42

کتاب کی اہمیت و ضرورت اور تحریر کی عظمت ۔۔۔۔ (قاری حافظ احمد ہاشمی)

از قلم : قاری/ حافظ احمد ھاشمی

کتاب منبعِ علم و رشد و ہدایت ہے۔ کتاب غور و فکر کو پروان چڑھاتی ہے۔ غور و فکر انسان کو حکمت و دانائی اور معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ کتاب انسان کو اطمینان، شعور ، آگہی، حِکمت اور وِجدان کے خزینے عطا کرتی ہے۔
اور حِکمت کے بارے میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے ،
يُؤتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ

اللہ جسے چاہتا ہے دانائی عطا فرما دیتا ہے، اور جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہوگئی، اور صرف وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو صاحبِ عقل و دانش ہیں۔
(الْبَقَرَة، 2 : 269)

تحریر اور کتاب کا معاشرے میں انتہائ شاندار، عمدہ اور زبردست کردار ہے۔ کتاب گویا ایک آئینے کی طرح ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے قلمکار کی عظمت کا تاثر خود بخود قائم ہوجاتا ہے۔ کتاب لکھنا معاشرے میں تبدیلی اور مثبت رجحانات میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ اور انتہائ بابرکت کام ہے۔ البتہ نئے لکھنے والوں کو یہ بات ضرور ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ تصنیف وتالیف بچوں کا کھیل ہرگز نہیں۔ تصنیف یا تالیف کے اس سفر میں قلمکار پر خود کو ہمہ جہات سے کامل بنانے کی سعی اور جدوجہد کرنا لازم ہے۔ اس کیلئے عزمِ مصمَّم، استقلال، وسیع مطالعہ، مستند کتب کے ذخیرہ تک رسائی اور دلی لگن اور لکھنے لکھانے کی تربیت کا ہونا ازحد ضروری ہے۔
لکھنے اور لکھانے کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اللہ رب العزت نے قلم کی قسم کھا کر قلم کی عظمت کو ہر زمان و مکان کیلئے مقدس اور باعثِ برکت بنایا ہے۔اسی وجہ سے تحریر، قلمکار اور کاتبین سطوت و عظمت اور مثبت یا خوشگوار نتائج کے حوالے سے ان شاءالله زندہ و جاوید رہیں گے ۔
عرب شاعر ابو حاتم بستی نے بہت خوبصورت بات کی ہے کہ
کفی قلمُ الکتابِ مَجداً وَ رِفعةً
مدی الدھرِ أنَّ اللهَ اقسمَ بالقلم

نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ
” چار اخبار ایک ہزار سنگینوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں”

امریکی میگزین “foreign policy” لکھتا ہے:
مشرق وسطیٰ میں آمر قیادت کے خلاف بیداری کی لہر ” الجزیرہ” کا کیا دھرا ہے۔اس نے عوام میں شعور اجاگر کیا۔

کتاب کا کردار
کتاب کا معاشرے میں کردار ہمیشہ ناقابلِ فراموش اور ان مٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مصر میں قاسم امین نامی مصنف کی کتاب ” تحریر المراة ” نے پوری قوم کو پردے کا مخالف بنادیا۔ اسی طرح مصر میں ہی الاخوان کے عظیم رہنما سید قطب کی “معالم فی الطريق” نامی کتاب کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

کتاب حکومت کرتی ہے
اس وقت ترقی یافتہ اقوام کی دھاک پوری دنیا پر کتاب ہی کی وجہ سے ہے۔
چنانچہ مجتبی حسین اپنے سفر نامہ ” جاپان چلو جاپان” میں لکھتے ہیں:
” پورے ایشیا میں جاپانی سب سے زیادہ پڑھاکو قوم ہے۔ اور دنیا بھر میں ان کے اشاعتی کاروبار کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے ۔ جہاں جائیں لوگ کتاب پڑھنے یا خریدنے میں مصروف ہوتے ہیں”

کتاب انسانی سوچوں کو گہرائی اور وسعت سے آشنا کرتی ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن نے ابتدا میں ہی اپنا تعارف ’’ الکتاب ‘‘ کے طور پر کروایا۔ ہمارا تو پہلا سبق ہی ’’ إقرأ ‘‘ ہے۔ بے شمار حکمتوں کے ساتھ ساتھ اس میں یہ حکمت ہے کہ کتا ب سے تعلق اور ربط پیدا کرنے کیلئے اللہ نے اپنے پاک کلام کا نام ’’ الکتاب ‘‘ رکھا۔

کتاب کے فوائد
ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور مطالعہ وغیرہ میں وقت گزارتے ہیں تو ان میں بڑھاپے یا ادھیڑ عمری میں دماغی تنزلی کی شرح ان افراد کے مقابلے میں 32 فیصد کم ہوتی ہے جو کتابوں سے دور بھاگتے ہیں۔ کتاب انسان کے اندر خود اعتمادی کو بڑھاتے ہوئے نئی منزلوں سے روشناس کرواتی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کتاب سے دوستی قوموں کی معاشی، سماجی، سائنسی اور تہذیب و ثقافت کی ترقی و تبدیلی کی ضامن ہوتی ہے۔ ارسطو جس کی کتابیں اڑھائی ہزار سال بعد بھی علم و آگہی کا سمندر ہیں۔ جو سکندر اعظم کا استاد تھا۔

سکندر اعظم نے اپنے استاد ارسطو کے بارے میں کہا تھا ’’ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا لیکن میرا استاد مجھے آسمان پر لے گیا‘‘۔

یونانی ڈرامہ نگار پوری ہیڈس نے لکھا ’’جو نوجوان مطالعہ سے گریز کرے وہ ماضی سے بے خبر اور مستقبل کیلئے مردہ ہوتا ہے‘‘۔

ارسطو اور افلاطون کے نظریات، مسلمان حکمرانوں اور بادشاہوں کے عدل و انصاف پر مبنی طرز حکومت کے قصے،اولیاء ، صلحاء اور صادقین کی زندگیوں کے خوبصورت واقعات کتابوں کے ذریعے ہی ہم تک پہنچے۔

کتاب پڑھنے والے باشعور اور مہذب قوموں کے باشندے ہوتے ہیں۔ کتاب کی شان یہ بھی ہے کہ یہ ہر شک کو دور کر دیتی ہے اور یقین کی قوت سے مالا مال کر دیتی ہے۔

کتاب لکھنا کب شروع کیا گیا
کتاب کی ابتداء قریباً انسان کی پیدائش سے ہی ہوگئ تھی۔ کاغذ کی ایجاد سے پہلے انسان نے ہاتھی ، دانت، درختوں کی چھالوں‘ پَتوں‘ چٹانوں اور جانوروں کی ہڈیوں پر لکھنا شروع کیا۔ کچھ مؤرخین کے مطابق دنیا کی پہلی کتاب ’’الاموات ‘‘ ہے۔

اسلامی تاریخ میں کتاب کی قدر ومنزلت
تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے کتاب سے دوستی رکھی وہ زندگی کے ہر میدان میں ترقی اور عروج کی منازل طے کرتی گئیں۔ جیسے ہی کتاب و علم سے ناطہ ٹوٹا پستی اور ذلت نے گھیر لیا۔ خلفائے راشدین اور اولیائے کرام کتاب کے قدردان رہے۔ خلیجی ، تغلق ، سادات ، لودھی اور مغل سلاطین علم کے قدر دان رہے۔ ساتویں سے تیرھویں صدی تک بغداد علم و ادب کا گہوارہ رہا۔ غرناطہ ، قرطبہ ، سپین اور بغداد دنیا کے عظیم تاریخی اور علمی سرمایہ تصور ہوتے ہیں۔

وہ علم کے موتی اور کتابیں اپنے آباء کی
سقوطِ بغداد کے بعد مسلمانوں کے عظیم کتب خانوں کو دریا برد کیا گیا۔ 1857 ء میں جب مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا تو انگریزوں نے لال قلعے کی شاہی لائبریری سے ہزاروں کتابیں لندن پہنچا دیں۔ اغیار نے مسلمانوں کی میراث کتاب کو کبھی جلایا ، کبھی سمندر برد کیا تو کبھی اسے لوٹ لیا۔ آج بھی لندن اور پیرس کی لائبریریوں میں مسلمانوں کی ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ اس کربناک صورتحال کا ذکر علامہ محمد اقبالؒ نے کچھ اس طرح سے کیا کہ ۔

تجھے آباء سے اپنے نسبت ہو نہیں سکتی

تو گفتار وہ کردار ، توثابت وہ سیارہ

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

وہ علم کے موتی اور کتابیں اپنے آباء کی

جو یورپ میں دیکھیں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

امریکہ ، جاپان ، چین ، لندن، پیرس ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، اٹلی اور فرانس ایسے ممالک ہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ دنیا میں اٹھائیس سے زیادہ ممالک ہیں جہاں کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ ان ممالک میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں۔ علم و ادب سے دوری نے مسلمانوں سے وقار اور تاج و تخت چھین لیے۔

اگر ہم وطن عزیز کی بات کریں تو انتہائی افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے۔
حالانکہ ترقی یافتہ قومیں کتاب کے تخلیق کار ، مفکر ، دانشور ، شاعر ، مصنف ، استاد اور ادیبوں کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 72 فیصد عوام کتاب سے دوری اور 27فیصد کتب بینی کے شوقین ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

کتاب سے دوری کی وجوہات
کتاب سے دوری کی بنیادی وجوہات میں سے ایک کتاب کی اہمیت اور افادیت سے نا آشنائی ہے۔ پاکستان میں کم شرح خواندگی اس کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان دشمن عناصر نے عوام کو علم و شعور سے دور رکھا۔ تعلیم پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت کی عدمِ سرپرستی بھی ہے۔ مُقتدِر اور حکمران طبقہ کی ترجیحات میں عوام کبھی شامل رہے ہی نہیں۔ غربت ، بے روزگاری ، مہنگائی ، اقتصادی پسماندگی میں عوام اتنا الجھ کر رہ گئی کہ علم و ادب سے دور ہوتی گئی۔ جس سے صارفین کی قوت خرید میں شدید کمی ہوئی۔

کتب بینی سے دوری کی ایک بنیادی وجہ انٹرنیٹ ، ویب سائٹس ، سافٹ ویئرز ، فری ڈائون لوڈنگ ، الیکٹرانک میڈیا ، یوٹیوب ، گوگل اور وکی پیڈیا وغیرہ کا زیادہ استعمال بھی ہے۔ عوام کی اکثریت ہاتھوں میں کتاب کی بجائے موبائل دیکھنا پسند کرتی ہے۔ جس کہ وجہ سے لوگوں کا رجحان بدل چکا ہے۔ ہمارا ناقص تعلیمی نظام بھی طلباء اور طالبات میں کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

وطن میں دہشت گردی ، سیاسی عدم استحکام ، انتہا پسندی اور خوف کی گرفت نے بھی عوام کو کتب بینی سے دور کر دیا ہے۔ معیاری کتابیں لکھنے والے مصنف ، شاعر اور مفکر ، ادیب اور دانشور اپنی کتابیں دوستوں میں مفت بانٹنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ مصلحت پسندی، اعزازات کی بندر بانٹ ، چاپلوسی، غیر ملکی دوروں کی ہوس ، راتوں رات امیر ہونے کی ڈاکٹرائن کا دور دورہ ہے۔ مقتدِر طبقہ کی چاپلوسی اور مفاد پرستی میں لکھنے والوں کو نوازا جاتا ہے جس کی وجہ سے کتاب اور ادب پر نزع کا عالم طاری ہے۔

کتاب سے دوری کی وجہ ادبی تنظیموں پر مفاد پرست افراد کا قبضہ بھی ہے، جہاں اپنی پسند کے لکھاریوں کو نوازا جاتا ہے جبکہ بہترین ادب کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ واہیات، فضول اور بے معنی مواد رکھنے والی کتابوں کی تقریب رونمایاں ہوتی ہیں اور اصل ادب کا استحصال ہو رہا ہے۔

کتاب کے فروغ کیلئے اقدامات کی ضرورت
پاکستان میں لائبریریاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لائبریریوں کی کمی بھی کتب بینی سے دوری کا ایک سبب ہے۔ لائبریوں کے قیام اور فروغ کیلئے حکومتی و نجی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں زیادہ کتابیں شاعری کی شائع ہوتی ہیں۔ جبکہ اخلاق، تزکیہ، حسنِ معاشرت، حکمت و موعظت، نفسیات ، تصوف اور سائنس جیسے موضوعات پر بہت کم کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ ان بنیادی وجوہات کو دور کرنے کیلئے حکومتی اور نجی سطح پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہمارے لئے پستی اور ذلت سے نکلنے کا واحد راستہ علم سے محبت میں ہے۔ اور علم کے حصول کا بہترین ذریعہ کتاب ہے۔
آج ہمیں من حیث القوم کتاب سے سچی دوستی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں