71

”کرونا کی تیسری لہر اور بڑھتی ہوئی اموات“ … (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

سال 2020ءمیں دنیا میں بہت سے سانحات، واقعات رونما ہوئے جو تاریخ کا حصہ بنیں گے، لیکن گزرے سال سے اب تک کرونا وائرس جیسے موذی مرض نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور پاکستان سمیت پوری دنیا کے عوام اس بیماری کے ساتھ جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، یہ وائرس پچھلے سال میں لاکھوں زندگیاں نگل گیا اور اس موذی مرض کی تیسری لہر کے سائے اب بھی پاکستان سمیت دنیا بھر پر منڈلا رہے ہیں، اس وائرس نے بڑی بڑی سپر پاور طاقتوں (ممالک) کے عوام اور حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور آئے روز کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو عوام میں موت کے سائے کا خوف بنا ہوا ہے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی حکومت بھی اس موذی مرض سے نمٹنے کیلئے متحرک ہے اور پنجاب، سندھ، کے پی کے سمیت دیگر صوبوں میں سمارٹ لاک ڈاﺅن لگایا جا چکا ہے، اور ایس او پیز کے تحت 6 بجے تک بازار کھلے رکھنے کا کہا گیا ہے، کئی بڑے شہروں میں تعلیمی ادارے بالخصوص یونیورسٹیاں ایک بار پھر کرونا کی تیسری لہر کے باعث بند کر دی گئی ہیں۔

یہاں اس (انفیکشن وائرل) مرض بابت بتانا ضروری ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے مریض کی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے کہ اسے پہلے تین دن سر، جسم میں درد مسلسل قے آنا، جسم کا لاغر رہنا، ناک کا بہنا، آنکھوں، پیشاب میں جلن، مسلسل بخار، گلے میں خارش سمیت دیگر علامات ہوتی ہیں، دوسرے مرحلہ میں (چوتھے سے آٹھویں دن تک) متذکرہ دیگر علامات کے ساتھ کھانے پینے کے باوجود منہ سے ذائقہ کا نہ آنا، بغیر کوئی کام کیے تھکاوٹ محسوس کرنا، سینے (پسلی کا پنجرا) میں درد، سینے میں جکڑن، جسم کے نچلے حصہ میں درد کا ہونا شامل ہیں، کورونا وائرس سے ایک بار متاثر ہونے والے مریضوں کو دل کی تکلیف، جسمانی، اعصابی کمزوری، قوت مدافعت میں کمی، سانس، بلڈ پریشر، شوگر، مردانہ کمزوری جیسی تکالیف میں مبتلاءکر دیتا ہے، یہ خطرناک وائرس مریض کے جسم سے وٹامن سی کی بڑی مقدار نچوڑ لیتا ہے، اس کا حملہ 14 روز تک رہتا ہے، مناسب اور مستقل علاج سے مریض صحت یاب تو ہو جاتا ہے لیکن اس میں متذکرہ بالا بیماریوں کی علامات رہتی ہیں۔

حکومت پاکستان کرونا وائرس سے جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور سندھ، پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ بشمول آزاد کشمیر میں کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن محکمہ صحت کے ورکرز کو ویکسین لگائی جارہی ہے، جبکہ ملک میں 60 سال سے زائد عمر کے بزرگوں کو بھی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور حکومت اپنے تئیں اس وائرس پر قابو پانے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز تک پاکستان میں 609964 مریض اس موذی مرض کا شکار ہوئے، جن میں سے 5 لاکھ 73 ہزار 14 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 13595 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، جبکہ ملک میں ابھی بھی 23355 مریض کرونا وائر س کے مرض میں مبتلاءہو کر موت و حیات کی کشمکش میں پڑے ہیں، یہ شرح اموات سرکاری اعداد و شمار کی ہیں، جبکہ اس کے علاوہ کئی ہزار افراد ایسے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں تک نہ پہنچ پائے اور ان کی اموات گھروں میں ہوئیں، جسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا اور ان اموات میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کی ہونے والی اموات بھی شامل نہیں ہیں.

پاکستان میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض سندھ میں دیکھنے میں آئے جہاں 261582 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے، 252857 صحت یاب ہو چکے ہیں اور 4264 افراد اس وائرس سے اب بھی جنگ لڑ رہے ہیں اور صوبہ سندھ میں 4461 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، آزاد کشمیر میں اب تک 11089 مریض سامنے آئے، جن میں سے 9985 صحت یاب ہو چکے ہیں اور 332 موت کے منہ میں جا چکے ہیں، اسی طرح بلوچستان میں 19233 مریض سامنے آئے، جن میں سے 18890 صحت یاب ہو چکے ہیں، 141 مریض اب بھی بلوچستان میں موجود ہیں، 202 خواتین و افراد کرونا کا شکار ہو کر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس صوبہ میں موت کے منہ میں جا چکے ہیں، دوسری طرف گلگت بلتستان میں 40961 مریض دیکھنے میں آئے اور 4856 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں اب تک 103 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، وفاق اسلام آباد میں 48495 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 44409 مریض صحت یاب، اور 3560 مریض ابھی تک اس وائرس میں مبتلاءہیں، اور 528 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، خیبر پختونخواہ میں 76399 کرونا کے مریض اب تک سامنے آئے، جن میں سے 70860 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور 3349 خواتین و افراد ابھی تک اس صوبہ میں کرونا وائرس میں مبتلاءہیں، 2169 افراد جن میں خواتین بھی شامل ہیں لقمہ اجل بن چکے ہیں، پنجاب میں 188255 کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے، 171156 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں، جبکہ 11257 مریض اب بھی اس وائرس میں مبتلاءہیں اور 5812 افراد کو پنجاب میں یہ وائرس نگل چکا ہے۔

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پاکستان میں اس مرض کے اپنے تئیں درجنوں نہیں سینکڑوں علاج دریافت کر لئے گئے ہیں، راقم ماہ دسمبر 2020 میں اس موذی مرض کا شکار ہوا تو کسی رشتہ دار نے کہا کہ لیموں کا قہوہ پیو، کسی نے لہسن کھانے کا مشورہ دیا تو کسی دوست نے سنامکی کا قہوہ تجویز کیا تو کسی نے انناس، گریپس واٹر، سنگترہ سو جتنے منہ اتنے نسخے مجھ تک پہلے ہی دن پہنچ گئے، اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کونسا نسخہ استعمال کروں اور کونسا نہ کروں؟ اسی تذبذب میں 48 گھنٹے گزر گئے، طبیعت بگڑنے لگی تو ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا کے آئسولیشن وارڈ پہنچاکر فوکل پرسن ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ سے رجوع کیا، مگر رش کے باعث وارڈ میں ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض تھے، جس پر سوچا کہ اب جاﺅں تو کہاں جاﺅں کیونکہ ہسپتال میں بیڈ نہیں مل رہاا ور پرائیویٹ ہسپتال میں رہنے کی سکت نہیں رکھتا، جس پر یہی غنیمت جانا کہ ڈاکٹر سے نسخہ لکھوا کر گھر پہنچ کر قرنطینہ ہو جاﺅں تو پھر ایسا ہی کیا، تو اب کرونا کی تیسری لہر نے حالات کو اس قدر گھمبیر بنا دیا ہے کہ سول ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کےلئے بیڈز کی تعداد انتہائی کم پڑ چکی ہے اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو داخل کرنے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑی تعداد گھروں میں ہی قرنطینہ ہونے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کرونا کی تیسری لہر نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاﺅن جیسی صورتحال سے کاروبار زندگی مفلوج اور تعلیمی نظام ٹھپ ہو چکا ہے، جبکہ وائرس سے متاثرہ دنیا کے دیگر ممالک میں حالات اس سے بھی گھمبیر ہیں، اسپین دسمبر سے اب تک ہنگامی صورتحال ہے جو آئندہ کئی ماہ تک چلنے کا امکان ہے، برطانیہ، فرانس ، جرمنی، امریکہ، جیسے ملکوں میں کرونا سے نمٹنے کےلئے ایمر جنسی کی سی صورتحال ہے، اٹلی اور دیگر ممالک کی حکومتیں لاک ڈاﺅن میں گھری ہوئی ہیں، اسی طرح کی کیفیت دوسرے یورپی اور ایشیائی ممالک میں ہے.

اس طرح پاکستان سمیت دنیا بھر کی اقوام کورونا وائرس کے ساتھ جنگ لڑنے میں مصروف ہے، دنیا کے طب پر تحقیق کرنے والے ادارے خطرے کا الارم بجا رہے ہیں کہ تیسری لہر کا وائرس انتہائی خطرناک ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ اسی طرح کے ہسپانوی فلو کے باعث1917 سے 1919 تک 2 سالوں میں کروڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اب بھی حالات وہی عندیہ دے رہے ہیں، حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب حکومتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ کر پوری قوم کو متحد ہو کر کرونا وائرس سے جنگ لڑنا ہو گی، ورنہ حالات اس قدر گھمبیر ہو جائیں گے کہ یورپی ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی کرونا سے مرنے والوں کو دفنانے والوں کا فقدان پیدا ہو جائے گا اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم حکومت کی جانب سے جاری کرونا ایس او پیز پر خود بھی عمل کرے اور اپنے عزیز و اقارب دوست احباب سے بھی کروائے۔ ورنہ خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، اور یہ وائرس کسی وقت آپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں