58

حکومت اور الیکشن کمیشن … (اے. ڈی. شاہد)

تحریر: اے ڈی شاہد

اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پا لوں ہاروں تو پیا تیری

سیاسی میدان ہو یا کھیل کا ہر ہارنے والی ٹیم اپنا احتساب کرنے اور غلطیوں کو سدھارنے کی بجائے آپنی ہار کا ملبہ ہمیشہ دوسروں پر ہی ڈال دیتی ہے۔ حکومت طاقت اور اختیارات کا نشہ دنیا کا سب سے بڑا نشہ ہے جو شروع سے ہی انسانی فطرت میں شامل ہے۔ ہمیشہ سے حکومتی پارٹیوں کا یہی رویہ رہا ہے کہ بھلے ہی جانیں جائیں تو جائیں پر حکومت کی ڈور ہاتھوں سے کبھی نہ چھوٹے ۔ ڈسکہ کا ضمنی الیکشن اور سینیٹ کے انتخابات کے بعد موجودہ حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن سے استعفے کے مطالبے کی بھی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے الیکشن کمیشن کے چیئر مین اور اس کے ممبران کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا تاکہ اپنی مرضی کا جی حضوری کرنے والا نیا کمیشن بنایا جا سکے۔

پچھلے کئی ہفتوں سے وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے ناخوش ہے۔ کیونکہ ضمنی انتخابات میں ڈسکہ حلقے میں انہوں نے از سر نو پولنگ کا حکم جاری کیا جبکہ سینیٹ الیکشن میں حکومت کے اوپن بیلٹ کو رد کر کے خفیہ طریقے سے الیکشن عمل میں لانے کے طریقہ کو اپنایا۔ جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر خزانہ شیخ حفیظ کو شکست دی۔ قانون دانوں کا ماننا ہے کہ حکومت کا موقف غلط ہے اور آئینی تقاضوں کو دیکھ کر الیکشن کمیشن کے اراکین کو صرف جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چیف جسٹس کرتے ہیں. عدالت عظمیٰ کے دو سینئر جج اور ہائی کورٹس کے دو چیف جسٹس کا اس کا حصہ ہوتے ہیں ۔ اگر حکومت کو الیکشن کمیشن کے بارے میں کوئی عذر ہو تو وہ ریفرنس دائر کر سکتی ہے تاکہ ان کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جا سکے۔

اس موجودہ صورتحال پر الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر یا دوسرے ممبران کے مستعفی ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ کمیشن نہ تو آئین لکھ سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ترمیم کر سکتا ہے۔ حکومت کو شاید یہ بھی خدشہ ہے کہ بیرونی فنڈنگ کیس کے معاملے میں حکومت خطرے میں پڑ سکتی ہے شاید اس وجہ سے بھی کمیشن پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ سنجیدہ مسئلہ کمیشن کے زیر غور ہے اگر کمیشن نے اس پر کوئی فیصلہ لیا تو حکومت گر بھی سکتی ہے. یہی وجہ ہے کہ حکومت نے متعدد بار الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے کچھ فیصلے حکومت کے لئے حزیمت کا سبب بن رہے ہیں۔

ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 20 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں سے پریزائیڈنگ افسر 10 گھنٹوں سے زیادہ دیر تک لاپتہ رہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے وہاں پر ازسرنو الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا جو کہ اب اپریل میں ہوگا۔ دریں اثناء حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پر سینٹ انتخابات میں فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے اور نئے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیا۔ وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہے اسے بھی الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں رہا۔ اگر دوسری سیاسی جماعتوں پر نظر دوڑائی جائے تو وہ بھی الیکشن کمیشن کی شکایات کرتی نظر آتی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں وفاقی وزراء شفقت محمود، شبلی فراز اور فواد چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ الیکشن کمیشن ناکام ہوچکا ہے جو کہ نیوٹرل امپائر کا کردار ادا نہیں کر رہا اس لیے اسے بحثیت مجموعی استعفی دینا چاہیے۔ مسلم لیگ نون کی رہنما نے وفاقی وزراء کی طرف سے الیکشن کمیشن کے استعفے کے مطالبے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر حکومت کو ضمنی انتخابات میں کہیں سے کامیابی نہیں ملی تو اس میں الیکشن کمیشن کا کیا قصور ہے۔ ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ مطالبہ غیر منطقی ہے۔ وفاقی وزیر شفقت محمود کے مطابق 2021 کے سینٹ انتخابات کے لئے ہم نے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جس پر اعلی عدلیہ نے کہا کہ اگر آپ نے ووٹنگ کا طریقہ کار بدلنا ہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم ہونا ضروری ہے لیکن عدالت نے آئین کے آرٹیکل 218 (3) کا حوالہ دیا جس کے مطابق “الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ انتخابات کے انتظامات کرے، اسے منعقد کرائے اور ایسے انتظامات کرے جو اس عمل کے اطمینان کے لئے ضروری ہو کہ انتخابات ایمانداری حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہو اور یہ کہ بدعنوانی کا سدباب ہوسکے”۔ جس پر حکومتی موقف کے مطابق “ہم نے چیف الیکشن کمشنر سے وفد کی صورت میں ملاقات کرکے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ووٹ کو خفیہ رکھنے کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہیے اگر آپ نے بدعنوان طریقوں کو روکنا ہے تو اس کا کوئی طریقہ بنایا جائے ہم نے استدعا کی کہ ووٹ بیلٹ پیپر پر کوئی ایسی خفیہ نشانی جو موقع پر موجود لوگوں کو بے شک نظر نہ آئے لیکن اگر ضرورت پڑے تو اس کی بعد میں تحقیق کی جا سکے مگرافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کو مسترد کر دیا گیا اور کمیٹی بنا کر کہا گیا کہ مستقبل میں کوئی ایسا طریقہ وضع کیا جائے گا۔

حکومتی موقف کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا نہیں سکا۔ کسی کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں رہا تو اس کا حل یہی ہے کہ الیکشن کمیشن موجودہ حالت میں نہیں چل سکتا اور بحثیت مجموعی استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر کوئی اور طریقہ نہیں ہے کہ جس سے اعتماد بحال ہو سکے”۔

میں اپنے معزز قارئین سے یہ بات ضرور شئیر کرنا چاہوں گا کہ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی سیاست تو ملک و قوم کی خدمت کا نام ہے مگر وطن عزیز میں یہ کیسی خدمت ہے کہ خدمت گار زبردستی خدمت کرنا چاہتا ہے اور یہ کس قسم کی خدمت ہے کہ جس میں اغواء اور قتل و غارت جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔

وہ جو بیچتے تھے درد دوائے دل
اپنی ہی دکان بڑھا گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں