96

“لگے رہو جذباتی بھائی” …(راؤ کامران علی، ایم ڈی)

کالم نگار: راؤ کامران علی، ایم ڈی

جذبات انسانی کیا حیوانی زندگی کے لئے بھی بے حد اہم ہیں۔ ڈیل کارنیگی کہتا ہے کہ گدھا کتنا کام کرتا ہے لیکن پھر بھی نہ قدر اور نہ پیار جبکہ آپکا کتا آپکو دیکھ کر اٹھکیلیاں کرتا ہے، آپ سے الفت کا اظہار کرتا ہے اور بدلے میں مالک کی آنکھ کا تارا بن کر رہتا ہے؛ فرق صرف جذبات اور اسکے مناسب اظہار کا ہے۔

لیکن کیا محض جذبات کافی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جذبات، پٹرول کی طرح ہیں جس سے گاڑی چلتی ہے جبکہ ڈرائیونگ کی صلاحیت عملیت ہے اور کس منزل پر جانا ہے، منطق اور عقل ہے۔ اب آپ ایک ڈرائیور رکھیں لیکن وہ گاڑی قانون کے مطابق چلانے کی بجائے اپنی مرضی سے چلائے سرخ اشارے پر نہ رکے اور کبھی اس منزل پر نہ لے کر جائے جس کے لئے اسے کہا جائے اور جب آپ اسے کہیں کہ وہ غلط کررہا ہے تو جذبات سے لبریز ہوکر پوری ٹینکی پٹرول سے بھرنے کے بعد، گاڑی کے اندر بھی پٹرول بھر دے تاکہ آپکو اسکے جذبات کی شدت اور سچائی کا اندازہ ہوجائے تو آپکو کیسا لگے گا؟

آپکے بچے کو cleft lip یا cleft palate ہے; آپ پلاسٹک سرجن کے پاس لے کر آتے ہیں؛ سرجری مہنگی ہے؛ پندرہ سولہ وارڈ بوائز اور آپریشن تھیٹر اسٹنٹس پیسے ڈال کر سامان لاتے ہیں اور خود ہی بچے کا آپریشن کرکے چہرہ بگاڑ دیتے ہیں اور جب آپ احتجاج کرتے ہیں تو آگے سے رو کر دکھا دیتے ہیں کہ ہم نے اپنے پیسوں سے کیا ہے، ہمارے جذبات کی توہین مت کرو، تو آپ کیا کریں گے؟

پبلک پارک، گورنمنٹ کی پراپرٹی ہوتے ہیں، آپ قانونی طور پر بلا اجازت ایک پودا تک نہیں لگا سکتے۔ آپکے پاس ایک اچھی سوچ آتی ہے، آپ پی ایچ اے سے اجازت مانگتے ہیں۔ پی ایچ اے یا فنڈز دیتی ہے یا فنڈز کی ضمانت مانگتی ہے۔ پھر پراجیکٹ کی evaluation ہوتی ہے۔ فزیبیلیٹی بنتی ہے؛ مثلاً فرض کریں مالی بیچارے مجسمہ اس کونے میں بنا دیتے جہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں اور مذہبی حضرات “بت” کو سجدے کے سامنے بنانے پر احتجاج کرتے تو کیا ہوتا؟ اسکے ذمہ دار مالی نہیں بلکہ پی ایچ اے کا ڈائریکٹر ہے اور وہ حکمران ہیں جنھوں نے ایسے “گوہر” ہر ڈیپارٹمنٹ میں لگا رکھے ہیں۔ غضب خدا کا؛ محسن پاکستان کا، ہمارے قومی ہیرو کے مجسمے کو مذاق بنا کر رکھ دیا اور آگے سے سطحی جذبات؟ اپنے گھر کے آگے کوڑا پھینکنے پر پڑوسی کا سر کھول دینے والے، ایسی فاش غلطی پر جذبات کو جھولے دے رہے ہیں۔

یہی جذباتی عدم توازن، ذہنی صحت کا قاتل ہے؛ ترقی کا قاتل ہے۔ ایسی سوچ آہستہ آہستہ منطق کو کھا جاتی ہے۔ آپ اپنے آس پاس دیکھ لیں جو بھی ہر بات میں جذبات کی پیروی کرتے ہیں؛ وہ نوکری بدلتے ہیں کیونکہ ذرا سی بات پر انکی “عزت نفس” مجروح ہوتی ہے؛ کاروبار میں ناکام ہوتے ہیں اور دوسروں سے تال میل میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ آپکو فیس بک پر اکثر اقوال زریں ایسے ہی جذباتی لوگوں کی ٹائم لائن پر ملتے ہیں۔ “دوست بےوفا نکلا”، “دل والوں کا دماغ والے فائدہ اٹھاتے ہیں”، “حد سے زیادہ پیار نہ کرو”، “جو تمھاراہے وہ لوٹ کر آئے گا ورنہ تمھارا تھا ہی نہیں” وغیرہ وغیرہ۔ عملی اور منطقی انسان یہ نوبت ہی نہیں آنے دیتا کہ اسکے ساتھ یہ سب ہو۔

سب سے خطرناک لوگ ہیں نام نہاد لکھاری جو سوشل میڈیا پر لوگوں کا “من بھاتا” بیچتے ہیں۔ سستے جذبات پر مذہبی چورن چھڑک کر بیچتے ہیں۔ انھیں یقیناً بہت سے لائکس اور فالورز مل جاتے ہیں لیکن یہ ہیروئین سے بھی برا نشہ ہے کہ قاری کے نیوارن کو تھپکی دیتے رہو کہ “تو ٹھیک ہے بیٹا”۔ یہ بنیاد رکھتے ہیں زندگی کے ہر شعبے میں ناکامی کی!

اب آتے ہیں کہ مالیوں اور قومی ایموشنلز کے جذبات کی کیسے قدر کی جاسکتی ہے؟ آپ کراچی کے ہی فقیرو سولنکی کو اقبال پارک میں مجسمہ بنانے کے لئے کنٹریکٹ دیں۔ فرض کریں اس پر دس لاکھ روپے لگتے ہیں۔ اسکے لئے فنڈ ریزر کریں اور ہر جذبات سے لبریز پاکستانی سے محض دس روپے فی کس اکھٹے کریں۔ شاعر مشرق کا بہترین مجسمہ بنا کر اسے مالیوں سے افتتاح کروائیں اور نیچے انھی سولہ مالیوں کے نام درج ہوں جنھوں نے یہ initiative لیا۔ انکی نسلیں بھی خراج تحسین پیش کریں گی۔ یہ ایک چھوٹی سی ایکسرسائز ہے، مسائل کو حل کرنے کی؛ یہ ہوگیا تو بہت سے اور مسئلے حل کرنا سیکھ لیں گے؛ ورنہ “لگے رہو جذباتی بھائی”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں