92

پنجابی روایات اور کلچر … (اے ڈی شاہد)

تحریر: اے ڈی شاہد

پنجابی کلچر اور روایات خالصتا پنجابیوں کے طرز رہن سہن، لباس اور کھانے پینے وغیرہ کے متعلق ہے۔ پنجابیت کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پنجابی قوم ہی پنجابیت ہے۔ یہ ایک ایسا تہذیبی تجزیہ ہے جس کا تعلق پنجاب کے لوگوں کے طرز زندگی پر ہے جو انہیں باقی قوموں سے الگ تھلگ اور منفرد رکھتا ہے۔ پنجابیت ایک ایسا احساس ہے جس کے ذریعے ایک خاص احساس کی جھلک نظر آتی ہے۔

پنجاب ایک زرخیز زمین والا میدانی علاقہ ہے جس میں زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور پنجاب کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔ زیادہ تعداد میں باقی لوگ بھی اس زرعی شعبے کے ساتھ منسلک ہیں۔ پرانے زمانے میں لوہار، ترکھان، راج، کمہار کسانوں کے لیے ہل پنجالی اور کھوہ سے پانی نکالنے کے لیے ٹنڈاں (بالٹیاں ) بناتے تھے آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ٹریکٹر، تھریشر، کمبائن مشین کے علاوہ اور بھی بہت سے زرعی آلات بن گئے ہیں۔

پنجاب کے کلچر میں مہمان نوازی کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ باہر سے آنے والے مہمان کے آرام اور کھانے پینے کا بہتر سے بہتر بندوبست کرنا اور الوداع کرتے وقت گاؤں سے باہر تک پیدل ساتھ چلنا پنجابیوں کی خاص روایت رہی ہے جو اس وقت بالکل ختم ہو چکی ہے۔

پنجابی ملبوسات میں کھدر، ململ اور ریشم کی پگ، ریشمی لنگی (چادر ) اور لاچے کا عام رواج تھا۔ پرانے دور میں ریشمی پگ کو امیری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت مرد حضرات کرتے پہنتے تھے جن پر بٹنوں کی جگہ تنیاں (ڈوری ) لگی ہوتی تھیں۔ قمیض اور بوشرٹ کے کئی نمونے ہوتے تھے۔ پنجاب پر انگریزوں کےقبضے سے پہلے تعلیم یافتہ لوگ سیدھے پاجامے پہنتے تھے۔ انگریزوں کے آتے ہی پینٹ پہننے کا رواج پڑ گیا اور انہوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے اور سازش کے تحت پنجابیوں کی شان، عزت، وقار، عظمت و بڑائی کی علامت پگ کی بے حرمتی کرتے ہوئے ہوٹلوں پر کام کرنے والوں خان شامے اور بیروں کو پہنا دی۔

پنجاب کے لوگ ہار سنگھار کرنے کے بے حد شوقین تھے۔ پنجابی خواتین کے گہنے پوری دنیا سے منفرد تھے۔ سر پہ سنگھار پٹی اور پاسہ، پاؤں میں پازیب، ماتھے پر ٹکا، ناک کے مشہور گہنے کوکا، نتھلی، مچھلی، لونگ اور تیلی تھے۔

پنجابیوں کی خوراک جس میں دالیں، سبزیاں، پھل، گندم کی روٹی، انڈے، گوشت، سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی، دیسی گھی میں بنی ہوئی روٹی کی چوری، کھیر، سویاں، پوڑے اور کھویا شامل تھے۔

میلے اور بیساکھی کے تہواروں میں لوک ناچ، سمی، جھومر، ماہیے، ٹپے، پنجابی کلچر کا حصہ تھے جو آہستہ آہستہ دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری اور مصروفیات کی وجہ سے قصہ پارینہ ہوگئے۔

جو قومیں اپنی تہذیب اپنی روایات کو بھول جاتی ہیں تاریخ گواہ ہے وہ یا تو صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں یا پھر مسلسل افراتفری و بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُن کا مقدر ہو جاتا ہے. ایسی اقوام کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ، غیبت، چوری و ڈکیتی، قتل و غارت، رشوت، بد کاری، حرام، دھوکہ دہی، فراڈ، نفرت،فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی، نا انصافی، مہنگائی، بے روز گاری، مفاد پرستی اور ذات پات وغیرہ جیسے روگ جنم لیتے ہیں پورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم میں مبتلا ہو کر رہ جاتا ہے دور جدید کی افادیت کے ساتھ ساتھ ہم نے کھویا بھی بہت کچھ ہے. کبھی نہ پورے ہونے والے نقصانات سے دو چار ہو ئے ہیں جس طرح انسانی جسم میں قبض کو کئی بیماریوں کی جڑ سمجھا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح معاشرے کے جسم سے اخلاقیات کے ختم ہو جانے سے کئی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں ایک زمانہ تھا جب گاؤں یا شہر کے محلے میں فوتگی ہو جاتی تھی تو جب تک میت کو دفنا نہیں دیا جاتا تھا تب تک گھروں میں چولہے نہیں جلتے تھے پورا گاؤں یا محلہ سوگ میں مبتلا ہو جاتا تھا دیہاتوں میں تو اس قدر سناٹا چھا جاتا تھا جیسے مرنے والے کے ساتھ سارا گاؤں ہی مر گیا ہو، ہر آنکھ اشکبار ہو تی تھی رسیم چہلم تک ریڈیو، ٹیب ریکارڈر، ٹیلی ویژن کو اُٹھا کر صندوق میں بند کر دیا جاتا تھا. شادی بیاہ کی تقریبات مکمل طور پر معطل کر دی جاتی تھیں. قبر کشائی کیلئے پوری گاؤں کے نو جوان اکھٹے ہو کر یہ اہم فریضہ ادا کرتے.

اگر خدا نخواسہ کبھی کوئی طلاق کا واقعہ پیش آتا تو گاؤں کے معززین کہیں دور جا کر طلاق لکھنے کے واقعہ یا فیصلے کو سر انجام دیتے تا کہ اس کا عذاب پورے گاؤں پر نہ نازل ہو اور بیٹی والوں کے گھر میں کئی دنوں تک افسوس کرنیو الوں کا آنا جانا لگا رہتا ایک عرصے تک وہاں کی فضا ء سو گوار رہتی تھی اگر کوئی انسانی قتل جیسی واردات ہو جاتی تو اعلیٰ اخلاق پر فائز آسمان کا رنگ سرخی مائل ہو جاتا، ابر آلو د فضا اور آسمان پر لالی کو قتل کی علامت سمجھا جاتا تھا راستے میں پڑے کانٹوں کو اُٹھا لیا جاتا تھا تا کہ کسی دوسرے کے پاؤں میں نہ چھُبیں. محبت اور بھائی چارے کا یہ عالم تھا کہ شادی بیاہ کی تقریبات ہفتہ بھر جاری رہتی تھیں. بچے بچپن میں ہی اخلاقی تربیت سے مالا مال ہوتے تھے ایک دوسرے سے چھوٹی اُنگلی ملا کر دوستی پکی کرتے اب گلے مل کر بھی اندر کی میل صاف نہیں ہوتی اور اسی چھوٹی انگلی کو ملا کر بچے کچی کرنے کا عمل کرتے ہیں.

دیسی اور قدرتی کھانوں کا استعمال کر کے لمبی عمر یں اور صحت پانے والے اب ولایتی کھانوں کی بھینٹ چڑھ کر اپنی صحت اور لمبی عمروں سے بھی محروم ہو چکے ہیں. ہارٹ اٹیک کو خالصاََ اُمرا کی بیماری سمجھا جاتا تھا جس سے اب علاج نہ ہونے کی وجہ سے غُربا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں.

بڑے بڑے تنازعات کا حل فوری انصاف پر مبنی پنچائیتوں کے ذریعے ہو تا تھا مگر اب آج کل اِسی جدید دور میں تمام عمر تھانے کچہریوں میں بسر ہو جاتی ہے. عمر کے آخری حصے میں کوئی چوٹ لگتی یا تکلیف ہوتی تو منہ سے اس خالص اور انمول رشتے ہائے ماں کی صدا نکلتی تھی مگر اب فیڈر نے ماں سے بچہ چھین لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ماں بیٹے کا مضبوط ترین رشتہ بھی کمزور ہو چکا ہے. بیٹا باپ کو اور باپ بیٹے کو بیٹا ماں کو بھائی بھائی کو قتل کرنے جیسے واقعات معمول بن چکے ہیں.

بیٹی کی مضبوط ترین پناہ گاہ باپ کا گھر بھی اس کی زندگی اور عزت کیلئے محفوظ نہیں رہا اپنے خاوند کو مجازی خدا سمجھنے والی عورت نام نہاد مغربی آزادی اور اُسی آزاد ی کا پر چار کرنیو الے ہمارے ٹی وی پروگراموں کی وجہ سے فیشن اور آزادی کی دھن میں مگن آج کی خواتین اپنے رویوں کی وجہ سے طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافے کا خود بہت بڑا سبب بن چکی ہیں. اس جنسی فاقہ کش قوم کی اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہو چکی ہے کہ سب سانجھے سمجھے جانے والے بچے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کا رجحان جس تیزی سے بڑ ھ رہا ہے. یہ سب اپنی روایات دین سے دوری اور پیغمبرعظیم حضرت محمدصلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے پیغام عظیم کو بھول جانے کا نتیجہ ہے ہم نے جس تیزی سے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے اس کو آہستہ آہستہ حاصل کرنے میں بھی صدیاں لگ جائیں گی۔

اس پر سنجیدگی سے سوچنے اور عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وقت ہمارے ہاتھ سے ریت کی طرح تیزی سے پھسلتا جا رہا ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں