68

سینٹ الیکشن میں اپ سیٹ ہوں گے؟ ۔۔۔ (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

عدالت نے صدر پاکستان کے جاری کردہ الیکشن آرڈیننس 2021ءسے اتفاق نہیں کیا، اور رائے دی ہے کہ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونگے، صدر مملکت عارف علوی نے آرڈیننس جاری کیا تھا کہ سینٹ الیکشن اوپن ووٹ کے ذریعے کرایا جائے جس کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ سینٹ الیکشن میں امیدوار کروڑوں اربوں روپیہ خرچ کر کے ارکان اسمبلی کے ووٹ خرید کر سینیٹر بن جاتے ہیں، اس آرڈیننس کو عدالت عظمی کی تشریح سے مشروط قرار دیا گیا تھا، اب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور 3 مارچ کو ہونے والے سندھ، کے پی کے، بلوچستان اور اسلام آباد کے سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونگے، اور سینٹ کے الیکشن میں وہ امیدوار جو ماضی کی طرح اب کی بار بھی پیسے کے بل بوتے پر ارکان اسمبلی کو پیسے دے کر ان کے ضمیر خرید کر ووٹ حاصل کر کے سینیٹر بنتے تھے خفیہ رائے شماری کے ذریعے الیکشن ہونے پر وہ بگلیں بجا رہے ہیں اور انہوں نے ایسے ارکان اسمبلی جو مال و متاع کیلئے عوامی مینڈیٹ فروخت کرنے کے خواہاں ہیں کے گرد جال بچھا دیا ہے.

سیاسی تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں گو کہ تھوڑا وقت رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود اب کی بار بھی الیکشن میں پچھلے انتخابات کی طرح 3 مارچ کو بھی خوب اپ سیٹ ہونگے، اور حسب سابق اس بار بھی نتائج نا قابل توقع ہونگے۔ یاد رہے کہ عدالت کی جانب سے الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرائے جانے سے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بیانیہ کو مزید تقویت ملی ہے کیونکہ این اے 75 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے الیکشن دوبارہ کروانے کا فیصلہ بھی اپوزیشن کے حق میں آیا تھا، اس فیصلہ کے بعد اپوزیشن کی خوشی دوہری ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ ماضی کے ہر سینٹ انتخابات میں اپ سیٹ ہوتے رہے ہیں، دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن میں جاری محاذ آرائی پر عوام کی اکثریت جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے پریشان ہو کر رہ گئی ہے، آئے روز اس حوالے سے نئی نئی کہانیاں اور افسانے سن کر عوام ذہنی طور پر انتخابات کے بیزار ہو چکے ہیں، خفیہ رائے شماری کے فیصلے کے ساتھ ہی ملک کے سیاسی ایوانوں میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سینٹ کے امیدواروں نے ارکان اسمبلی سے ووٹ لینے کے لیے جوڑ توڑ، پیسے کی ریل پیل شروع کردی ہے، جبکہ ماضی میں ارکان کی لگنے والی اس منڈی کے سیاست میں حیران کن نتائج سامنے آتے رہے ہیں۔

2018 میں بڑے ایوان کے انتخابات میں بڑے اپ سیٹ ہوئے، سب سے بڑا اپ سیٹ پی ٹی آئی کے موجودہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کیا۔ جنرل نشست پر چودھری سرورکو 34 ووٹ ملنے تھے مگر غیر متوقع طور پر وہ سب سے زیادہ 44 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہو گئے، پنجاب میں 10 (ن) لیگی ارکان اسمبلی نے ضمیر کا سودا کیا اورخفیہ رائے شماری میں اپنے ووٹ کا وزن چودھری سرور کے پلڑے میں ڈال دیا، اس طرح مسلم لیگ ن کے زبیر گل ٹکٹ ہولڈر ہونے کے باوجود سینٹ الیکشن ہار گئے۔ ان کی جگہ مسلم لیگ ن کے متبادل امیدوار رانا محمود الحسن جیت گئے، اسی طرح 2018 میں سندھ میں ایم کیو ایم کیساتھ بھی ہاتھ ہوااور مفاہمت کی سیاست ماہر آصف علی زرداری کی سیاست نے جادو دکھایا اورایم کیو ایم دو امیدواروں کے بجائے اپنا صرف ایک سینیٹر فروغ نسیم ہی کامیاب کروا سکی، پیپلز پارٹی ایوان میں ووٹوں کے تناسب سے نو سینٹر دوبارہ منتخب کروا سکتی تھی۔ لیکن آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار سینیٹر منتخب ہو گئے.

2018 خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کو سینیٹ انتخابات میں بڑا دھچکا لگا اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی اکثریت کے باوجود مطلوبہ تعداد حاصل نہ کر سکی، کے پی کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کی تعداد سات تھی لیکن وہ دو نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ، روبینہ خالد خواتین اور بہرہ مند تنگی جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے، خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر لڑنے والے جے یو آئی س کے مولانا سمیع الحق کو غیر متوقع شکست ہوئی اور مسلم لیگ ن کے دلاور خان نے فتح سمیٹی، 2018 میں ہارس ٹریڈنگ کے الزام پر پی ٹی آئی کے کپتان نے 20 ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا، واضح رہے کہ 2018 میں بلوچستان کے سینیٹ الیکشن میں ن لیگ کو غیر متوقع شکست ہوئی تھی بلوچستان میں اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن صوبائی اسمبلی میں اکیس ارکان کی موجودگی کے باوجود ایک بھی نشست حاصل نہ کرسکی تھی اور یہاں سے آزاد امیدوار انوارالحق کاکڑ، احمد خان، کہدہ بابر اور صادق سنجرانی جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے، خواتین کی نشست پر ثناء جمالی اور ٹیکنو کریٹ کی نشست پر نصیب اللہ بازئی سینیٹر منتخب ہوئے تھے، اسی طرح 2015 کے سینیٹ انتخابات میں بھی “غیبی امداد” کے الزام لگتے رہے ہیں.

2015کے سینیٹ الیکشن میں سندھ سے پیپلز پارٹی کے اسلام الدین شیخ کو 24ووٹ ملے، حالانکہ ایوان میں پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز کی تعداد 21 تھی۔ انہیں تین ووٹوں کی غیبی امداد کہاں سے ملی ، یہ رازآج تک نہیں کھل سکا،2012 کے سینیٹ انتخابات میں بھی بڑا اپ سیٹ ہوا تھا اور دو مارچ 2012 ہونے والے سینیٹ الیکشن میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل جیت کی یقینی نشست ہار گئے تھے اور مسلم لیگ(ن ) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محسن لغاری سینیٹر منتخب ہوئے تھے، محسن لغاری کو 46 اور اسلم گل کو 42 ووٹ ملے تھے.

2012 کے سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو مجموعی طور پر 25 نشستیں ملنے کا امکان تھامگر سندھ، پنجاب، وفاق اور بلوچستان میں 4 سے 6 نشستیں پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے نکل گئیں تھیں، ایم کیوایم اورمسلم لیگ (ق) کے امیدوار پیپلزپارٹی کی نشستوں میں نقب لگانے میں کامیاب رہے تھے، دونوں جماعتوں نے اپنی دو دو غیر یقینی نشستیں جیت لی تھیں، مصطفی کمال 26 ووٹوں سے ایم کیو ایم کے سینیٹر بن گئے تھے.

2006 کا سینیٹ الیکشن بھی سرپرائز سے بھرپورتھاچھ مارچ 2006 کے سینیٹ کے انتخابات میں بڑا اپ سیٹ اس وقت کے صوبہ سرحد میں دیکھنے میں آیا، جب اس وقت صوبہ میں حکمران جماعت متحدہ مجلس عمل اسمبلی میں اپنی بھاری اکثریت ہونے کے باوجود زیادہ نشستیں نہ سمیٹ سکی، اور ایک سو چوبیس کے ایوان میں مسلم لیگ (ق) صرف دس ارکان کے باوجود دو جنرل اور ایک مخصوص نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئی تھی اورمسلم لیگ ق کے عمار احمد خان سینیٹر منتخب ہوئے، جبکہ ان کے والد گلزار احمد خان اور بھائی وقار احمد خان پہلے ہی سینیٹ کے ایوان میں بطور ممبر موجود تھے، اس طرح سینٹ کے ایوان میں اس دورانیہ میں ایک ہی وقت میں ایک ہی گھرانے کے تین ممبران ہونے کا اعزاز انہوں نے حاصل کیا تھا جو ملک کی سیاسی تاریخ میں اب تک ریکارڈ ہے، جسے کوئی سیاسی خاندان 14 سالوں میں عبور نہیں کر سکا.

2006 میں سینیٹ الیکشن، سندھ میں بھی ایک نشست پر غیر متوقع نتیجہ سامنے آیا یہاں سینیٹ کی گیارہ نشستوں پر انتخابات میں حکمران اتحاد نے چھ اور اپوزیشن نے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اپوزیشن کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ ایک اضافی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس طرح متحدہ مجلس عمل نے ایم کیو ایم سے ایک نشست چھین لی تھی، یہ تو تھی 2006سے 2018 تک ہونے والے سینٹ انتخابات میں غیر متوقع اپ سیٹس کی صورتحال۔ اب کی بار بھی ایسا ہی ہونے کا امکان ہے۔

سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات ہو رہی تھی خفیہ رائے شماری کی تو 3 مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن میں کوئی زیادہ دن نہیں ہیں، اور پولنگ کا وقت قریب آ چکا ہے، ماضی کی طرح اب کی بار بھی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدوار، جاگیر دار، وڈیرے، سرمایہ دار ہر صورت میں جیت کیلئے متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنی تجوریوں کے منہ ارکان اسمبلی کیلئے کھول دیئے ہیں، پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور (ن) لیگ کے شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب اور دیگر قائدین نے اسلام آباد میں پڑاﺅ ڈال رکھا ہے، اور وہ حکومتی ارکان اسمبلی سے ووٹ حاصل کرنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں، اسی طرح پی ٹی آئی کے قائدین بھی اپوزیشن کے ارکان اسمبلی سے رابطہ میں ہیں اور تمام وسائل استعمال کر کے ارکان اسمبلی کو رام کرنے کیلئے کوشاں ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ سینیٹر بنوا کر سینٹ کے ایوان میں پی ٹی آئی اپنی اکثریت کر لے سو اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی پارٹی سینٹ الیکشن میں کسے سرپرائز دے گی، اس کیلئے جوڑ توڑ آخری مراحل میں ہے اور پیسے کا پھیلاﺅ خوب ہو رہا ہے، بکنے والے ارکان اسمبلی خوب مال بنائیں گے، اپ سیٹ ہونے کے بعد پھر یہی ارکان اسمبلی ماضی کی طرح اپنی قیادت کو نیاں اور تسلیاں دے کر اپنی پارٹیوں میں بدستور رہ کر حکومت اور اپوزیشن کے مزے لوٹتے رہیں گے اور ہارنے والی سیاسی پارٹیاں سینٹ الیکشن میں پھر سے واویلہ کرتی نظر آئیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں