242

پاکستان میں نوابوں کا شہر… (اکرم عامر)

تحریر: اکرم عامر سرگودھا

پاکستان کا شمار دنیا کے خوش قسمت ترین ممالک میں ہوتا ہے، جس میں سیر و سیاحت کے ساتھ لاتعداد تاریخی، سیاحتی، ثقافتی مقامات اور شہر موجود ہیں، جن میں سے کئی شہروں و مقامات کا ذکر دنیا کے کئی ممالک میں پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب میں بھی ہے، انہی میں 1956ءتک ملک میں آزاد حیثیت رکھنے والی ریاست بہاولپور بھی ہے جس کا نظام و انصرام حکومت کے طرز پر 1727ءسے 1956ءتک چلتا رہا، اس کے تاریخی محلات، قلعہ جات دنیا میں منفرد مقام رکھنے والا 8 لاکھ ایکڑ رقبہ پر محیط چولستان (روہی) دنیا بھر میں اسلام کی ترویج اور پھیلاﺅ کیلئے تاریخی حیثیت رکھنے والا اولیاءو بزرگان دین کا شہر اوچ شریف اور تاریخی ورثہ و مقامات رکھنے والے تہذیب و تمدن اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ علاقے شامل ہیں۔

راقم کو چند روز قبل ان علاقہ جات کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو عندیہ کھلا کہ سیر و سیاحت، تاریخی و ثقافتی مقامات میں پاکستان یورپ، ایشیاء و عرب ریاستوں کے کسی بھی ملک سے کم نہیں ہے، ہمارے ملک میں وہ تمام دلفریب نظارے موجود ہیں جنہیں دیکھنے کیلئے پاکستانی امراءلاکھوں کی تعداد میں سالانہ دوسرے ممالک میں جاتے اور اس مد میں کروڑوں نہیں اربوں روپے دوسرے ممالک میں جا کر خرچ کرتے ہیں، اس طرح کے مقامات ملک بھر کے کونے کونے میں موجود ہیں، قیام پاکستان سے اب تک کسی بھی آنے والی حکومت نے ان مقامات کو محفوظ بنا کر تزئین و آرائش کر کے محفوظ بنانے کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک میں ایسے مقامات ہونے کے باوجود سیر و سیاحت کے شوقین ہم وطن ہر سال بڑی تعداد میں دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں، بہاولپور اور اس کے تاریخی، ثقافتی مقامات کو تفصیلا ایک کالم میں سمونا تو ممکن نہیں، اسے لکھنا شروع کیا جائے تو کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، مگر الفاظ ختم نہیں ہو پائیں گے، تا ہم راقم زیر نظر تحریر میں ان مقامات کا مختصر خاکہ پیش کر رہا ہے۔

ریاست بہاولپور کی بنیاد نواب صادق محمد خان عباسی نے 1727میں رکھی تھی، 22 فروری 1833ءکو عباسی خاندان کے تیسرے نواب نے انگریز کے ماتحت اتحاد میں شمولیت اختیار کی، جس کے تحت بہاولپور کو برطانوی ہندوستان کی ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا، 1947ءمیں جب پاکستان آزاد ہوا تو ریاست بہاولپور، بھارت اور پاکستان دو ملکوں میں تقسیم ہو گئی اور یہ 14 اکتوبر 1955ءتک خود مختار ریاست کے طور پر کام کرتی رہی، جب اسے مغربی پاکستان کے صوبے کے ساتھ ضم کیا گیا تھا، بہاولپور کے حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والے عباسی قبیلے کا تعلق عباسی خلیفہ سے تھا، یہ قبیلہ 17ویں صدی کے وسط میں بہاولپور آیا اور درانی سلطنت کے زوال کے دوران آزادی حاصل کی تھی، اوچ شریف کے آس پاس علاقے پر عباسی کی حکمرانی کے قیام کے بعد قبیلے کے سردار نے داﺅد پوتر رشتہ داروں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کیلئے حکمت عملی کے تحت نہری نظام قائم کیا تھا۔

راوی کہتے ہیں کہ 1809ءکے امرتسر معاہدے کے تحت راجہ رنجیت سنگھ کو دریائے ستلج کے دائیں کنارے تک محدود کر دیا گیا تھا، رنجیت سنگھ کے ساتھ معاہدے کے ایک سال بعد دریائے سندھ پر باقاعدہ آمدورفت شروع کی گئی، ریاست بہاولپور کو سب سے زیادہ طاقت 1838ءمیں طے پانے والے معاہدے کے تحت ملے جب شاہ شجاع تخت نشین تھا، 1847ءمیں نواب آف بہاولپور نے افغان جنگ میں انگریزوں کو رسد اور گزرنے میں مدد کی، جس کے نتیجہ میں ریاست بہاولپور کو مراعات سے نوازا گیا، 1863ءسے 1866ءکے دوران نواب آف بہاولپور کے خلاف بغاوت شروع ہوئی، جسے نواب نے جرات و حکمت عملی سے کچل دیا تو کچھ روز بعد نواب کی موت واقع ہو گئی، جس بارے مختلف قیاس آرائیاں ہوئیں، بعد ازاں اس کا چار سالہ بیٹا صادق محمد خان چہارم نواب آف بہاولپور بنا، 1879ءمیں 6 ارکان پر مشتمل کونسل اسے مدد اور مشورے کیلئے دے کر ریاست کے مکمل اختیارات سونپ دیئے گئے، 1899ءمیں ان کی موت کے بعد محمد بہاول خان پنجم کامیاب ہو کر نواب آف بہاولپور بنے، جنہوں نے 1900ءمیں اکثریت حاصل کی، 1903ءمیں وہ ریاست پر مکمل طور پر با اختیار ہو چکا تھا۔

پاکستان کی آزادی کی تحریک میں ریاست کی زیادہ تر مسلم آبادی نے مسلم لیگ اور پاکستان تحریک کی حمایت کی، پاکستان کی آزادی کے بعد ریاست سے اقلیتی ہندو اور سکھوں کی بڑی تعداد بھارت ہجرت کر گئی تھی، جبکہ ہندوستان سے بڑی تعداد میں مہاجرین ریاست بہاولپور پہنچے تو نواب صادق محمد خان پنجم کی طرف سے کھلے دل سے ان مہاجرین کی مدد کی گئی، ریاست بہاولپور کی جانب سے اس وقت 70 ملین روپے اور پورے پاکستان کے ملازمین کو ایک ماہ کی تنخواہ دی گئی، نواب آف بہاولپور نے اپنی نجی جائیدادیں پنجاب یونیورسٹی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، ایچی سن کالج لاہور کی مسجد، حکومت پاکستان کو عطیہ کی.

15 اکتوبر 1947ءکو نواب آف بہاولپور اور حکومت پاکستان کے مابین ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے، جس کے تحت ریاست بہاولپور نے پاکستان کا اعتراف کیا اور 9 اکتوبر کو اس الحاق کو باقاعدہ قبول کیا، اس طرح بہاولپور پہلی ریاست تھی جس نے پاکستان تک رسائی حاصل کی اور اسے تسلیم کیا، جس کی ایک وجہ ریاست میں مسلمان آبادی کی اکثریت اور دوسرے نواب آف بہاولپور اور قائد اعظم محمد علی جناح میں قربت تھی، اور دونوں میں قیام پاکستان سے پہلے سے احترام کا رشتہ موجود تھا، 1953ءمیں نواب آف بہاولپور نے عراق دوئم فیصل کی تنصیب اور ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی کے موقع پر پاکستان کی نمائندگی کی، 1955ءمیں نواب صادق محمد اور جنرل غلام محمد میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت ریاست بہاولپور مغربی پاکستان کے صوبے کا حصہ بن گئی اور سابق نواب کو 32 لاکھ سالانہ وظیفہ ملنا شروع ہوا، نواب کی حیثیت برقرار رہی اور اسے پاکستان کے اندر اور باہر نواب کا پروٹوکول دیا جاتا رہا، مئی 1966ءمیں لندن میں بہاولپور کے آخری حکمران نواب صادق عباسی کا انتقال ہو گیا، جس نے ان کے دور حکومت کو ختم کیا، نواب صادق عباسی کی میت کو پاکستان لا کر قلعہ ڈیراور کے قریب عباسی خاندان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، یہاں یہ ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بقول راوی فیلڈ مارشل ایوب خان، نواب آف بہاولپور صادق خان عباسی کے اے ڈی سی رہے، جو بعد میں صدر مملکت بنے.

پاکستان کے قیام پر ملازمین کو پہلے ماہ کی تنخواہ نواب آف بہاولپور نے دی، ملک کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کو روئیل سوئس قیمتی گاڑی نواب آف بہاولپور نے تحفہ میں دی، 1939ءتک بہاولپور ریاست سعودی عرب کی امداد کرتی رہی اور سعودی عرب کی سرزمین پر پہلی گاڑی نواب آف بہاولپور لے کر گئے جو واپسی پر سعودی فرمانروا کو تحفہ میں دے دی، سعودی عرب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور برطانیہ میں بہاولپور ہاﺅس آج بھی موجود ہیں، جب تک ریاست بہاولپور رہی پاکستانی حجاج کرام کو سعودی عرب میں کھانا ریاست کی طرف سے دیا جاتا تھا۔

ریاست بہاولپور کے محلات جن میں نور محل، دربار محل، نشاط محل، ڈیرہ نواب صاحب میں صادق گڑھ پیلس عباسی خاندان نے بنوائے جو فن تعمیر کا عظیم شاہکار ہیں، اب صادق گڑھ پیلس عباسی خاندان کے زیر تصرف جبکہ دیگر محلات پاک فوج کے زیر استعمال ہیں، جن میں سے صرف نور محل عوام کو دیکھنے کی سہولت میسر ہے، راوی کہتے ہیں کہ نواب آف بہاولپور نے نور محل میں صرف ایک رات گزاری، محل کے سامنے ملوک شاہ قبرستان دیکھ کر بیگم کے کہنے پر نواب نے یہ محل چھوڑ دیا تھا، بہاولپور ہائیکورٹ چوک میں نصب فوارہ دنیا میں صرف دو ہیں، جو ایک برطانیہ کے برمنگھم پیلس میں لگا ہوا ہے اور دوسرا یہاں۔ بہاولپور کے صادق پبلک سکول کا شمار ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے جو نواب آف بہاولپور کی ملکیت تھا اور نواب نے 500 مربعہ اراضی سکول کے نام کی تھی، تا کہ یہ ادارہ خود کفیل رہے اور اسے کسی سے مدد نہ مانگنی پڑے۔ ریاست کے دور میں اس سکول میں تعلیم مفت دی جاتی تھی جبکہ اب طالبعلموں سے فیس وصول کی جا رہی ہے، ہر آنے والی حکومت نے سکول کی زمین سے خوب دو دو ہاتھ کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ سکول کا رقبہ سکڑتا گیا جو اب محدود ہو کر رہ گیا ہے. نواب آف بہاولپور عوام بالخصوص بچوں کی تفریح کیلئے چڑیا گھر کے جانور، پرندے بمعہ جنگلے و پنجرے سری لنکا سے خرید کر لائے تھے۔

پاکستان سے الحاق سے پہلے رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر جو ریاست کی حدود میں تھے نواب آف بہاولپور کی رعایا تصور کیے جاتے تھے، جب یہ ریاست تھی تو بہاولپور خوبصورت ترین شہر تھا، اب حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا ہے جسے موجودہ پرنس آف بہاولپور نے تسلیم نہیں کیا، ان کا موقف ہے کہ ہمارا حکومت پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدہ موجود ہے کہ اگر ون یونٹ ختم کیا گیا تو بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کی جائے گی، جس پر ہم اب بھی قائم ہیں، بہاولپور میں ریاست وقت کے تاریخی قلعہ جات قلعہ ڈیراور، قلعہ موج گڑھ، قلعہ اسلام گڑھ، قلعہ مروٹ، قلعہ ولر، قلعہ پھولڑہ، قلعہ مٹو، قلعہ بجنوٹ اب بھی موجود ہیں، حیرانگی کی بات ہے کہ یہ سب قلعے چولستان کے علاقے میں تعمیر کیے گئے، چولستان کے علاوہ شہری حدود میں نوابوں نے جو قلعے تعمیر کروائے انہیں محلات کا نام دیا گیا تھا۔ ان میں قلعہ ڈیراور تاریخی اہمیت کا حامل ہے، راوی کہتے ہیں کہ قلعہ ڈیراور بنانے پر بہت زیادہ محنت کرنا پڑی تھی، کیونکہ یہ روہی میں بنایا گیا تھا، جس کے ہر طرف ریت کے ٹیلے تھے، مورخ لکھتے ہیں کہ اس قلعہ کی تعمیر کیلئے تعمیراتی میٹریل اوچ شریف سے انسانی زنجیر بنا کر قلعہ کے مقام تک منتقل کیا گیا تھا، قلعہ ڈیراور کے اوپر پوری سلطنت عباسیہ کے مرکزی دفاتر جن میں عدالتیں، ریسٹ ہاﺅسز، مساجد، دفاتر، بازار، شہنشاہ کی رہائشگاہ عدالت کے آثار اب بھی موجود ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ قلعہ ڈیراور سے سرنگ قلعہ موج گڑھ جاتی تھی، کسی خطرہ کی صورت میں حکمران قلعہ ڈیراور سے سرنگ کے ذریعے موج گڑھ منتقل ہو جاتے تھے.

قلعہ ڈیراور کے ساتھ نواب آف بہاولپور نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ آف کوٹ مٹھن کے حکم پر ایک خوبصورت سفید سنگ مرمر سے مزئین مسجد تعمیر کرائی تھی جو آج بھی اپنے اسی جاہ و جلال کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن دیگر قلعہ جات کی طرح قلعہ ڈیراور اب زبوں حالی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے جو کہ پاکستان میں قدیم ثقافتی ورثہ ہے، مسجد کے نیچے طالبعلموں کیلئے مدرسہ بھی موجود ہے، مسجد کے ساتھ ایک بڑا تالاب بنوایا گیا تھا جس میں خاص قسم کا میٹریل استعمال کیا گیا، اس تالاب میں پانی سالہا سال کھڑا رہے تو بھی خراب نہیں ہوتا تھا اب یہ تالاب تباہ ہو چکا ہے، قلعہ کے سامنے شاہی قبرستان بھی ہے، جس میں صرف نواب آف بہاولپور کا خاندان مدفن ہے، کسی دوسرے قبیلے کی میت اس قبرستان میں تدفین نہیں کی جاتی، ملکہ برطانیہ نے 1902ءمیں نواب بہاول خان کو تحفہ میں ایک جدید ہسپتال بنوا کر دیا تھا جس کی عمارت آج اسی لازوال دوستی کی علامت کے طور پر موجود ہے، اس ہسپتال کا نام بہاول وکٹوریا ہسپتال رکھا گیا جو آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔

راوی کہتے ہیں چولستان (روہی) 80 لاکھ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جس کی سرحدیں بھارت کے ساتھ ملتی ہیں، روہی کا یہ علاقہ بھی ریاست کی ملکیت تھا، ریگستان کے مکینوں کا زیادہ ذریعہ معاش اونٹ، بھیڑ، بکریاں پالنا ہے، پورے ریگستان میں کوئی پختہ یا کچہ گھر نہیں ہے، لوگ خود رو جنگلی جھاڑیوں سے چھپر بنا کر اس کے گرد چھوئی (سر) کی دیواریں بنا کر رہائش رکھے ہوئے ہیں، جانوروں اور انسانوں کے پینے کے پانی کیلئے روہی میں ٹوبے (تالاب) تعمیر کرائے گئے تھے جن میں بارش کا پانی اکٹھا ہوتا ہے، اکثریت علاقہ مکین اور جانور ان ٹوبوں سے پانی پیتے ہیں۔

راوی کہتے ہیں کہ چولستان کے اونٹ ان ٹوبوں سے منسلک ہیں، حیران کن امر یہ ہے کہ اتنے وسیع و عریض ریگستان میں لاکھوں کی تعداد میں صحرائی جہاز اونٹ موجود ہیں، لیکن روہی کی تاریخ بتاتی ہے کہ آج تک یہاں جانوروں کی چوری نہیں ہوئی، اگر اونٹ یا جانور بھول بھٹک کر دوسرے ٹوبے پر چلا جائے تو قبائلی روایات کے مطابق وہ جانور متعلقہ ٹوبے پر پہنچا دیئے جاتے ہیں، اس کیلئے اونٹ کے کان کے قریب ٹوبے کا نمبر یا نام لکھا ہوتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ اس جدید دور میں پورے چولستان میں نہ بجلی ہے اور نہ ہی سرکاری تعلیمی ادارہ اور نہ ہی کوئی سرکاری ہسپتال موجود ہے.

چولستان میں صوفی بزرگ چنن پیر کا دربار بھی واقعہ ہے، جہاں سال میں 60 دن میلہ لگتا ہے، جو چولستان کے لوگوں کیلئے واحد تفریح ہے، اب 16 سال سے جیپ ریلی کا انعقاد چولستان میں ہو رہا ہے، ان دنوںیہاں جنگل میں منگل کا سماں رہتا ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ روہی دنیا بھر کی نایاب قسم کی جڑی بوٹیوں سے بھری پڑی ہے، جن پر تحقیق کی جائے تو طب اسلامی کے شعبہ میں انقلاب برپا کیا جا سکتاہے اور اربوں روپے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ روہی میں جانوروں کا دودھ کثرت سے ملتا ہے، مگر اسے محفوظ بنانے کیلئے پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے، اگر ایسا ہو جائے تو روہی کے باسیوں کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے، روہی میں ہندو عقیدہ کے لوگ اب بھی اپنے رسم و رواج اور مذہبی آزادی کے تحت رہائش پذیر ہیں، روہی میں آج تک کسی قسم کا کوئی مذہبی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، جبکہ جرائم کی شرح بھی دوسرے علاقوں کی نسبت یہاں آٹے میں نمک کے برابر ہے، روہی کے لوگ نواب آف بہاولپور (موجودہ پرنس) کو آج بھی عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، روہی میں جو علاقے آباد ہیں ان میں گندم اور سرسوں کی فصل خوب ہوتی ہے، روہی میں کسی زمانے میں دریائے ہاکڑا بہتا تھا جس کے آثار آج بھی موجود ہیں، خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ کی شاعری میں روہی کو ایک خاص مقام دیا گیا ہے، روہی کے لوگوں کی زیادہ نسبت بھی خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ سے ہے، جنہوں نے فرمایا تھا کہ روہی ہمیشہ آباد رہے گی۔

یوں تو بہاولپور میں اوچ شریف سمیت دیگر کئی تاریخی مقامات اور بھی ہیں جن پر روشنی آئندہ کالم میں ڈالی جائے گی تا ہم یہ بات عیاں ہے کہ ریاست بہاولپور کے اتحاد کے بعد کسی حکمران یا سیاست دان نے بہاولپور کے تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا، جوکہ افسوسناک امر ہے۔ علاقہ کے لوگ اب بھی منتظر ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور بہاولپور کو ریاست کے وقت کی طرح خوبصورت بنائے۔تا کہ دوسرے ملکوں سے لوگ سیاحتی مقامات دیکھنے کیلئے یہاں آئیں نہ کہ پاکستان سے بیرونی ممالک میں جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں