56

الوداع 2020 …. (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

کرونا کا سال رخصت ہوا لیکن کرونا چھوڑ گیا۔ ایک مرض نے سال بدلنے کی جو علامتی خوشی اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ تھا مدہم کردیا!

پوری دنیا میں ساڑھے آٹھ کروڑ لوگ کرونا کا شکار اور اٹھارہ لاکھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؛ محض امریکہ میں بیس لاکھ لوگ متاثرہ اور ساڑھے تین لاکھ اموات ہوئیں جبکہ پاکستان میں پانچ لاکھ لوگ کرونا کا شکار اور دس ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ اور ابھی کرونا کی مزید بگڑی ہوئی شکل (mutated) تباہی مچانے کو بیتاب ہے۔ جو نوکریاں گئی ہیں جو کاروبار تباہ ہوئے ہیں انکا تو ذکر ہی کیا!

ہر سال کے آغاز میں بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ گزشتہ سال کیا کھویا کیا پایا؛ کیا سیکھا، کیا نہ کرسکے اور آنے والے سال میں کیا کرسکتے ہیں۔ 2020 وہ سال ہے کہ جس میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے کوئی دوست یا رشتہ دار نہ کھویا ہو؛ میرے تایا اور پھوپھو اس ظالم کے ہاتھوں جان کھو بیٹھے؛ کتنے ہی ڈاکٹر دوست اور عزیز اس دنیا سے رخصت ہوگئے؛ بہت سوں کے کاروبار تباہ ہوگئے؛ کئی اپنے گھروں تک سے ہاتھ دھو بیٹھے اور زندگی کی حقیقت کھل کر عیاں ہوگئی۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا اس سے بھی کچھ سیکھا ؟ جواب ہے نہیں

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو لوگ اس کا شکار ہونے سے بچ گئے ہیں، ان رشتہ داروں کی قدر کریں جو زندہ ہیں؛ پتا نہیں کل کون ہو کون نہ ہو؛ لیکن کیا کوئی ایک خاندان یا شریکا ایسا ہے جس نے ایسا سوچ کر دشمنی ختم کردی ہو؟ کیا کوئی ساس یا بہو ایسی ہے جس نے یہ سوچ کر بات بے بات گھر میں سیاپا مچانا کم کردیا ہو؟ کیا ناخلف اولاد کو بچے کچھے والدین کی قدر ہوگئی ہے؟ کیا خاوندوں نے بیویوں پر ذہنی اور جسمانی تشدد کم کردیا ہے؟ کیا بیویوں نے بدزبانی اور چغلی غیبت پر ہاتھ ہولا کردیا ہے؟ یقیناً نہیں

“یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں”

دنیا میں ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے۔ Tombstone Test اس کی ایک مثال ہے کہ آپ اپنی قبر کے کتبے پر کیا لکھوانا چاہتے ہیں؟ ہمارے ہاں ریت ہے کہ مرنے والے کے بارے میں اچھی بات کرتے ہیں لیکن کب تک؟ زیادہ سے زیادہ جنازے یا قل تک اور پھر آہستہ آہستہ کچا چٹھا کھلنا شروع ہوجاتا ہے، بالخصوص اس وقت جب مرنے والے کی اولاد کوئی پھڑ مارنے کی کوشش کرے تو لوگ یاد کروا دیتے ہیں کہ اسکی رگوں میں کس کا خون دوڑ رہا ہے۔ تو یہ اہم ہے کہ بہتر نظر آنے کی بجائے بہتر بنا جائے، یہ زیادہ آسان ہے۔

بہت سے مرنے والوں کے پس ماندگان کو دیکھیں؛ کیسے رو رہے ہیں سوگ منا رہے ہیں، بچھڑنے والے کو مس کر رہے ہیں لیکن کیا وہ اسکی زندگی میں بھی اتنے ہی اچھے تھے۔ کیا بات بات پر بدتمیزی کرنے والے شوہر نے کبھی نہ سوچا کہ بیوی مرجائے گی تو اکیلا ہوجائے گا؟ کیا ہر وقت گلے شکوے کرتی جھگڑالو بیوی کو آگہی نہیں تھی کہ بیوہ ہوکر وہ دیواروں میں ٹکریں مارے گی؟ کیا اولاد نے یتیم ہونے سے پہلے والدین کی قدر کی؟ اب کف افسوس ملنے کا کیا فائدہ؟

نئے سال کا سبق ہے کہ جو بچ گیا ہے اسے سنبھالیں، رشتوں کی قدر کریں، کمزوروں کا حق مت کھائیں؛ بہنوں کے حصے کی جائیداد ہڑپ کرکے، انکو انکے کسی حق سے محروم کرکے اپنی طرف سے بڑے مرد نہ بنیں؛ ایسے لوگوں کی نہ تو خاندان میں عزت ہوتی ہے، نہ محلے میں اور نہ ہی کسی تنظیم میں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں