239

”سینیٹ انتخابات اور سیاسی چالیں“ … (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی چال چلی تھی، کہ پی ٹی آئی کے صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان عارف علوی نے سینٹ انتخابات جس کا شیڈول فروری کے رواں ہفتہ میں جاری ہو گا کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس 2021 جاری کر کے اپوزیشن کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے، اب اپوزیشن کو اسلام آباد لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے اس کی تیاری کے ساتھ سینٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے حوالے سے جاری کردہ آرڈیننس کے سلسلہ میں قانونی جنگ بھی لڑنا پڑے گی، کیونکہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اوپن بیلٹ کے تحت سینٹ الیکشن حکومت کے مفاد میں ہو گا، گو کہ صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا، اور اپوزیشن نے سینٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانے کیلئے عدالت عظمی سے رجوع بھی کر لیا ہے.

اگر سینیٹ انتخاب کے حوالے سے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس 2021 عدالت معطل کر دیتی ہے تو پھر سینٹ الیکشن سابقہ طریقہ کار کے مطابق خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہونگے، جس میں بقول حکومتی وزراءبے دریغ روپیہ خرچ ہو گا یعنی ارکان اسمبلی کی ”موجاں ہی موجاں“ ہونگی، جو کہ ماضی میں دیکھنے میں بھی آئیں ہیں، حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ ارکان اسمبلی کی منڈی لگنے سے روکنے کیلئے یہ آرڈیننس جاری کیا گیا، مزید یہ کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ لوگوں کے ضمیر کیوں خریدنا چاہتی ہے، قوم دیکھ لے کون کرپٹ نظام کا خاتمہ نہیں چاہتا، وفاقی وزیر خارجہ شیخ رشید احمد اعتراف کرتے ہیں کہ آئینی ترمیم کیلئے پی ٹی آئی کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے، اس لئے عدالتی فیصلے کو قبول کریں گے، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس معاملے پر اپوزیشن کو ایک بار پھر آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ کرپٹ ٹولہ ملک میں پیسے کی سیاست ختم نہیں ہونے دینا چاہتا، وزیر اعلی پنجاب کے مشیر شہباز گل نے تو ارکان اسمبلیز کو بکریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن خرید و فروخت کا عمل ختم نہیں ہونے دینا چاہتی۔

بات ہو رہی تھی صدارتی آرڈیننس کی تو اگر عدالت نے اسے بحال رکھا تو کوئی ووٹ خفیہ نہیں رہے گا، انتخاب میں حصہ لینے والی کسی بھی پارٹی کا سربراہ یا نمائندہ کوئی بھی ووٹ دیکھ سکے گا، صدر مملکت کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اس آرڈیننس کو الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021ءکا نام دیا گیا ہے جس میں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 81، 122 اور 185 میں ترمیم کی گئی ہیں، آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس نہیں ہو رہے، اس لئے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ان حالات میں سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام فوری طور پر ضروری ہے، صدر مملکت عارف علوی نے آئین کی آرٹیکل 89 کی ذیلی شق 1 کے تحت یہ آرڈیننس جاری کیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر پورے ملک میں ہو گا، تا ہم آرڈیننس میں سینٹ الیکشن میں خفیہ یا اوپن ووٹنگ کے معاملہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط کیا گیا ہے، اس طرح عدالت نے اگر سینٹ انتخاب کو آئین کی شق 226 کے تحت کرانا قرار دیا تو خفیہ ووٹنگ ہو گی اگر عدالت نے سینٹ الیکشن کو صدارتی ایکٹ کے تحت کرانے کا حکم دیا تو اوپن ووٹنگ ہو گی، یہ تو تھا صدارتی آرڈیننس 2021 کا مختصر احوال، یہاں توجہ طلب امر یہ ہے کہ فروری کے جاری اس ہفتہ میں سینٹ الیکشن کا شیڈول جاری ہونے جا رہا ہے، اور عین اس وقت حکومت نے صدارتی آرڈیننس جاری کر کے اپوزیشن جماعتوں کو دوہرے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اب اپوزیشن کو لانگ مارچ کی تیاری کے ساتھ سینٹ الیکشن کے حوالے سے قانونی جنگ پر بھی پوری توجہ دینا ہو گی۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے اتحادی پر امید ہیں کہ وہ مارچ کے آخری ہفتہ میں اسلام آباد میں لانگ مارچ کر کے کپتان کی حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو جائیں گے، بقول اپوزیشن قائدین اس کیلئے بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، اور ان (اپوزیشن) کے پاس کئی آپشنز محفوظ ہیں، جبکہ حکومت اپوزیشن قیادت کو آئے روز آفٹر شاک جھٹکے لگا رہی ہے، اپوزیشن قائدین کے پرانے کھاتے کھل چکے ہیں، جن کا از سر نو حساب کتاب ہو رہا ہے، سالہا سال سے زیر قبضہ اپوزیشن جماعتوں سے رقبے واگزار کرائے جا رہے ہیں، ان سے اثاثوں بابت پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔ اور اکثریت اپوزیشن سیاستدانوں کے اثاثوں کو آمدن سے زائد قرار دیا جا چکا ہے۔ جس پر اپوزیشن کی تلملاہٹ پوری قوم دیکھ اور سن رہی ہے، پی ڈی ایم کی قیادت حکومت کی طرف سے اسے بدترین انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے تو حکومت اس بارے کہتی ہے کہ اپوزیشن کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، ان کے احتجاج کا مقصد صرف محفوظ راستہ مانگنا ہے، مگر کپتان کہتے ہیں کہ وہ کسی صورت کرپٹ اپوزیشن قائدین کو این آر او نہیں دیں گے، اپوزیشن قیادت بھی یہی لفظ کپتان کیلئے دہرا رہی ہے کہ وہ کپتان کو بھاگنے نہیں دیں گے، اور اقتدار سے اتار کر اس کا احتساب کریں گے اسے (کپتان کو) این آر او نہیں دیں گے، پی ڈی ایم سربراہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حکومت لانگ مارچ کے اعلان سے خوفزدہ ہو کر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، اور اول فول بول رہی ہے، اپوزیشن کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی بڑھ ماری ہے کہ اپوزیشن کا احتجاج آئے دن بڑھتا جائے گا اور احتجاج کی حکمت عملی بھی وقت کے ساتھ تبدیل کرتے رہیں گے، قبل از وقت عوام اور حکومت پر کچھ اوپن نہیں کریں گے تا کہ حکومت پیش بندی نہ کر پائے، اپوزیشن جلد حکومت کو ایسی کاری ضرب لگائے گی کہ ان (کپتان اور کابینہ کے کھلاڑیوں) کے پاﺅں اکھڑ جائیں گے، تو اس طرح حکومت اور اپوزیشن میں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔

کالم زیر تحریر تھا کہ یاد آیا گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے ان سے سرکاری رقبے واگزار کرانے کے حوالے سے جاری حکومتی موقف بارے وضاحت کی کہ میرا کسی سرکاری رقبے پر کوئی قبضہ نہیں تھا، اور نہ ہی میں کسی سرکاری رقبہ جس پر قبضہ ہو کا بینی فشری (فائدہ اٹھانے والا) ہوں، حکومت نے میری کردار کشی کی ہے۔ شاید مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز یہ بھول چکے ہیں کہ اینٹی کرپشن سرگودھا پولیس نے 2020ءکے شروع میں جو سینکڑوں کینال اراضی سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے مختلف علاقوں سے واگزار کرائی تھی اس کے پٹہ دار ان کے والد محترم تھے، جس کا ٹینڈر ختم ہوئے 12 سال سے زائد گزر چکے تھے اور قومی خزانہ میں ان ادوار کا کوئی پائی پیسہ جمع نہیں کروایا گیا تھا، جبکہ رقبہ بدستور دانیال عزیز کے والد محترم کے مزارع کاشت کر رہے تھے۔ اس بارے دانیال عزیز موصوف نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ ان پٹہ داروں سے سالانہ وصولی کون کر رہا تھا؟

جبکہ ملک میں سیاسی گڑ بڑ کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ غریب عوام پس کر رہ گئے ہیں، مہنگائی، بیروزگاری، غربت، افلاس اور لا قانونیت نے ملک کو اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ مختصر عرصہ کے دوران کئی شہروں سے اجتماعی خود کشیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو 2018، 19، 20 سے کئی گناہ زیادہ ہونے کے باعث تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو خود کشیوں کی شرح بھیانک حالات اختیار کر لے گی۔

سو بات کہاں سے نکل گئی بات ہو رہی تھی حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے کو ٹف ٹائم دینے کی تو دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو خوب جھٹکے دیئے جا رہے ہیں، ان کے کرنٹ کے نتیجہ میں کون زیر ہوتا ہے یا کون بچ نکلتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے، بہرحال سیاسی اکھاڑہ خوب سجا ہے سیاسی چالیں خوب چلی جا رہی ہیں جو عوام کیلئے بری طرح نقصان دہ ہے کیونکہ ہر دور میں جاری سیاسی لڑائی نے اب ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ عوام کی اکثریت سیاست اور سیاستدانوں سے بیزار نظر آتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن تنقید برائے تنقید سے اجتناب کر کے عوام کے بارے میں سوچیں جو آئے روز اجتماعی خود کشیوں پر مجبور ہیں، ورنہ پھر ماضی کی طرح عوامی انقلاب آئے گا، جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بہا کر لے جائیگا اور کوئی تیسری طاقت اقتدار میں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں