104

الیکٹرانک میڈیا کا ہماری زندگی میں کردار… (عبدالقیوم نعیمی)

تحریر: عبدالقیوم نعیمی

آج کی دنیا میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ ہم نے اپنے بچپن سے ہی دیکھا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کی خبر شائع کرنے کا واحد ذریعہ اخبار تھا۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے کیوں کہ ٹی وی چینلز آج کی زندگی میں زیادہ اہمیت لے چکے ہیں بریکنگ نیوز اور واقعات کی براہ راست نشریات، معلومات کا تبادلہ اور پریس کانفرنسیز۔ اخبار ٹی وی چینلز سے کم اہم ہوگیا ہے۔ اگر ماضی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے۔ مختلف سیاسی سرگرمیوں اور تحریکوں میں تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو روابط اور کارکنوں کو تحریک دینے میں بڑی جدوجہد اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاص طور پر مارشل لاء کے دوران جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد بہت مشکل تھی اور لوگوں کو اکٹھا کرنا اور سیاسی جماعت کا چلانا ایک مشکل کام تھا۔ اس دوران نہ تو کوئی موبائل فون تھا، نہ فیکس اور نہ ہی انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی۔ مختلف دیہاتوں، شہروں یا ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں کو پیغام فوری طور پر پہنچانا ناممکن تھا۔پیغام جس طرح بھیجا جاتا وہ یہ تھا کہ خط پوسٹ کریں، لینڈ لائن نمبر پر کال بْک کریں اور رابطہ قائم کرنے کے لئے کال کا انتظار کریں جس کی کوئی حد مقرر نہیں تھی، یا ٹیلیگرام بھیجنا ہی معلومات یا پیغام کو منتقل کرنے کا واحد طریقہ تھا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگ ریڈیو کو بہت پسند کرنے لگ گئے۔ جس میں ریڈیو پاکستان کے علاوہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ کی اردو سروس بھی اہم خبروں کے لئے موثر وسیلہ تھی۔

سال دوہزار کے بعد جب پرائیویٹ چینلز کا آغاز ہوا اور جلد ہی عروج ملا تو یہ ٹی وی چینلز بزنس بن گئے اور کاروباری لوگوں کی طرح ان کا بھی اپنا ایجنڈا تھا کہ زیادہ سے زیادہ رقم کمائیں۔ پرنٹ میڈیا کے بہت سارے لوگوں کو الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بننے کا موقع ملا جس نے ان کے پورٹ فولیو کو اہمیت دی اور بہت سے نئے افراد جو ٹی وی کے لئے متحرک تھے انہیں آن لائن لایا گیا اور اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا گیا۔

اس الیکٹرانک میڈیا نے بہت سارے لوگوں کو جنم دیا۔ جو اس وقت کامیاب پروگرام کر رہے ہیں۔ موجود معاملات پر براہ راست ٹی وی شوز کا کلچر بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے پروگرامز کرنے اور کروانے والوں کے پورٹ فولیو اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ٹی وی شوز میں انسانی زندگی اور ضروریات سے متعلق ہر قسم کے پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ بلکہ ہر الگ الگ موضوع پر پورے پورے چینلز بن چکے ہیں۔ جیسے مذہب، فلم، ڈرامہ، گانے، کھیل، کلچر اور جنگلی حیات سے متعلق چینلز ہیں۔ ان کے ناظرین کے لحاظ سے ان کو بزنس ملتا ہے۔ الغرض الیکٹرانک میڈیا جس طرح اہمیت اختیار کر چکا ہےاور ہر عمر کے طبقے اور ان کی تعلیم کے مطابق مارکیٹ میں چیزیں لا رہا ہے اور جدید سے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جس سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ ٹی وی دیکھے بغیر گزارہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔ خاص طور چینلز پر چلنے والے اشتہارات زندگی گزارنے کی نئی جہتیں متعین کر چکے ہیں۔ اور جو کچھ ہم کھاتے پیتے پہنتے اور دیگر چیزیں استعمال میں لاتے ہیں اشتہارات کے عمل دخل سے کلی طور پر مبرا نہیں ہوتیں۔ مختلف حکومتیں بھی نیوز چینلز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور کچھ جماعتیں ان چینلز کو مخالفین بارے پراپیگنڈا کے طور پر بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جس سے ان چینلز کا منفی استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز چینلز کی نشریات کے حوالے سے دنیا کا مقابلہ کرنے اورہماری قومی ضروریات کے لحاظ سے کوئی پالیسی متعین کریں اور مقتدر قوتیں اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں