58

ملت کا پاسباں …. محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ … (حکیم لطف اللہ)

تحریر: حکیم لطف اللہ (سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن)

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں. قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا ہی اعجاز تھا کہ انہوں نے بہت کم عرصے میں ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیا تک اسلام کے قلعہ کے طور پر جگمگاتا رہے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے تدبر فہم و فراست سیاسی دور اندیشی اور جہد مسلسل کے باعث ایک آزاد ملک پاکستان معرض وجود میں لانے کا سبب بنے۔ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے کاموں سے خود کو عظیم بنا لیتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کی صلاحیت کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے پہچان کر ان سے قیام پاکستان کی جدوجہد کے لئے کام لیا اور ان کو لندن سے واپس پاکستان لانے پر رضامند کیا اور اس طرح اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
قائداعظم زندگی کے ہر معیار کے حوالے سے ایک اہم شخصیت تھے بہت ساری خصوصیات کی حامل شخصیت نے ہی زندگی کے کئی شعبوں میں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔

قائد اعظم برصغیر کے ایک بڑے قانون دان، ہندو مسلم اتحاد کے سفیر، آئین پسندی کا رجحان رکھنے والے ایک ممتاز پارلیمانی لیڈر، سیاستدان، ایک ناقابل شکست حریت پسند سپاہی، متحرک مسلمان رہنما، سیاسی حکمت عملی کی جیسے اوصاف کی درخشاں مثال اور اپنے عہد کے عظیم قوم سازوں میں سب سے ممتاز رہنما تھے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمہ گیر شخصیت تاریخ میں روشنی کے مینار سے تعبیر کئے جانے کے لائق ہے ۔ ان کی جدوجہد اور اصول پسندی نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے استقلال اور جراتمندی ان کے اوصاف میں شامل تھی جس نے انہیں اس قدر توانا کیا کہ اس دور کی سب سے بڑی سپر پاور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت نے اسلامی نظریاتی مملکت کا احساس برصغیر کے مسلمانوں میں اس طرح جاگزین کیا کہ ان کے دلائل کے سامنے کوئی ٹھہر نہ سکا۔ جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کے صحیح معنوں میں قدرکرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لئے اہم بناتے ہیں پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے قائد اعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔

قائداعظم دینداری اور راست بازی پر یقین رکھتے تھے کبھی کبھار شیریں طنزومزاح کے نشتر بھی چلاتے تھے ایک دفعہ گاندھی نے ان سے کہا: “آپ نے مسلمانوں پر مسمریزم کردیا ہے” جناح نے برجستہ جواب دیا: “جی اور آپ نے ہندوؤں پر ہپناٹزم”۔

حضرت قائد اعظم نے فرمایا “پاکستان کا آئین قرآن مجید ہوگا۔ قرآن سے بڑھ کر کوئی اور آئین نہیں ہو سکتا میں نے مسلمانوں کا سپاہی بن کر پاکستان کی یہ جنگ جیتی ہے علماء اور سیاستدان قرآن کے عین مطابق پاکستان کا آئین تیار کریں”۔

آپ ملک میں قومی زبان رائج کرنے کے لیے بھی بڑی جدوجہد کرتے رہے انہوں نے تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب اور یکساں لباس رائج کرنے کی بھی کوشش کی کہ پرائیویٹ سکولوں کے طلبہ و طالبات میکالے ازم نظام تعلیم کی بجائے سر سید ازم نظام تعلیم کو فروغ دیں ۔

9 اپریل 1930 میں نویں جماعت کے طالبعلم سید یاسر حسین جعفری اور تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما نواب بہادر یار جنگ کی ایما پر ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو ہمہ وقت چاک و چوبند اور تحریک آزادی ہندوستان میں اپنے فعال کردار دینے کے لیے اس وقت کی تنظیم پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ جو کہ 90 سال گزر جانے کے بعد آج بھی اپنے بانی صدر سید یاسر حسین جعفری کے لخت جگر سید عمار حسین جعفری کی قیادت میں اپنے عظیم قائد کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی گل حسن ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے راستے میں ایک ریلوے پھاٹک پڑھتا تھا ایک روز پھاٹک بند تھا ٹرین کے آنے میں ابھی دیر تھی میں نے گاڑی سے اتر کر پھاٹک کھلوا دیا مگر قائد اعظم نے مجھے واپس بلایا اور پھاٹک بند کرا دیا کافی دیر بعد ٹرین گزری پھاٹک کھلا اور بانی پاکستان کی گاڑی وہاں سے گزری اس زمانے میں ایسی خرافات کا تصور بھی نہ تھا کہ دس موٹر سائیکل سربراہ مملکت کی گاڑی کے آگے اور دس پیچھے ہوں۔ قائداعظم نے گل حسن سے کہا “اگر میں اپنی ہدایات اور احکامات پر خود ہی نہیں عمل کروں گا تو پھر دوسروں سے کیسے توقع کرونگا وہ میرے حکم پر عمل کریں گے”

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو کہا تھا “ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے”۔

قائداعظم کے چیف سکیورٹی آفیسر ایف وڈی ہنسوئیا پارسی تھے۔ ان کا کہنا ہے قائداعظم کو یہ بات بالکل ناپسند تھیں کہ ان کو سکیورٹی دی جائے اس لئے میں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ درختوں کے پیچھے اس طرح چھپ کر رہا کریں کہ قائداعظم کی ان پر نظر نہ پڑے۔ جب بھی ان کو کوئی سپاہی نظر آتا تو برہم ہوتے اور فرماتے میری سیکورٹی کیوں کی جا رہی ہے۔ اگر میری موت کا وقت آگیا ہے تو ہزاروں سپاہی بھی میری جان نہیں بچا سکتے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک خطاب میں فرمایا “ہمارا مقصد امیر کو امیر بنانا نہیں نہ ہی ہم دولت کے ڈھیر چند افراد کے ہاتھوں میں دینے کا عمل تیز کرنا چاہتے ہیں ہماری توجہ عوام الناس کے عمومی معیار زندگی ہموار اور مساویانہ بنانے پر مرتکز ہے ہمارا نصب العین سرمایہ دارانہ نہیں بلکہ اسلامی ہونا چاہیے اور عوامی مفادات اور بہبود مجموعی طور پر مسلسل ہمارے ذہن میں رہنی چاہیے۔

قائد اعظم کا معمول تھا گورنر ہاؤس میں غیرضروری روشنیاں گل کر دیتے اور فرماتے روپیہ ضائع کرنا گناہ ہے اور عوام کا روپیہ ضائع کرنا تو اور بھی بڑا گناہ ہے قائد اعظم کا کھانا نہایت سادہ ہوا کرتا تھا ایک مرتبہ قائد اعظم سے کسی نے کہا “آپ بڑے دیانتدار ہیں”قائداعظم نے جواب میں فرمایا یہ کوئی قابل فخر بات نہیں یہ تو ہر شریف شخص کا بنیادی وصف ہے البتہ قابل داد چیز یہ ہو سکتی ہے کہ میں کسی کو خریدتا نہیں”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں