73

5 فروری یوم یکجہتی کشمیر … (حکیم لطف اللہ)

تحریر: حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل PSA

عالمی برادری انسانیت کی بقاء کے لیے اپنا کوئی کردار ادا کرنے پر تیار نہیں ہو رہی جو کہ آنے والے وقت میں کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کی مدد قراردادیں موجود ہیں جن پر اقوام متحدہ کا کوئی بھی سربراہ عمل درآمد نہ کرا سکا۔ قراردادیں ہنوز موجودہ سیکرٹری جنرل کا منہ چڑا رہی ہیں۔ 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ استصواب رائے کا حق تسلیم کیا ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے بھارت میں جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ اور مودی کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسیوں کا راج ہے جس کی وجہ سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں مثلاً سکھوں اور عیسائیوں بدھ متوں اور خاص طور پر مسلمانوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور ان پر زندگی تنگ کردی گئی ہے آر ایس ایس کے غنڈے پورے بھارت میں مذہبی جنونیت پھیلا رہے ہیں۔ 5 جنوری 1949 کا دن تاریخ ساز اہمیت کا حامل ہے اس روز اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ رائے شماری کا حق تسلیم کیا اور اسی مناسبت سے دنیا بھر میں کشمیری آج یک زبان ہوکر عالمی ادارے کو اس کا وعدہ یاد کراتے ہیں۔کشمیریوں پر دنیا کا خطرناک ترین تشدد کیا جا رہا ہے، 90 لاکھ کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 25 لاکھ سے زائد بھارتی شہریوں کو شناختی کارڈ دیے جا رہے ہیں انہیں مقبوضہ کشمیر میں زمین خریدنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ویڈیو پیغام کے لیے یہاں کلک کریں

محبوبہ مفتی فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو قومی نظریہ کا ساتھ نہ دے کر ایک فاش غلطی کی ہے اور اپنے حقوق سے محروم ہو گئے ہیں۔

کشمیریوں کے خون سے ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ بھارتی مسلمان بھی اس وقت ہندوستان میں انتہائی کسمپرسی اور اذیت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے مسلمانوں کو کرایہ کی دکان اور مکان دینا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے

برطانیہ میں بھی کشمیریوں کے حوالے سے نئی سوچ سامنے آئی ہے برطانوی اراکین پارلیمنٹ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں فوجی تسلط، ریاستی دہشت گردی، اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں پر بول اٹھے ان کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کا اندرونی مسئلہ نہیں،کشمیریوں پر پابندی ختم کی جائے کشمیر میں موجود لاک ڈاؤن عوام کے تحفظ کے لئے نہیں یہ جبری تسلط کی بدترین مثال ہے ، پانچ لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو قید کر رکھا ہے۔ ایک برطانوی وزیر اور دس اراکین پارلیمنٹ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی بےبسی سے دنیا کو خبردار کر دیا، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سنگین ترین ہوتی جا رہی ہے مگر مغربی میڈیا اس پر خاموش ہے رواں ہفتے کشمیر کی صورتحال کی بحث کے دوران برطانوی رکن پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔

مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری حل کرایا جائے اور اقوام متحدہ اپنا امن مشن فوراً وہاں روانہ کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی

خدمات کی فراہمی کی پیشکش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بھارت مسئله کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے وہ بطور سربراہ اقوام متحدہ کی خدمات کے لئے ہر وقت دستیاب ہوں گے، سربراہ اقوام متحدہ نے مسئله کشمیر کے حل کے لئے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ طویل المدتی اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے افراد کی خواہش کے مطابق اس کا عمل ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالث بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قومی متحدہ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر میں اہم فریق ہے اور کشمیریوں کے وکیل کا کردار ادا کر رہا ہے بھارت سے تین جنگ مسئلہ کشمیر پر ہی ہو چکی ہیں اور بھارتی جارحیت ایک اور جنگ کا راستہ ہموار کر رہی ہے۔ بھارت روزانہ کی بنیاد پر ایل او سی پر فوجی جارحیت کر رہا ہے اگر پاکستان اس پر صبر تحمل نہ کر رہا ہوتا تو آج دو ارب کی دنیا کا یہ خطہ خاک اور خون کی لپیٹ میں ہوتا اقوام متحدہ ہوش کے ناخن لے دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں اور جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں اقوام متحدہ خاموش تماشائی نہ بنے۔ اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ اقوام عالم کے منہ پر انڈیا کا طمانچہ ہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ بھارت اپنے جھوٹے اور من گھڑت دعوؤں سے اقوام عالم میں بے نقاب ہو رہا ہے۔ او آئی سی سے مسلم امہ میں کشمیر کے حوالے سے بیداری کی جھلک نظر آئی ہے اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان سعودی عرب اور او آئی سی کی طرف سے پیش کیا جانے والا مقدس مقامات کی بے حرمتی کا بل یو این جنرل اسمبلی میں منظور کرلیا یہ بل ہندوستان اور اس کی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یو این جنرل اسمبلی میں اسلامو فوبیا اور بل کی منظوری سے پاکستان کے موقف کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی ہے۔

پاکستان سوشل ایسوسی ایشن 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منا رہا ہے، پوری امت مسلمہ کے “میں کشمیر ہوں” کے نعرے سے یورپی یونین، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے در و دیوار ہل جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں