430

رمضانی کرونا … (پیر شاہد علی چشتی)

تحریر: پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ بہاولنگر

لیجئے صاحب ریاست مدنیہ کے عوام کے تحفظ اور 22 کروڑ مسلمانوں کو کرونا ایسی موذی مرضِ سے ممکنہ طور پر بچانے کیلئے ایک بار پھرہماری تبدیلی حکومت سماجی اور مذہبی میدانوں میں گھیرا تنگ کرنے جارہی ہے، آج ہی ہمارے وزیر داخلہ اسد عمر نے کرونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیلئے 5 اپریل کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، ماہ رمضان کے آتے آتے ہم آپ خیر سے اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہونگے، یہ عجیب و غریب کرونا ہے کہ اس کے بارے میں، اس کے حق میں اقدامات کرنے والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ آپ سارا سال جو کچھ مرضی کرتے رہیں، آپ نے ماہ رمضان میں کچھ نہیں کرنا، اور کرونا ایس او پیز کی پابندی کا اہتمام اسی زور و شور سے کرنا ہے جیسا کہ چند سال قبل تک ہم لوگ ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی ساری توجہ اور کوشش مساجد کو آباد کرنے اور گنتی کے ان دنوں میں عبادت کے لئے کرتے تھے، اب تو مساجد میں اعتکاف بیٹھنا بھی محال ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا کیونکہ کرونا کے شدید وار اعتکاف میں بیٹھنے والے افراد اور مساجد میں نماز پڑھنے والوں کے لئے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں.

ماہ رمضان میں ابھی کچھ روز باقی ہیں اور ریاست مدنیہ کے حکمرانوں اور وزراء کو ابھی سے کرونا کے خوف کا احساس شدت سے ہورہا ہے، گزشتہ دنوں مرحوم پی ڈی ایم کی اسلام آباد جانے والی اپوزیشن ریلی کو بھی بقول فردوس عاشق اعوان صاحبہ کچھ اس قسم کے کرونا خطرات کا سامنا تھا، وہ تو بھلا ہو قبلہ آصف علی زرداری کا جنہوں نے ہر برے وقت میں کپتان کی حکومت کو جمہوریت کے فروغ کے لئے کندھا فراہم کیا ورنہ کرونا کے خوف کا شدید احساس اس ملک گیر احتجاجی ریلی سے ہونا تھا، تاہم گزشتہ سال کی طرح یہ فتحیابی بھی محکمہ اوقاف کے زیر انتظام خانقاہوں اور مزارات اولیاء کرام کے حصے میں آئی، اور اب کرونا کی شدت کا ثواب بھی گزشتہ سال کی طرح ماہ رمضان کے بابرکت مہینے کے حصے میں آئے گا، گزشتہ سال بھی 6، 6 فٹ کے فاصلے پر کھڑے لوگوں نے نمازیں ادا کی تھیں لیکن خدا کے کرم اور التفات سے ماہ رمضان کے بعد سے کرونا بھی اپنے آپ کم ہوتا چلا گیا اور اس کی شدت میں زبردست کمی ہو گئی، اس سال بھی اس کے کچھ ایسے ہی ارادے نظر ارہے ہیں تاہم ماہ رمضان کی برکات اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پائیں گی.

گزشتہ سال تو اس نامراد مرض کا شکار چائنا، اٹلی اور امریکہ اور برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک رہے تھے لیکن اس برس اس کی شدید لپیٹ سعودی عرب میں ہمارے مقامات مقدسہ اور ہمارا وطن عزیز ہی زیادہ نظر آتے ہیں، عین ماہ رمضان المبارک سے کچھ ہفتے قبل ہمارے ہاں برطانیہ سے ایسے نامراد لوگ پہنچے ہیں جو ہمارے وطن عزیز میں کرونا کی شدید لہر پھیلانے کا سبب بن گئے ہیں، گزشتہ سال تو ہمارے محترم وزیر اعظم کپتان صاحب نے بھی خوب ڈرائے رکھا کہ شکر کریں کہ ہمارے ہاں کرونا نہیں پھیلا ورنہ ہم تو اس کا توڑ کرنے میں بھی ناکام رہتے، لیکن اس برس ماونٹ ایورسٹ سے بلند تر دوستی رکھنے والے ہمارے عظیم ہمسایہ ملک چائنا سے آنے والی کرونا توڑ ویکسین کے باوجود کرونا کے خطرات سر پر منڈ لا رہے ہیں.. ہم خود کرونا کو ایک موذی مرضِ تسلیم کرتے ہیں اور ہمارے چند دوست اور ملنے جلنے والوں دوستوں کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ کرونا کے موزی مرضِ کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد اگلے جہان سدھار گئے ہیں اور ہم بھی اس کی خوفناکی اور سنگینی سے یقیناً لرزہ براندم ہیں لیکن ہمیں تھوڑا بہت اعتراض صرف اس بات پر ہوا ہے کہ آخر عین رمضان المبارک سے پہلے اور اس ماہ مبارک میں اس کی سنگینی اور شدت میں اضافہ کیسے ہو جاتا ہے؟ یا پھر ہماری ریاست مدنیہ کی حکومت کو ان نیک ایام میں اس کی شدت کا احساس کاٹ کھاتا ہے؟ .. آگے پیچھے سارا نظام ملک بالکل درست اور معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے لیکن ان مقدس دنوں میں اس کی شدت اور خطرناکی و خوفناکی میں کیسے اضافہ ہو جاتا ہے… اگر کوئی شخص عقل و دانش ہمیں اس عقدہ کے بارے میں سمجھا سکے تو ہم یقیناً دنیا و آخرت میں اس کے احسان مند ہوں گے… ہمارے منہ میں خاک کہ ہم میں اپنے منتخب تبدیلی سرکار کو بلاول بھٹو زرداری کی زبان میں سلیکٹڈ اور مولانا فضل الرحمن کی زبان میں یہودی ایجنٹ کہہ دیں، ہمارا ریکارڈ شاہد ہے کہ ہم نے بہاولنگر میں پاکستان تحریک انصاف اور کپتان کا علم تھاما تھا جب پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ وفاقی وزیر محترم جناب شیخ رشید احمد صاحب کپتان کے روبرو ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں کپتان کو “ٹانگہ پارٹی کہا کرتے تھے”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں