14

ٹرمپ کا مواخذہ … (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

کالم نگار: راؤ کامران علی، ایم ڈی

امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ وہ صدر بن گئے ہیں جن کا دوسری مرتبہ مواخذہ ہورہا ہے۔ بہت سے لوگ کنفیوژ ہیں کہ مواخذہ کیا ہے، جب وہ جا ہی رہا ہے تو اب کیا کرنا وغیرہ وغیرہ۔

اصل جمہوریت میں عوام ہی کسی کو لاتے ہیں اور عوام ہی کسی کو نکالتے ہیں۔ امریکہ میں صدر ڈائریکٹ ووٹ سے آتا ہے اور اگر صحیح کام نہ کرے تو عوام کے منتخب کردہ کانگریس مین (جیسے ہمارے ایم این اے) اور سینیٹرز کے ذریعے تحریک عدم اعتماد لاکر نکالا جاتا ہے۔ ٹرمپ کو ستمبر 2019 میں بھی کانگریس نے نکالنے پر ووٹ دیا لیکن سینیٹ نے بچا لیا۔ اب کیپیٹل ہل پر اپنے غنڈوں سے چڑھائی کروانے کے جرم میں اسے نکالنے کی کاروائی ہورہی ہے۔ کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے اس پر سائن کردئیے ہیں۔ سینیٹ میں پچاس ممبر ڈیمو کریٹس کے ہیں اور پچاس ریپبلیکن کے؛ تو دو دہائی اکثریت کے لئے ریپلبلیکن کے سترہ سینیٹرز چاہیے ہیں۔ یہاں آکر معاملہ اٹکا ہے۔

ٹرمپ ایک ہفتے میں چلا جائے گا؛ اسکا مواخذہ جمہوریت کی بقا کے لئے ہیں؛ جیسے کوئی بچے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے تو امریکی قانون کے مطابق سخت جیل کے بعد وہ بقیہ زندگی جہاں بھی جائے گا؛ آس پاس کے گھروں کو مطلع کرے گا کہ اس نے ماضی میں کیا کیا ہے اور اپنے اپنے بچے اس سے سنبھال کر،بچا کر رکھیں؛ مواخذہ بھی یہی چیز ہے؛ ٹرمپ اور اس جیسوں کے لئے عبرت کہ جمہوریت کو molest کرکے باعزت واپس نہیں جاسکتے۔ انھیں اس داغ کے ساتھ جینا ہوگا۔ اس کے بعد آتا ہے کہ پوری زندگی کا بطور صدر پروٹوکول اور مالی مراعات؛ دو لاکھ ڈالر سالانہ پینشن اور ملین ڈالر ٹریول الاؤنس ؛وہ سب چھن جائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوبارہ صدر نہیں بن سکے گا۔

جمہوریت دو دھاری تلوار ہے؛ جو لاتا ہے وہی نکالتا ہے اور اس سے ووٹ کو عزت اور طاقت ملتی ہے۔ مملکت خداداد میں کبھی فوج تو کبھی عدلیہ اس کام کے لئے استعمال ہوتی ہے اور مجرم، مظلوم بن کر “کیوں نکالا” یا اپنے ہی دور حکومت میں اپنے ہی بھائی کے قتل پر خود ہی مظلوم بن جاتا ہے۔ پینٹاگون؛ کیپیٹل ہل سے اتنی دور ہے کہ ایک کرنل، پچاس فوجیوں کے ساتھ دوڑ کے آسکتا تھا اور ایک گھنٹے میں سارے ٹرمپ کے متوالے؛ پینسیلوینیا ایونیو پر مرغے بنے ہوتے۔ لیکن اتنی تباہی کے باوجود مجال نہیں کہ سول معاملات میں ٹانگ اڑائے۔

ٹرمپ کو دوسری بار مواخذہ جمہوریت کی جیت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ مکمل طور پر کامیاب نہ ہو؛ ہوسکتا ہے کہ کوئی ڈیل ہوجائے؛ ہوسکتا ہےجی او پی گارنٹی دے کہ ٹرمپ کو دوبارہ ٹکٹ نہیں ملے گا۔ ہوسکتا ہے سترہ سینیٹرز مان جائیں تاکہ ریپبلیکن پر لگا داغ دھل جائے؛ لیکن جو بھی ہوگا، جمہوریت کی جیت ہوگی، عوام کی جیت ہوگی اور ووٹ کو حقیقی عزت ملے گی۔

پس نوٹ: گزشتہ کالم میں پاکستانیوں کو بائیڈن گورنمنٹ میں کوئی کردار نہ ملنے پر ذکر کیا گیا تھا کہ ہمیں ابھی مزید محنت کرنی ہے جس پر ہمارے کچھ لیڈرز کا خیال تھا کہ پاکستانیوں کو کچھ ملے گا۔ آج بنگلہ دیش کے زین صدیقی کو ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا سینئر مشیر لگا دیا گیا ہے۔ پاکستانی ابھی تک منتظر ہیں۔ اسکے لئے بہت میچور اپروچ چاہئے؛ ایسے ہی جیسے انڈین نے جنماشتمی کے تہوار سے سیکھ لیا ہے کہ انسانوں کا مینار بنا کر ایک کو کیسے اوپر بھیجتے ہیں کہ ہانڈی پھوڑے؛ ہمیں بھی اجتماعی قومی مفاد سیکھنا پڑے گا ورنہ ذاتی جیب سے لاکھ ڈالر سے ملین ڈونیشن دیکر بھی ہاتھ ملتے رہیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں