338

علی بخاری، میرا بھائی میرا دوست (خاکہ) …. یاسررضاآصف

خاکہ نگار: یاسررضاآصف

علی بخاری ہوا کے خوش گوار جھونکے کی طرح تھا۔ جب بھی آتا اپنے ساتھ خوشبو اور مسکان لیے آتا۔ اچھے خاندان سے تعلق تھا سو رکھ رکھاؤ طبیعت میں موجود تھا۔ مجھے تو وہ جب بھی ملا نہایت انکساری کے ساتھ ملا۔ میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر ملا۔ میں نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ بھائی آپ سیّد ہو اور میں سیّد کی قدر کرنے والا ہوں مگر نہیں اسے یہ تربیت اپنے خاندان سے ورثے میں ملی تھی اور اس کی اپنی ذات بھی عاجزی کا پیکر تھی۔ اس کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا کہ آپ بڑے بھائی ہیں اور مجھ سے سینئر ہیں۔ اتنا پیار دے کر اور اس قدر محبت دے کر، کیا بتاؤں؟ وہ مجھے قرض دار کر گیا۔ سوچتا ہوں یہ قرض اتار پاؤں گا یا نہیں۔

خاکہ نگار: یاسر رضا آصف

علی بخاری سے میری پہلی ملاقات نوید عاجز کے توسط سے ہوئی۔ مدینہ ٹاؤن میں ان کی بیٹھک ان دنوں ادیبوں کا تکیہ بنی ہوئی تھی بالکل درویشوں کے تکیے کی طرح وہاں بھی محافل برپا ہوا کرتیں۔ میں اندر داخل ہوا تو سبھی جانے پہچانے چہرے نظر آئے۔ سوائے ایک نوجوان کے جو خاصہ خوش شکل تھا اور کالے چشمے کے ساتھ کسی فلمی ہیرو کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اپنی باری پر اس نے چند لمحوں میں ہی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ نظم مزاح کے ساتھ سبق آموز بھی تھی۔ سچ میں اس نے مشاعرہ اپنے نام کر لیا تھا۔ پاک پتن میں سنجیدہ شعر کہنے والے تو بہت سے موجود ہیں مگر فکر سے بھرپور مزاح کی ہمیشہ کمی رہی ہے اس کمی کو علی بخاری نے پورا کر دیا تھا۔

پھر گاہے گاہے علی بخاری سے میل ملاقات کا سلسلہ چل نکلا۔ میں ایک روز پیدل میراں شاہ چوک سے گزر رہا تھا۔ رات کا وقت تھا اور موسم بھی خاصہ خوش گوار تھا۔ میں تیز تیز قدموں سے پرانی سبزی منڈی سے ہوتے ہوئے مچھلی چوک کی طرف جا رہا تھا۔ ایک مانوس آواز نے میرے قدموں کو ساکت کر دیا۔ میں نے دائیں جانب گردن گھما کر تھوڑا پیچھے دیکھا تو علی بخاری مسکراتا ہوا میری طرف آتا دکھائی دیا۔ میں نے ہاتھ ملانا چاہا اور وہ مجھ سے بغل گیر ہو گیا۔ حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا گھر قریب ہی ہے اور وہ وکالت کے پیشے سے منسلک ہے۔ میں نے سوچا کہ معاشرے کو قریب سے جاننے والا ہی معاشرے کے مسائل پر قلم اٹھا سکتا ہے۔ میں نے اجازت چاہی تو اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ یوں ہم دونوں چلتے ہوئے چائے کے ہوٹل پر پہنچ گئے۔

علی بخاری کی باتوں کا انداز شاعرانہ نہیں بلکہ دوستانہ تھا۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے خاص زاویے سے گردن کو خم دیتا۔ اُس کی ہنسی میں کھنک تھی۔ اصل میں وہ ایک پُر امید نوجوان تھا جو مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے سخن وری کی راہ پر نکل آیا تھا۔ میں نے بھی تکلف کو خدا حافظ کہا اور کھل کھلا کر ہنسنے لگا۔ مجھے اس کی باتوں سے معلوم پڑا کہ وہ معاشرے پر گہری نگاہ رکھنے والا شخص ہے اور جسمانی عمر کی نسبت اس کی ذہنی عمر زیادہ ہے۔ میں واک پر نکلا تھا لیکن سب بھول بھال چکا تھا۔ ہم کافی دیر بیٹھے رہے۔ ہم دونوں ایک ہی بینچ پر بیٹھے تھے جو دیوار کے سہارے پڑا تھا۔ بینچ کسی پرانے زمانے کی یادگار جیسا تھا۔ رنگ و روغن اکھڑ چکا تھا اور کئی جگہ سے کیل گردن نکالے جھانک رہے تھے۔ یہ سرافہ بازار کو جانے والی گلی تھی اور ہم گلی کے سڑک والے سرے پر تھے۔ ہم دونوں رواں دواں ٹریفک بھی دیکھتے رہے اور ساتھ ساتھ گفتگو کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

اس روز کی نشست کے بعد بھی میری جب کبھی اس سے ملاقات ہوئی علی بخاری کی محبت بڑھتی چلی گئی۔ میں جب بھی رات کو واک کرتے ہوئے وہاں سے گزرتا اور وہ اکثر اوقات وہاں موجود ہوتا۔ میں اپنی دھن میں چلتا چلا جاتا۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑتی۔ بھاگتا ہوا میرے قریب آتا اور گرم جوشی سے ملتا۔ جس روز میری نگاہ نہ پڑتی تو وہ آواز دے لیتا۔ ہم دونوں کبھی مشاعرے میں ملے یا کبھی سڑک پر آمنا سامنا ہوا تو وہ مجھے یاسر بھائی کہہ کر مجھ سے بے تکلفی سے لپٹ گیا۔ یہ بے تکلفی کا انداز دراصل اس کی محبت کا انداز تھا اور مجھے پسند بھی بہت تھا۔

سیّد امبر بخاری نے سوشل میڈیا پر “ادب کے رنگ ادب قبیلہ کے سنگ” پروگرام شروع کیا۔ میں اور علی بخاری آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ اشعار سنا رہا تھا۔ میں اور راشد دونوں داد دے رہے تھے۔ اس لمحے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ یہ سامنے بیٹھا شخص کبھی ہم سے یوں اچانک بچھڑ جائے گا۔ پروگرام کے کچھ روز بعد میں” اپنا ایڈیٹر” کے دفتر میں بیٹھا تھا جو دراصل رضوان کی بیٹھک ہی تھی کہ اچانک وہاں علی بخاری آ پہنچا۔ وہی بے تکلفی، وہی خوش گفتاری اور وہی مسکراہٹ، اب یاد کرتا ہوں تو جی بھر آتا ہے۔ آنکھ نم ہونے لگتی ہے۔

علی بخاری سے شاید مزید ملنا ملانا ہوتا مگر کرونا کی موذی وبا آئی اور سبھی محفلوں کو درہم برہم کر گئی۔ ملنا ملانا موقوف ہو گیا۔ میں نے کتابوں میں اور موبائل میں پناہ لے لی۔ مجھ تک یہ خبر پہنچی کہ علی بخاری بیمار ہے۔ میں نے سوچا کہ لوگ بیمار ہو جاتے ہیں اور پھر تندرست بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ بھی کچھ دنوں بعد بھلا چنگا ہو جائے گا۔ یہی سوچ کر دل کو ڈھارس بندھائی مگر جب صورتِ حال کا علم ہوا تو دھڑکا سا لگ گیا۔ آخر تک امید قائم رہی کہ جلد ہی علی بخاری صحت یاب ہو جائے گا اور دوبارہ سے آکر ہمارے ساتھ پہلے کی طرح مشاعرے پڑھا کرے گا۔ اپنی نظموں سے ایک بار پھر چہروں کو تازگی دے گا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایک روز فون کیا تو اس کی ہانپتی ہوئی آواز نے جگر چھلنی کر دیا۔ میں نے جیسے تیسے اسے تسلی دی اور دعا کے الفاظ بھی ادا کیے لیکن اندر سے میں ڈر گیا۔ میں جس علی بخاری کو جانتا تھا وہ ہنستا کھیلتا پُر امید نوجوان تھا۔ پھر اس کی طبیعت مزید خراب ہونے کی اطلاع ملی۔ جب بھی اس کے متعلق بات ہوتی یا اس کا ذکر ہوتا تو دل سے دعا نکلتی کہ یا اللہ اس نوجوان کو دوبارہ بھرپور زندگی کی طرف لوٹا دے۔ پھر مجھے دوستوں سے علم ہوا کہ اب علی بخاری کی حالت کافی بہتر ہے۔ اندیشوں اور وسوسوں نے دم توڑ دیا اور یقین سا ہو چلا کہ مشکل ٹل گئی ہے۔ اچانک سے خبر ملی کہ علی بخاری عدم کے سفر پر روانہ ہو گیا ہے۔ میں ایک دم سے ساکت ہو گیا۔ مجھے لگا جیسے سب کچھ تھم گیا ہے۔ میں اس سے ملنا چاہتا تھا۔ پھر سے اس کے ساتھ اسی بینچ پر بیٹھنا چاہتا تھا۔ اس کے قہقہقے سننا چاہتا تھا۔ اسے ہر کام کی جلدی پڑی رہتی تھی۔ “علی بخاری یار تم جلد باز تو تھے ہی، مگر دنیا سے جانے کی اتنی بھی کیا جلدی تھی۔”

بابا فرید کی ڈھکی چڑھتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے علی بخاری کا مسکراتا چہرہ آ رہا تھا۔ جناز گاہ میں کافی سارے لوگ تھے۔ میں نے جنازہ پڑھا اور شناسا لوگوں کے درمیان جا کھڑا ہوا۔ شناسا لوگ کتابوں، شعروں اور رسالوں کی دنیا میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایک ایسے گرداب میں جس سے نکلنا چاہیں بھی تو آپ نہیں نکل سکتے۔ میں نے اجازت چاہی اور ان سے دور ہٹ گیا۔ میں نے سیف کو ساتھ لیا اور سلام کے لیے دربار شریف میں داخل ہو گیا۔ دعا کے بعد باہر نکلنا چاہا تو ایک شخص نے مجھے واپس دھکیلا اور بولا “علی بخاری کو بابا جی کا آخری دیدار کروانا ہے آپ مہربانی کر کے باہر نہ آئیں۔” علی بخاری چارپائی پر سفید کفن لپیٹے لیٹا ہوا تھا۔ مجھے جو علی بخاری یاد تھا اس کے ماتھے پر محراب تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس کے چہرے پر تازگی تھی۔ میں اسی علی بخاری کو ہی یاد رکھنا چاہتا تھا۔ لہذا میں نے آنکھیں میچ لیں اور علی بخاری کا ہنستا مسکراتا چہرہ یاد کرنے لگا۔ وہی چہرہ جو علی بخاری کی پہچان تھا۔ وہی آنکھیں جو چراغوں کی طرح روشن تھیں اور وہی ماتھا جس پر اس کے عابد ہونے کی مہر ثبت تھی۔

آج بھی رات کو واک کرتے ہوئے جب میں میراں شاہ چوک سے گزرتا ہوں تو کان کسی آواز کی پکار کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں مگر اب وہ آواز نہیں آتی۔ میں اردگرد دیکھتا ہوں۔ تھوڑی دیر ٹھہرتا ہوں اور اس امید پر چل دیتا ہوں کہ میرا دوست میرا بھائی کسی دور پار کے سفر پر گیا ہوا ہے۔واپس ضرور آئے گا اور بالکل پہلے کی طرح بغل گیر ہو کر مجھ سے ملے گا اور مسکرا کر کہے گا” یاسر بھائی آؤ کہیں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں”۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں اور میں سر جھکا کر دل گرفتگی کے عالم میں چلنے لگتا ہوں۔ مگر ایک آس میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ علی بخاری ابھی مجھے پیچھے سے آواز دے گا۔ وہ شاید اب بھی آواز دیتا ہو لیکن مجھے وہ آواز سنائی نہیں دیتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں