78

مجاہداسلام، ارتغرل غازی … (اے ڈی شاہد)

تحریر: اے ڈی شاہد

یہ بارہ سال پہلے کی بات ہے جب انٹرنیشنل سٹی پاکپتن شریف سے گزرنے والی بڑی نہر پاکپتن کینال کے کنارے میرے چند دانشور احباب کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ بیٹھک کا مقصد ملکی حالات کے علاوہ پوری دنیا کی تاریخ پر بات چیت کرنا ہوتا تھا ۔ اعلی تعلیم یافتہ اہل علم دوستوں کی محفل میں ایک میں ہی سب سے کم پڑھا لکھا اور طالب علم تھا لیکن اخبارات میں کالمز رپورٹس لکھنے کی وجہ سے تاریخ میں جھانکنے کی میری کافی زیادہ دلچسپی تھی۔ مسلم امہ کی تاریخ کے حوالے سے خلافت عثمانیہ پر پہروں گفتگو ہوتی جس پر بہت ہی پیارے دوست چوہدری امجد جاوید کمبوہ کے علم و دانش سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

خلافت عثمانیہ کے بانی مسلم دنیا کے عظیم فاتح ہیرو مجاہد اسلام ارتغرل غازی کو پڑھنے کی خواہش مجھے کتابوں میں لے گئی اور پھر ترکوں نے اس پر ڈرامہ سیریز بنائی جسے دیکھ کر کافی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس مرد مجاہد ارتغرل غازی کی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسویں میں یہ کچھ روایات کے مطابق 1281 عیسوی ہوئی۔ آپ کے تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان۔ آپ کے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 عیسوی یعنی اپنے والد ارتغرل غازی کی وفات کے 10 سال بعد خلافت عثمانیہ بنائی اور اس خلافت کو اسی عثمان کے نام سے منسوب کیا گیا۔ لیکن سلطنت کی بنیاد ارتغل غازی رکھ کر گئے تھے ۔گانا گانا عثمانی ترک جن کا یہ نام کسی نسل یا قوم کی طرف نہیں بلکہ ان کے پہلے فرمانروا عثمان خان کی وجہ طرف سے منسوب ہے۔ جو ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشوں کی حیثیت سے داخل ہوئے پھر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو ڈیڑھ سو برس کے اندر اندر دنیا کی زبردست طاقتوں میں شمار کی جانے لگی۔

تین سو برس گزرنے نہ پائے تھے کہ عثمانی سلطنت وسعت اور طاقت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے زیادہ عظیم الشان سلطنت بن گئی۔ اس کے عروج کا دور مشرق میں سلطان سلیم اول اور مغرب میں سلیمان اعظم کی فتوحات پر ختم ہوتا ہے جس کی حکومت ایشیا، یورپ اور افریقہ کے وسیع حصوں میں قائم تھی۔ اس عہد میں عثمانی ترک ایک مرکزی یورپین طاقت تھے۔ ہنگری ان کے زیر نگیں تھا اور آسٹریا کے پایہ تخت ویانا کی دیواروں تک ان کی فوجی پہنچ چکی تھیں۔ ان کی ہیبت پورے یورپ پر چھائی ہوئی تھی ۔سلطنت عثمانیہ کے مجاہدین نے 1291 عیسوی سے لے کر 1924 تک، 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی، گنبد خضرا اور مسجد حرام کی جدید تعمیر ،سیدنا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مزار، مکہ مکرمہ کا ایک عظیم الشان نہر، پیغمبر عظیم آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر انوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار اور مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ وغیرہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ ارطغرل غازی کا خاندان وسط ایشیا سے یہاں آیا تھا۔ ان کے جد امجد اوغوز خان کے 12 بیٹے تھے جن سے یہ 12 قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ تھا جن میں سے ارتغل غازی کا تعلق تھا۔ آپ کے والد کا نام سلیمان شاہ تھا۔ ارطغرل غازی کے تین اور بھائی صارم، ذوالجان، گلدارو آپ کی والدہ کا نام حائمہ تھا۔ آپ کا قبیلہ سب سے پہلے وسطہ ایشیا سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ آیا تھا۔

منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کے لیے جہاں سلطان علاؤالدین جو سلجوک سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان نے1071 عیسوی میں بازنطینیوں کو Battle of Manzikert میں عبرتناک شکست دے کر قائم کی تھی۔ سلطان ال ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اسی سلطنت کے آگے جاکے سلطان علاؤالدین فرمانروا بنے تھے۔سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ بارہ قبیلے اوغوز خان رہتے تھے۔ ان قبائل میں سے قائی قبیلے کے سردار ارتغرل بنے جو اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد سب سے پہلے اہلت پھر اہلت سے 1232 عیسوی میں حلب گئے جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے العزیز کی حکومت تھی ۔سب سے پہلے ارتغرل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاوالدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی جس کے بطن سے آپ کے تین بیٹے پیدا ہوئے۔ ارتغرل غازی کے ذہن میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم ہر وقت کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔

سومنات کے مندر کی تاریخ جس میں ہزاروں مسلمانوں کے تن آج بھی مقدس کلیسا کی نام نہاد تہذیب یافتہ قوم میں پائے جاتے ہیں۔ اس کلیسا کا نام Capela Dosossos ہے یہ پرتگال کے شہر “ایوارا” ہے جس کو “پوپ فرانسس کانی” مکمل طور پر اندلس میں شہید کئے گئے مسلمانوں کی ہڈیوں سے تعمیر کیا تھا جس کی دیواروں پر دو بچوں کی خشک لاشیں خشک کر کے لٹکائی گئیں جن کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس کو بنانے کے لیے پانچ ہزار مسلمانوں کے ڈھانچے کو استعمال کیا گیا جن کو اندلس کے سقوط کے بعد نصرانیت قبول نہ کرنے پر قتل کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی مظالم ارتغرل غازی کو ہر وقت بےچین کیے رہتے تھے اسی وجہ سے وہ مسلم اتحاد کا خواہاں تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے دو مسلم سلطنتوں کے سلاطین ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی اور صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا۔ اس کے بعد وہ سلطان علاوالدین کے بہت قریب ہو گیا۔

جب منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغرل غازی نے منگولوں کے ایک اہم لیڈر نویان کو شکست دی۔ نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا دایاں بازو تھا اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی خان کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روند ڈالا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھی دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا۔ منگولوں کو شکست دینے کے بعد وہ اپنے قبیلے کو لے کر سوغوت آئے جو قسطنطنیہ کے بالکل قریب تھا۔ جہاں پر سب سے پہلے بازنطینی اہم قلعہ فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبائل کو اکٹھا کیا۔

سلطان علاوالدین کے بعد ان کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے۔ جس کی بیٹی کے ساتھ عثمان کی شادی ہوئی۔ ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے۔ ان کی نسل سے سلطان محمد فاتح رحمۃ اللہ علیہ تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی۔ تاریخ میں ارطغرل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملے ہیں جس نے اپنا تمام زندگی اپنی نسلوں کی بقاء مسلم امہ اور اسلام کی خدمت کرتے کرتے جنگ میں گزار دی۔

اس کے اس روحانی پہلو کے پیچھے ایک روحانی شخصیت شیخ محی الدین ابن العربی رحمتہ اللہ علیہ تھی جس کی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی تھی۔ شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ درجنوں کتب کے مصنف اور اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی تھی جو علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ جو اندلس سے ارتغرل کی روحانی مدد کو پہنچے تھے۔ ابن امام ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ نے ارطغرل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہر وقت ان کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے۔ اللہ پاک مجاہد اسلام ارتغرل غازی رحمتہ اللہ علیہ پر راضی ہو جس نے مسلمانوں کو کفار کے مظالم سے ایک لمبے عرصے تک نجات دلائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں