150

خواتین کو باشعور بنانے میں پاکستانی میڈیا کا کردار…(عبدالقیوم نعیمی)

تحریر: عبدالقیوم نعیمی

موجودہ دور میں میڈیا دور خاص اہمیت حاصل کر چکا ہے۔ اسی بنا پر اسے “قومی ستون” کا درجہ حاصل ہے دینا بے۔ میڈیا عوام کے ذہنوں کو کنٹرول کرتا ہے اور حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔

تاریخی تناظر میں اگر پرنٹ میڈیا کی بات کیجائے تو عورتوں کو صرف خواتین کے صفحے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ اگر کہیں خواتین اپنا سکہ جما رہیں تھیں تو یہ چند ایک مثالوں سے زیادہ نہی۔

2000ء کے بعد ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو عورتوں کے لئے کام کے مواقع میں اضافہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اب خواتین ہر موضوع پر مضامین ،کالم ،فیچرز،انٹرویوز،

رپورٹنگ جیسے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے عورتوں کے مسائل سے نکل کر سیاست، ادب، تعلیم،تجارت،تعمیرات، صحت، کھیل کھلاڑی،سائنس و ٹیکنالوجی،صنعت و معیشت، شوبز،ادب،کھانا خزانہ، آرائش، ڈیزائننگ، فیشن اینڈ بیوٹی،اسکن کیئرجیسے ان گنت موضوعات پر اپنے قلم کے جوہر دکھانے لگی ہیں۔

ان میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والی ایسی کئی لڑکیاں ہیں جنہوں نے اپنے قلم سے صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور صحافت کے میدان میں عورتیں بہت تیزی سے اپنی اہمیت جتا رہی ہیں ۔میڈیا سمیت تمام ملٹی نیشنلز میں آفس ڈیکورم برقرار رکھنے کے لیے خواتین کو لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے مڈل کلاس کے گھرانوں میں بیٹیوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق سوچ میں بڑی روشن خیال تبدیلی واقع ہوئی ہے۔وہ گھرانے جو کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کی بیٹیاں ڈاکٹر یا استاد بننے کے علاوہ کوئی اور پروفیشن اختیار کرسکتی ہیں‘آج ان کی بچیاں وکیل،انجینئر،فیشن ڈیزائنر، سیاستدان،ائیر فورس میں پائلٹ،سول سروس آفیسر،کرنل،میجر اور میڈیا میں اینکر پرسن کے طور پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

آج پاکستان کے گھرانوں کی اکثریت کو اپنی بیٹیوں کے مخلوط تعلیمی اداروں میں اور مختلف دفاتر میں مردوں کے ساتھ کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں رہا۔ خواتین مردوں سے بہتر لیڈر شپ یا منتظم یا تخلیقی صلاحیتوں والی ادیبہ،شاعرہ،مصورہ یا کھلاڑی دکھائی دیتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی خبروں نے خواتین میں اپنے حقوق کا شعور اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا اور شہری خواتین کے ساتھ دیہی خواتین میں بھی ووٹ ڈالنے کارجحان بڑھا حتیٰ کہ خیبر پختون خوا جیسے مردم معاشرے میں بھی خواتین نے ووٹ ڈالنے میں فعال دلچسپی دکھائی۔

جب ہم شعور کی بات کرتے ہیں تو پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے خواتین کے لائف اسٹائل کو کئی حوالوں سے تبدیل کیا ہے ۔جس پر نظر ڈالی جائے تو آپ میڈیا کی طاقت کو کسی طور پسِ پشت نہیں ڈال سکتے کہ جہاں اس نے خواتین کو پراعتماد اور باروزگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اسی میڈیا سے خواتین نے کئی فوائد بھی حاصل کیے اور متاثر بھی ہوئیں۔ خواتین اب ڈراموں ,ٹاک شوز, نسا ریڈیو نیٹ ورک, مارننگ شوز میں اپنی صلاحیتوں کا ہوہا منوا چکی ہیں۔ ٹی وی کی سکرین پر بات چیت کے ذریعے نئے رجحانات متعارف کروائے ہیں۔جس سے نا صرف ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کی ناظرین میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کااضافہ ہوا ہے۔ جس سے سوسائٹی می یقیننا تبدیلی واقع ہوئی ہے جو کہ میڈیا ہی کی مرہون منت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں