندگی کی سب اشیاءآپ کو سود خور مافیا آسان قسطوں پر فراہم کر کے جکڑ لے گا اور پھر قسط لیٹ ہونے کی صورت میں سود وصول کرتا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک عالمی اداروں اور بین الاقوامی بینکوں سے سود پر رقم حاصل کر کے اپنے ممالک کا نظام زندگی چلا رہے ہیں، اور ملک بھر کے بینکوں میں سودی کاروبار جاری ہے، قوم کی ایک بڑی تعداد اس سودی کاروبار میں جکڑی ہوئی ہے۔ ملک میں انشورنس کمپنیاں بھی سود کے کاروبار کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہیں، اس وقت ملک میں 36 انشورنس کمپنیاں ہیں، سب کا کاروبار سود سے منسلک ہے اور سب کمپنیوں کا سسٹم اور طریقہ ایک جیسا ہے۔ یہ صرف نام تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں، سب انشورنس کمپنیاں بیمہ کی پہلی قسط مکمل طور پر آپس میں بندر بانٹ کر لیتی ہیں اور پہلی قسط کبھی صارف کو واپس نہیں دی جاتی، حالانکہ انشورنس (بیمہ) کرتے وقت آپ کو کہا جائے گا کہ آپ پہلی قسط جمع کرائیں اس کے بعد آپ کے پاس ایک سال کا ٹائم ہو گا آپ قسط جمع کرائیں تو آپ کو سال کا منافع قسط کے برابر مل جائے گا۔

انشورنس کمپنیوں کے کارکن طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر عوام کو بیمہ کے چکر میں سود کی لعنت میں مبتلاءکر رہے ہیں، سو ملک میں جس کاروباری شعبہ پر نظر دوڑائیں اس میں آپ کو بالواسطہ یا بلا واسطہ سود کا عنصر نظر آئے گا، حالانکہ اسلام میں سود کے بارے میں سختی سے منع فرمایا گیا ہے اور اس بارے قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔ لیکن قیام پاکستان سے اب تک کسی حکومت نے ملک سے سود جیسی لعنت کو ختم کرنے کےلئے کوئی موثر اقدام نہیں کیے۔ حالانکہ ملک میں اس بارے قانون موجود ہے جس کی بھینٹ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف چھوٹے سود خوروں کو چڑھاتے ہیں اور منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائیاں ملک میں چھوٹے سود خوروں کےخلاف ہوتی ہیں۔ بڑے مگر مچھ جو سود خور جو مافیاز کی صورت اختیار کر چکے ہیں کے خلاف کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی، 2018ء میں پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کر کے اقتدار میں آئے تھے، کپتان کے اقتدار کا آدھا دورانیہ گزر چکا ہے اور باقی گزرنے کو دیر نہیں لگتی۔ تو کپتان جی ضرورت اس امر کی ہے کہ سود خور مافیاز کے خلاف اسی طرح آپریشن کیا جائے جس طرح ملک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیے جا رہے ہیں کیونکہ سود خوری، تخریب کاروں اور دہشتگردوں سے زیادہ خطرناک ہے، سود خور ملک کے غریب عوام کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ کپتان جی سود خور مافیا کے لئے قانون میں ترمیم کر کے سزائیں بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ کپتان جی ایسا کرنے سے بنے گا ملک ریاست مدینہ، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو سود خور ملک کے غریب عوام کو گدھ کی طرح نوچ نوچ کر کھا جائیں گے اور اس کا آخرت میں حساب آپ کو بطور حاکم وقت دینا ہو گا۔ اس لیے کپتان جی اب بھی وقت ہے کہ سود کے ناسور کو معاشرے سے جڑ سے کاٹ پھینکنے کےلئے اقدامات کیے جائیں تا کہ ملک ریاست مدینہ بن سکے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں